اردو رپورٹ ڈیسک
سپریم کورٹ کے جسٹس عقیل عباسی نے کہا ہے کہ ملک میں ایک شخص کے خلاف مختلف صوبوں میں 100 سے زائد مقدمات درج ہوجاتے ہیں، جس سے قانونی نظام کا مذاق بنتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتنے مقدمات درج کردیے جاتے ہیں کہ متعلقہ شخص اپنی پوری زندگی عدالتوں کے چکر لگاتا رہے۔
جسٹس عقیل عباسی نے یہ ریمارکس 22 اکتوبر 2026 کو سابق رکن قومی اسمبلی جمشید دستی کی ضمانت کی درخواست کی سماعت کے دوران دیے۔
جسٹس ملک شہزاد احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی اور جمشید دستی کی ضمانت میں 4 نومبر تک توسیع کردی۔ عدالت نے وفاقی حکومت اور تمام صوبائی حکومتوں کو جمشید دستی کے خلاف درج مقدمات کا مکمل ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت بھی کی۔
مقدمات کی بھرمار پر جسٹس عقیل عباسی کے ریمارکس
جسٹس عقیل عباسی نے کہا کہ ایک شخص کے خلاف اتنے مقدمات درج کردیے جاتے ہیں کہ وہ ساری زندگی ان کا سامنا کرتا رہے۔ ایسی حرکات پر لوگ ہنستے ہیں اور ہم خود اپنے نظام کا مذاق بناتے ہیں۔
انہوں نے بھینس چوری جیسے معاملات میں مقدمات درج ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا میں ہماری عدالتوں کی درجہ بندی 136ویں نمبر پر ہے۔
انفیکشن پھیلانے کے مقدمے پر بھی سوال
جسٹس عقیل عباسی نے جمشید دستی کے خلاف انفیکشن پھیلانے کے الزام میں درج مقدمے کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ کیا جمشید دستی بیماریوں کو پھیلاتے ہیں؟
انہوں نے کہا کہ ایک شخص کے خلاف اس نوعیت کے متعدد مقدمات کا اندراج نظام انصاف کی ساکھ پر سوالات اٹھاتا ہے۔
اقتدار اور اپوزیشن میں سیاست دانوں کے رویے پر تنقید
جسٹس ملک شہزاد احمد نے کہا کہ جمشید دستی رکن پارلیمنٹ رہ چکے ہیں اور ان کے لیے قابل احترام ہیں۔
انہوں نے سیاست دانوں کے طرز عمل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اقتدار میں ہوتے ہیں تو مخالفین کی گرفتاری پر خوش ہوتے ہیں، لیکن اپوزیشن میں آکر عدالتوں کی طرف بھاگتے ہیں۔
جمشید دستی کا عوام کے لیے آواز اٹھانے کا مؤقف
سماعت کے دوران جمشید دستی نے عدالت کو بتایا کہ ان کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہے اور انہوں نے عوام کے لیے جدوجہد کی اور ان کے حق میں آواز اٹھائی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی اپنی جماعت نے انہیں اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا تھا۔
اس پر جسٹس ملک شہزاد احمد نے ریمارکس دیے کہ جمشید دستی کے خلاف مقدمات دیکھ کر بھی لگتا ہے کہ وہ جہادی ہیں۔
عدالت نے وفاق اور تمام صوبوں سے جمشید دستی کے خلاف مقدمات کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے ضمانت کے معاملے پر مزید کارروائی کے لیے مقدمات کی تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کردی۔

