اردوEnglish
منگل, 20 اکتوبر 2026
  • Home  
  • حکومت کا الیکٹرک گاڑیوں پر 18 فیصد ٹیکس لگانے کی آئی ایم ایف تجویز مسترد کرنے کا فیصلہ
- کار پرائس

حکومت کا الیکٹرک گاڑیوں پر 18 فیصد ٹیکس لگانے کی آئی ایم ایف تجویز مسترد کرنے کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے نئی آٹو پالیسی 2026-31 کے تحت الیکٹرک گاڑیوں پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کی عالمی مالیاتی فنڈ کی تجویز مسترد کر دی ہے، جبکہ بعض درآمدی برقی گاڑیوں پر کسٹم ڈیوٹی مرحلہ وار کم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

اردو رپورٹ ڈیسک

وفاقی حکومت نے نئی آٹو پالیسی 2026-31 کے تحت الیکٹرک گاڑیوں پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کی عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی تجویز مسترد کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت بعض شرائط پر پورا اترنے والی درآمدی الیکٹرک گاڑیوں پر کسٹم ڈیوٹی مرحلہ وار کم کرنے کا بھی ارادہ رکھتی ہے۔

مجوزہ پالیسی کے تحت 75 ہزار ڈالر تک قیمت والی اہل الیکٹرک گاڑیوں پر کسٹم ڈیوٹی ابتدائی طور پر 50 فیصد سے کم کرکے 25 فیصد کی جائے گی۔ اس کے بعد مالی سال 2030-31 تک اسے مزید کم کرکے 15 فیصد کرنے کا منصوبہ ہے۔

متبادل توانائی کی گاڑیوں پر مختلف شرحوں سے ٹیکس

مجوزہ پالیسی میں دیگر اقسام کی گاڑیوں کے لیے مختلف سیلز ٹیکس شرحیں بھی تجویز کی گئی ہیں۔ رینج ایکسٹینڈڈ الیکٹرک گاڑیوں پر 6 فیصد جبکہ پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیوں پر 9 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کی تجویز شامل ہے۔

متبادل توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کی دیگر اقسام پر بھی مختلف ٹیکس شرحیں زیر غور ہیں۔

وزیراعظم نے نئی آٹو پالیسی کے مسودے کی منظوری دے دی

رپورٹ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے منگل کو آٹو پالیسی 2026-31 کے مسودے کی منظوری دے دی۔ چھ سالہ پالیسی فریم ورک کا مقصد گاڑیوں پر ٹیکسوں میں تبدیلی، خصوصاً اہل الیکٹرک گاڑیوں کی درآمدی ڈیوٹی میں کمی کے ذریعے برقی نقل و حرکت کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

ذرائع کے مطابق کسٹم ڈیوٹی میں کمی پالیسی کی مدت کے دوران مرحلہ وار نافذ کی جائے گی۔

urdureport.com@2025. All Rights Reserved

Your license hasn’t been activated yet. Activate it now!