اردو رپورٹ ڈیسک
پاکستان میں غربت اور معاشی عدم مساوات میں اضافے کا انکشاف ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کی پاکستان سے متعلق سالانہ رپورٹ 2025 کے مطابق ملک میں غربت کی شرح 2018-19 کے 21.9 فیصد سے بڑھ کر مالی سال 2024-25 میں 28.9 فیصد ہوگئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق معاشی دباؤ، مہنگائی، موسمیاتی آفات اور مسلسل معاشی مشکلات نے عام شہریوں کی زندگیوں کو متاثر کیا ہے۔ اگرچہ 2025 کے دوران ملکی معیشت میں استحکام کے بعض آثار سامنے آئے، تاہم اس کے فوائد تمام طبقات تک یکساں طور پر نہیں پہنچ سکے۔
یہ اعداد و شمار حکومت پاکستان کے منصوبہ بندی کمیشن کی مالی سال 2024-25 کے لیے غربت کے تخمینے سے متعلق ابتدائی رپورٹ پر مبنی ہیں۔ اقوام متحدہ نے اپنی سالانہ رپورٹ میں اسی تخمینے کو شامل کیا ہے۔
دنیا کے 193 ممالک میں سے پاکستان 168ویں جبکہ افغانستان 181ویں نمبر پر ہے۔
غربت کی شرح میں نمایاں اضافہ
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں غربت میں اضافے کے بعد کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے تعلیم، صحت اور بنیادی ضروریات پوری کرنا مزید مشکل ہوگیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غربت میں اضافے کے ساتھ آمدنی کی تقسیم میں عدم مساوات بھی بڑھی ہے۔ اس صورت حال نے کمزور معاشی حیثیت رکھنے والے خاندانوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔
عالمی بینک کی پاکستان سے متعلق تازہ معلومات کے مطابق مالی سال 2024-25 میں غربت کی شرح تقریباً 29 فیصد اور غربت سے متاثرہ افراد کی تعداد لگ بھگ 7 کروڑ بتائی گئی ہے۔
دیہی علاقوں میں غربت کی شرح 36.2 فیصد
رپورٹ کے مطابق شہری علاقوں کے مقابلے میں دیہی علاقوں میں غربت زیادہ ہے۔ دیہی آبادی میں غربت کی شرح 36.2 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جبکہ بلوچستان میں یہ شرح تقریباً 47 فیصد بتائی گئی ہے۔
رپورٹ میں وضاحت کی گئی ہے کہ دیہی اور موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثرہ علاقوں میں لوگوں کا روزگار بڑی حد تک زراعت، غیر رسمی مزدوری اور محدود مقامی منڈیوں سے وابستہ ہے۔ ان شعبوں میں مشکلات پیدا ہونے سے خاندانوں کی آمدنی اور معاشی تحفظ متاثر ہوتا ہے۔
آمدنی میں عدم مساوات بڑھ گئی
اقوام متحدہ کے مطابق پاکستان میں آمدنی کی تقسیم میں فرق بڑھا ہے۔ آمدنی میں عدم مساوات ناپنے والا جینی عدد تقریباً 32.7 تک پہنچ گیا ہے۔
اس صورت حال سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاشی ترقی کے فوائد تمام طبقات میں یکساں طور پر تقسیم نہیں ہو رہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غربت میں اضافے سے خاندانوں کی مستقبل کے معاشی جھٹکوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کمزور ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ بچوں کی تعلیم، صحت اور بہتر مواقع پر سرمایہ کاری بھی متاثر ہوتی ہے۔
خوراک کی کمی کا شکار خاندان بڑھ گئے
پاکستان ادارۂ شماریات کے گھریلو مربوط معاشی جائزے 2024-25 کے اعداد و شمار کے مطابق خوراک کی کمی کا سامنا کرنے والے گھرانوں کی شرح 2018-19 کے 15.92 فیصد سے بڑھ کر 24.35 فیصد ہوگئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق دیہی علاقوں میں 26.72 فیصد گھرانے خوراک کی کمی سے متاثر ہیں، جبکہ شہری علاقوں میں یہ شرح 20.58 فیصد ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق کم آمدنی والے خاندان اپنی آمدنی کا بڑا حصہ خوراک پر خرچ کرتے ہیں۔ اس لیے اشیائے خورونوش کی مہنگائی اور قوت خرید میں کمی ان خاندانوں کو زیادہ متاثر کرتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خوراک کی مسلسل کمی صرف بھوک تک محدود مسئلہ نہیں بلکہ اس کے اثرات غذائیت، صحت، بچوں کی تعلیم اور طویل مدت میں کام کرنے کی صلاحیت پر بھی پڑتے ہیں۔
54 فیصد بچوں کی نشوونما متاثر ہونے کا خدشہ
