اردو رپورٹ ڈیسک
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے امریکی شہریوں کو جعلی ڈاک ٹکٹ فروخت کرنے کے مبینہ اسکینڈل کے مرکزی ملزم فہیم اکرم کو لاہور سے گرفتار کرلیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق اس اسکیم سے امریکی ڈاک سروس کو 126 ملین ڈالر سے زائد کا نقصان پہنچا۔
ملزم کی گرفتاری کے لیے امریکی حکومت نے ایک لاکھ ڈالر انعام مقرر کر رکھا تھا۔ این سی سی آئی اے نے جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل نگرانی اور مختلف مقامات پر چھاپوں کے بعد ملزم کا سراغ لگایا۔
جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ملزم کا سراغ
این سی سی آئی اے حکام کے مطابق تفتیشی ٹیموں نے ملزم تک پہنچنے کے لیے 122 کال ڈیٹا ریکارڈز، 50 آئی ایم ای آئی ٹریکنگ رپورٹس اور 120 کیمروں کی ویڈیو و آڈیو ریکارڈنگ کا تجزیہ کیا۔
حکام کے مطابق ملزم کی نقل و حرکت کا پتا لگانے کے لیے 10 روز تک خصوصی کارروائی جاری رہی۔ اس دوران 35 مقامات پر چھاپے مارے گئے اور 47 افراد سے پوچھ گچھ کی گئی۔
حکام نے گرفتاری کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اہم کامیابی قرار دیا ہے۔
امریکی ڈاک سروس کو 126 ملین ڈالر سے زائد نقصان کا الزام
امریکی محکمہ انصاف کے مطابق فہیم اکرم پر جعلی ڈاک ٹکٹوں کی فروخت کے ذریعے فراڈ کرنے کا الزام ہے، جس کے نتیجے میں امریکی ڈاک سروس کو 126 ملین ڈالر سے زیادہ کا نقصان پہنچا۔
امریکی محکمہ انصاف نے اس سے قبل سماجی رابطوں کے ذریعے جاری بیان میں بتایا تھا کہ ملزم کی ویب سائٹ بند کردی گئی ہے، تاہم اس کی تلاش جاری تھی۔
امریکی حکام نے ملزم کی گرفتاری میں مدد دینے والی معلومات فراہم کرنے پر ایک لاکھ ڈالر انعام دینے کا اعلان بھی کیا تھا۔
50 لاکھ سے زائد جعلی ڈاک ٹکٹ فروخت کرنے کا الزام
تحقیقات کے مطابق فہیم اکرم نے 2023 سے 2026 کے دوران ایک ویب سائٹ کے ذریعے 50 لاکھ سے زائد جعلی امریکی ڈاک ٹکٹ فروخت کیے۔
حکام کے مطابق ہر ڈاک ٹکٹ دو امریکی ڈالر میں فروخت کیا جاتا تھا۔ مبینہ مالی فراڈ کے لیے 16 بینک اکاؤنٹس استعمال کیے گئے۔
تحقیقات میں بتایا گیا کہ ان اکاؤنٹس میں ملزم کے اپنے اکاؤنٹس کے علاوہ اس کے بھائی، اہلیہ، بہن اور خالہ کے اکاؤنٹس بھی شامل تھے۔ ان اکاؤنٹس کے ذریعے ہونے والی مالی لین دین کی مزید جانچ کی جارہی ہے۔
مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل
این سی سی آئی اے لاہور زون کے ایڈیشنل ڈائریکٹر عاطف امیر نے کیس کی جامع تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی ہے۔
ٹیم جعلی ڈاک ٹکٹوں کی مبینہ فروخت، مالی لین دین اور اس نیٹ ورک سے منسلک دیگر افراد کے کردار کا جائزہ لے گی۔
تحقیقات کے دوران مالی رقوم کی منتقلی کا سراغ لگانے اور مبینہ اسکیم میں شریک دیگر افراد کی نشاندہی پر بھی توجہ دی جائے گی۔
ملزم کے خلاف عائد الزامات کی قانونی حیثیت کا حتمی تعین تحقیقات اور عدالتی کارروائی کے بعد ہوگا۔

