اردوEnglish
جمعرات, 22 اکتوبر 2026
  • Home  
  • بل کلنٹن کی بیٹی نے 15 سال کی عمر میں قرآن مجید پڑھ کر انہیں کیا سبق دیا؟
- وائرل نیوز

بل کلنٹن کی بیٹی نے 15 سال کی عمر میں قرآن مجید پڑھ کر انہیں کیا سبق دیا؟

سابق امریکی صدر بل کلنٹن نے مسلمانوں کو مذہب کی بنیاد پر تنقید کا نشانہ بنانے والوں پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے مذہبی رواداری اور باہمی احترام پر زور دیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی بیٹی نے 15 سال کی عمر میں قرآن مجید پڑھ کر انہیں ایک اہم سبق دیا تھا۔

اردو رپورٹ ڈیسک

امریکا کے سابق صدر بل کلنٹن نے مسلمانوں کو صرف ان کے مذہب کی بنیاد پر تنقید کا نشانہ بنانے والوں پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ لوگوں کو مذہبی اختلافات کی بنیاد پر نفرت کرنے کے بجائے ایک دوسرے کو سمجھنے اور ان سے سیکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

جنوبی فلوریڈا کے ایک گرجا گھر میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بل کلنٹن نے قرآن مجید کی تعلیمات کا حوالہ دیا اور بتایا کہ ان کی بیٹی نے 15 سال کی عمر میں قرآن مجید شروع سے آخر تک پڑھا تھا اور بعد میں انہیں بھی اس کے مطالعے کا مشورہ دیا۔

بیٹی نے قرآن مجید کی تعلیمات سے متعلق کیا بتایا؟

بل کلنٹن کے مطابق ان کی بیٹی نے انہیں سمجھایا تھا کہ قرآن مجید کی تعلیمات کے مطابق اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو مختلف قوموں اور قبیلوں میں اس لیے تقسیم نہیں کیا کہ وہ ایک دوسرے سے نفرت کریں یا ایک دوسرے کو حقیر سمجھیں، بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ لوگ ایک دوسرے کو پہچانیں اور ایک دوسرے سے سیکھیں۔

سابق امریکی صدر نے اس پیغام کو مختلف مذاہب اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے درمیان باہمی احترام اور سمجھ بوجھ کو فروغ دینے کے لیے اہم قرار دیا۔

مذہبی عدم برداشت پر تنقید

بل کلنٹن نے کہا کہ وہ اس رویے سے تنگ آچکے ہیں جس میں لوگوں کو صرف ان کے مذہبی عقائد کی بنیاد پر تنقید یا حملوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر مذہب کے پیروکاروں میں ایسے افراد ہوسکتے ہیں جو غلط کام کرتے ہیں، کیونکہ کوئی بھی انسان خامیوں سے پاک نہیں۔ تاہم چند افراد کے اعمال کی بنیاد پر پورے مذہب یا اس کے ماننے والوں کو برا سمجھنا درست نہیں۔

انہوں نے مذہبی اختلافات اور ثقافتی تقسیم کے باعث ہونے والے تنازعات پر بھی مایوسی کا اظہار کیا اور رواداری، تعاون اور باہمی احترام کی ضرورت پر زور دیا۔

ڈیوڈ جولی کی انتخابی مہم سے متعلق تقریب میں خطاب

بل کلنٹن نے یہ باتیں ڈیموکریٹک پارٹی کے گورنر کے امیدوار ڈیوڈ جولی کی انتخابی مہم سے متعلق ایک اجتماع کے دوران کہیں۔

ان کا یہ بیان امریکا میں وسط مدتی انتخابات سے قبل سامنے آیا ہے، جب سیاسی رہنما مذہب، ثقافت اور مختلف برادریوں کے درمیان تعلقات جیسے اہم معاملات پر اظہار خیال کر رہے ہیں۔

فرانس سے متعلق ٹرمپ کے بیان پر بحث

بل کلنٹن کے یہ ریمارکس ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب فرانس میں بدامنی سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر بحث جاری ہے۔

رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ مستقبل میں پیرس ایک مسلم شہر بن جائے گا۔

urdureport.com@2025. All Rights Reserved

Your license hasn’t been activated yet. Activate it now!