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تقریباً 54 فیصد بچوں کو نشوونما کے نامناسب نتائج کا خطرہ لاحق ہے۔
رپورٹ میں خوراک کی کمی اور غذائیت کے مسائل کو بچوں کی صحت اور مستقبل کی صلاحیتوں کے لیے اہم چیلنج قرار دیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق ان مسائل سے نمٹنے کے لیے سماجی تحفظ کے پروگراموں، خوراک کی فراہمی، موسمیاتی تبدیلیوں سے تحفظ اور روزگار کے مواقع میں بہتری کے درمیان مضبوط رابطہ ضروری ہے۔
انسانی ترقی کے اشاریے میں پاکستان کی درجہ بندی
اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کی انسانی ترقی سے متعلق 2025 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان انسانی ترقی کے کم درجے والے ممالک کے گروپ میں شامل ہے۔
اقوام متحدہ کی سالانہ رپورٹ میں پاکستان کی انسانی ترقی کا اشاریہ 0.544 اور 193 ممالک میں درجہ بندی 168ویں بتائی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق جب انسانی ترقی کے اشاریے میں آمدنی کی عدم مساوات کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے تو پاکستان کا اشاریہ 33.1 فیصد کم ہوکر 0.364 رہ جاتا ہے۔
کثیرالجہتی غربت کا اشاریہ 0.198 رہا۔ اس پیمانے میں آمدنی کے علاوہ تعلیم، صحت اور معیار زندگی سے متعلق محرومیوں کو بھی شامل کیا جاتا ہے۔
اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے کثیرالجہتی غربت اشاریے 2025 کے مطابق پاکستان کی 38.3 فیصد آبادی، یعنی 2023 کی آبادی کے حساب سے تقریباً 9 کروڑ 48 لاکھ 74 ہزار افراد، کثیرالجہتی غربت کا شکار تھے۔
تاہم اس اعداد و شمار کی بنیاد 2017-18 کے گھریلو سروے پر ہے، اس لیے اسے 2025 یا 2026 میں غربت کی شرح کا براہ راست تخمینہ نہیں سمجھنا چاہیے۔
معاشی استحکام کے باوجود عام خاندانوں کو ریلیف نہ مل سکا
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق 2025 میں پاکستان کی معیشت نے استحکام کی جانب پیش رفت کی۔ مالی سال 2024-25 میں حقیقی مجموعی قومی پیداوار کی شرح نمو تقریباً 2.7 فیصد رہی، جبکہ مہنگائی گزشتہ سال کے 23.4 فیصد کے مقابلے میں کم ہوکر تقریباً 4.5 فیصد ہوگئی۔
رپورٹ کے مطابق جاری کھاتے میں معمولی فاضل رقم ریکارڈ ہوئی اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی اضافہ ہوا۔ تاہم ان معاشی بہتریوں کے باوجود غربت اور عدم مساوات میں اضافے نے عام خاندانوں کی مشکلات کو نمایاں کیا۔
اقوام متحدہ نے زور دیا ہے کہ صرف معاشی استحکام کافی نہیں بلکہ اس کے فوائد کم آمدنی والے اور کمزور طبقات تک پہنچانا بھی ضروری ہے۔
غربت میں کمی کے لیے روزگار اور بنیادی سہولتوں پر توجہ ضروری
رپورٹ کے مطابق پاکستان کے لیے بنیادی چیلنج یہ ہے کہ معاشی استحکام کو عام شہریوں کی آمدنی، بنیادی سہولتوں اور روزگار کے بہتر مواقع میں اضافے میں تبدیل کیا جائے۔
اقوام متحدہ نے تعلیم، صحت، سماجی تحفظ، روزگار کے مواقع، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے اور کمزور طبقات کے معاشی تحفظ کو غربت میں کمی کے لیے اہم قرار دیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دیہی علاقوں اور موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثرہ آبادی کے لیے ایسے اقدامات ضروری ہیں جو خاندانوں کو معاشی مشکلات کا مقابلہ کرنے کے قابل بنائیں۔
ذرائع اور رپورٹس
- اقوام متحدہ پاکستان، سالانہ رپورٹ 2025:
https://pakistan.un.org/sites/default/files/2026-05/OneUNReport2025.pdf - عالمی بینک، پاکستان میں غربت، مساوات اور معاشی تحفظ سے متعلق رپورٹ:
https://www.worldbank.org/en/news/press-release/2025/09/22/pakistan-bold-sustained-people-centered-reforms-needed-to-reduce-poverty-build-resilience-and-protect-vulnerable-populat - اقوام متحدہ کا ترقیاتی پروگرام، کثیرالجہتی غربت اشاریہ 2025:
https://hdr.undp.org/sites/default/files/Country-Profiles/MPI2025/PAK.pdf


