اردو رپورٹ ڈیسک
سردیوں میں موسم سرد ہونے کے باعث بہت سے لوگ زیادہ وقت گھروں کے اندر گزارتے ہیں۔ ایسے میں سورج کی روشنی سے محرومی جسم میں وٹامن ڈی کی پیداوار کو متاثر کر سکتی ہے، جو ہڈیوں اور پٹھوں کی صحت کے لیے اہم ہے۔
وٹامن ڈی کو عام طور پر دھوپ کا وٹامن کہا جاتا ہے، کیونکہ جسم سورج کی روشنی کی مدد سے اسے بناتا ہے۔ اس وٹامن کی کمی کی صورت میں بعض افراد کو تھکاوٹ، پٹھوں کی کمزوری اور ہڈیوں میں درد جیسی شکایات ہو سکتی ہیں۔
تاہم، اگر دھوپ میں وقت گزارنے کا موقع کم ملے تو بعض غذاؤں کے ذریعے بھی وٹامن ڈی حاصل کیا جا سکتا ہے۔
وٹامن ڈی حاصل کرنے والی 4 اہم غذائیں
انڈے کی زردی
انڈے کی زردی وٹامن ڈی حاصل کرنے کا ایک آسان غذائی ذریعہ ہے۔ اس میں وٹامن ڈی کے علاوہ کئی دوسرے اہم غذائی اجزا بھی پائے جاتے ہیں۔
ناشتے میں اُبلا ہوا انڈا کھانے سے روزمرہ خوراک میں وٹامن ڈی شامل کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، انڈے کی زردی میں اس وٹامن کی مقدار محدود ہوتی ہے، اس لیے صرف انڈے کھانے سے ہر شخص کی روزانہ ضرورت پوری ہونا ضروری نہیں۔
مشروم
مشروم یا کھمبیاں ان افراد کے لیے مفید انتخاب ہو سکتی ہیں جو گوشت نہیں کھاتے۔ بعض اقسام کی کھمبیاں سورج کی روشنی کے سامنے آنے پر وٹامن ڈی کی ایک قسم پیدا کرتی ہیں۔
تاہم، تمام کھمبیوں میں وٹامن ڈی کی مقدار یکساں نہیں ہوتی۔ اس لیے ایسی اقسام کا انتخاب بہتر ہے جن کے بارے میں واضح ہو کہ ان میں وٹامن ڈی زیادہ مقدار میں موجود ہے۔
مشروم کو سالن، سوپ یا دیگر کھانوں میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح اسے متوازن غذا کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔
چربی والی مچھلی
سالمن، سارڈین اور میکریل جیسی چربی والی مچھلیاں وٹامن ڈی کے اہم غذائی ذرائع میں شامل ہیں۔ پاکستان میں دستیاب مچھلیوں کی بعض اقسام بھی یہ وٹامن فراہم کر سکتی ہیں، تاہم اس کی مقدار مچھلی کی قسم کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے۔
مچھلی پروٹین کا بھی اچھا ذریعہ ہے، جبکہ بعض اقسام میں اومیگا تھری چکنائی بھی پائی جاتی ہے۔ ہفتہ وار خوراک میں مچھلی شامل کرنا وٹامن ڈی کے حصول میں مدد دے سکتا ہے۔
وٹامن ڈی سے افزودہ جوس
سنگترے اور دیگر ترش پھل وٹامن سی کے اہم ذرائع ہیں، لیکن عام سنگترے کے جوس میں لازماً وٹامن ڈی موجود نہیں ہوتا۔
بازار میں بعض ایسے جوس دستیاب ہوتے ہیں جن میں وٹامن ڈی خاص طور پر شامل کیا جاتا ہے۔ انہیں وٹامن ڈی سے افزودہ جوس کہا جاتا ہے۔
ایسا جوس خریدتے وقت اس کے ڈبے پر درج غذائی معلومات ضرور دیکھیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ اس میں وٹامن ڈی شامل ہے یا نہیں اور اس کی مقدار کتنی ہے۔
وٹامن ڈی کے لیے دھوپ کتنی ضروری ہے؟
سورج کی روشنی جسم میں وٹامن ڈی پیدا کرنے کا قدرتی ذریعہ ہے، تاہم ہر شخص کے لیے دھوپ میں گزارنے کا ایک ہی دورانیہ مقرر نہیں کیا جا سکتا۔ اس کا انحصار موسم، جغرافیائی مقام، جلد کی رنگت، لباس اور دیگر عوامل پر ہوتا ہے۔
سردیوں میں جب دھوپ دستیاب ہو تو مناسب احتیاط کے ساتھ باہر وقت گزارنا فائدہ مند ہو سکتا ہے۔ تاہم، شیشے کی کھڑکی کے پیچھے بیٹھنے سے وٹامن ڈی بنانے کے لیے درکار بالائے بنفشی شعاعیں مناسب مقدار میں جسم تک نہیں پہنچتیں۔
وٹامن ڈی کی کمی کی علامات کیا ہیں؟
وٹامن ڈی کی کمی بعض افراد میں ہڈیوں کے درد، پٹھوں کی کمزوری اور تھکاوٹ کا سبب بن سکتی ہے۔ تاہم، یہ علامات دیگر وجوہات سے بھی پیدا ہو سکتی ہیں، اس لیے صرف علامات کی بنیاد پر وٹامن ڈی کی کمی کی تشخیص نہیں کی جا سکتی۔
اگر مسلسل تھکاوٹ، ہڈیوں میں درد یا پٹھوں کی کمزوری محسوس ہو تو ڈاکٹر سے مشورہ کرنا بہتر ہے۔ ضرورت پڑنے پر خون کے ٹیسٹ کے ذریعے جسم میں وٹامن ڈی کی سطح معلوم کی جا سکتی ہے۔
وٹامن ڈی کے سپلیمنٹ لینے میں احتیاط
اگر جسم میں وٹامن ڈی کی کمی کی تصدیق ہو جائے تو ڈاکٹر عمر، ٹیسٹ کے نتائج اور صحت کی کیفیت کے مطابق سپلیمنٹ تجویز کر سکتا ہے۔
اپنی مرضی سے وٹامن ڈی کی زیادہ مقدار استعمال کرنا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ اس وٹامن کی زیادتی خون میں کیلشیم کی مقدار بڑھا سکتی ہے، جس سے گردوں سمیت دیگر اعضا متاثر ہو سکتے ہیں۔
سردیوں میں وٹامن ڈی کی مناسب مقدار برقرار رکھنے کے لیے متوازن غذا، دستیاب دھوپ اور ضرورت کے مطابق طبی مشورہ اہم ہیں۔ انڈے کی زردی، مچھلی، مناسب اقسام کی مشروم اور وٹامن ڈی سے افزودہ غذائیں اس مقصد میں مدد دے سکتی ہیں، لیکن اگر کمی زیادہ ہو تو صرف غذا کافی ثابت نہیں ہوتی۔


