اردوEnglish
منگل, 20 اکتوبر 2026
  • Home  
  • اسلام آباد ماڈل جیل افتتاح کے قریب، کشمیر ہائی وے سے ملانے والی سڑک موجود نہیں
- پاکستان

اسلام آباد ماڈل جیل افتتاح کے قریب، کشمیر ہائی وے سے ملانے والی سڑک موجود نہیں

اسلام آباد ماڈل جیل کے افتتاح سے قبل وزیراعظم انسپکشن کمیشن نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی سے سیکٹر ایچ 16 کو کشمیر ہائی وے سے ملانے کے لیے عارضی سڑک بنانے کی درخواست کر دی ہے۔

اردو رپورٹ ڈیسک

اسلام آباد میں نئی ماڈل جیل کے افتتاح کی تیاریوں کے دوران اس تک رسائی کے لیے سڑک کی عدم دستیابی کا مسئلہ سامنے آ گیا ہے۔ وزیراعظم انسپکشن کمیشن نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) سے سیکٹر ایچ 16 میں واقع اسلام آباد ماڈل جیل کو کشمیر ہائی وے سے ملانے کے لیے عارضی سڑک بنانے کا انتظام کرنے کو کہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کمیشن نے عارضی رابطہ سڑک سے متعلق پہلے پیش کی گئی تجویز دوبارہ بحال کرنے کی درخواست کی ہے، کیونکہ مجوزہ انٹرچینج کی تعمیر متعلقہ سرکاری ترقیاتی پروگرام کے تحت تاحال شروع نہیں ہو سکی۔

عارضی سڑک کا مقصد افتتاحی تقریب کے موقع پر سرکاری گاڑیوں، جیل آنے والے افراد اور دیگر مسافروں کو آمدورفت میں سہولت فراہم کرنا اور ٹریفک کی بھیڑ سے بچنا ہے۔ این ایچ اے سے کہا گیا ہے کہ وہ سڑک کے رابطے سے متعلق اپنی سابقہ تجویز دوبارہ پیش کرے۔

انٹرچینج کی منظوری کے باوجود رابطہ سڑک زیر التوا

جیل تک رسائی کا مسئلہ کئی سال پرانا ہے۔ اطلاعات کے مطابق مئی 2016 میں این ایچ اے نے جیل کو کشمیر ہائی وے سے ملانے کے لیے ایسا انٹرچینج بنانے کی منظوری دی تھی جہاں ٹریفک سگنل کے بغیر آمدورفت ممکن ہو۔

اپریل 2018 میں وزارت داخلہ نے این ایچ اے کو انٹرچینج فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ اس کے دو ماہ بعد کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کو بھی مبینہ طور پر کہا گیا کہ مستقل انٹرچینج کی تعمیر مکمل ہونے تک عارضی رابطہ سڑک بنائی جائے۔

اس وقت جیل کی جگہ تک کھیتوں کے درمیان سے گزرنے والے کچے راستے کے ذریعے پہنچا جا سکتا تھا۔ زمین کا قبضہ حاصل کرنے اور معاوضے کی ادائیگی سے متعلق مسائل نے بھی مجوزہ بنیادی ڈھانچے کے منصوبے کو متاثر کیا۔

تاہم، ان سابقہ فیصلوں کے باوجود جیل کے افتتاح کے قریب آنے پر بھی سڑک کا رابطہ ایک اہم مسئلہ بنا ہوا ہے۔

منصوبے کی تکمیل میں بار بار تاخیر

اسلام آباد ماڈل جیل کا منصوبہ کئی مرتبہ تاخیر کا شکار ہوا۔ جولائی 2024 میں وفاقی حکومت نے تعمیراتی کام تیز کرنے کے لیے اقدامات کیے تھے، جبکہ سی ڈی اے سے توقع کی جا رہی تھی کہ وہ اس وقت کے محکمہ تعمیرات عامہ سے منصوبے پر عمل درآمد کی ذمہ داری سنبھالے گی۔

ستمبر اور اکتوبر 2026 میں شائع ہونے والی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق حکومت نے جیل کا افتتاح اکتوبر میں کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، جبکہ منصوبے کا پہلا مرحلہ مکمل ہونے کی اطلاع دی گئی تھی۔

پہلے مرحلے میں قیدیوں کے لیے تین بیرکیں شامل ہیں، جن میں تقریباً 1,500 قیدیوں کی گنجائش ہے۔ اس کے علاوہ 35 بستروں پر مشتمل اسپتال اور دیگر سہولتیں بھی منصوبے کا حصہ ہیں۔

جیل کا مقصد اسلام آباد کے قیدیوں کو رکھنے کے لیے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل پر انحصار کم کرنا ہے۔

مستقل انٹرچینج تک عارضی حل کی کوشش

عارضی رابطہ سڑک کی تجویز کا مقصد فوری طور پر جیل تک آمدورفت کا مسئلہ حل کرنا ہے، جبکہ مستقل انٹرچینج کی تعمیر تاحال زیر التوا ہے جس کے لیے بھی جلد اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ جیل کے افتتاح سے پہلے سڑک کا انتظام نہ ہونے کی وجہ سے رسائی اور ٹریفک کی روانی سے متعلق خدشات برقرار ہیں۔

urdureport.com@2025. All Rights Reserved

Your license hasn’t been activated yet. Activate it now!