اردو رپورٹ ڈیسک
پاکستان میں استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدی پالیسی میں اہم تبدیلیوں کے تحت 2016 یا اس کے بعد تیار ہونے والی گاڑیوں کی تجارتی درآمد کی اجازت دیے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ تاہم، اس حوالے سے حتمی اہلیت کا انحصار متعلقہ حکام کے مقرر کردہ قواعد، ماحولیاتی معیار اور حفاظتی شرائط پر ہوگا۔
تازہ ترین معلومات کے مطابق گاڑیوں کے لیے یورو 6 اخراجی معیار کی پابندی اہم شرط قرار دی گئی ہے۔ اس معیار کے تحت گاڑیوں سے خارج ہونے والی آلودہ گیسوں کی مقدار محدود کی جاتی ہے۔ درآمد کنندگان کو گاڑیوں کی منظوری کے لیے متعلقہ جانچ اور تصدیق کے تقاضے بھی پورے کرنا ہوں گے۔
ستمبر 2025 میں متعارف کرائے گئے قواعد کے تحت پانچ سال سے کم پرانی گاڑیوں کی تجارتی درآمد کی اجازت ابتدائی طور پر 30 جون 2026 تک دی گئی تھی، جبکہ اس کے بعد گاڑیوں کی عمر کی حد ختم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔
ستمبر 2026 کی پالیسی تبدیلیوں پر تحفظات
حکومت کی جانب سے ستمبر 2026 میں درآمدی قواعد میں کی گئی تبدیلیوں پر پاکستان آٹوموٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاما) نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
ایسوسی ایشن نے حکومت سے نظرثانی شدہ قواعد پر عمل درآمد معطل کرکے ان کا دوبارہ جائزہ لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کا مؤقف ہے کہ نئی پالیسی مقامی گاڑیاں تیار کرنے والی صنعت کو متاثر کر سکتی ہے اور موجودہ حفاظتی اقدامات کمزور پڑ سکتے ہیں۔
درآمد کنندگان اور خریداروں کے لیے اہم نکات
گاڑی کی عمر: تجارتی درآمد کے نظرثانی شدہ نظام کے تحت گاڑیوں کی عمر سے متعلق سابقہ پابندی ختم کیے جانے کی گنجائش موجود ہے، تاہم درآمد متعلقہ قواعد کے تابع ہوگی۔
ماحولیاتی اور حفاظتی معیار: درآمد کی جانے والی گاڑیوں کو حکام کے مقرر کردہ اخراجی معیار، حفاظتی ضوابط اور معائنے کی شرائط پوری کرنا ہوں گی۔
درآمدی اخراجات: ریگولیٹری ڈیوٹی، کسٹمز ڈیوٹی اور دیگر قابل اطلاق ٹیکس گاڑی کی مجموعی قیمت پر اثر انداز ہوں گے۔
2016 ماڈل اور یورو 6 کی شرط کی تصدیق ضروری
یہ وضاحت اہم ہے کہ 2016 یا اس کے بعد تیار ہونے والی تمام گاڑیوں کی درآمد کی اجازت اور یورو 6 معیار کی لازمی شرط کے بارے میں دعووں کی متعلقہ سرکاری نوٹیفکیشن سے تصدیق ضروری ہے۔
دستیاب معلومات سے درآمدی پالیسی میں وسیع تر تبدیلیوں کی نشاندہی ہوتی ہے، تاہم 2016 ماڈل کی گاڑیوں کے لیے مخصوص حد اور یورو 6 کی شرط کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔ اس لیے ان شرائط کو حتمی سرکاری فیصلہ قرار دینے سے پہلے تازہ ترین نوٹیفکیشن دیکھنا ضروری ہے۔
نئی پالیسی سے خریداروں کو ممکنہ فائدہ
استعمال شدہ گاڑیوں کی تجارتی درآمد میں نرمی سے پاکستانی خریداروں کے لیے دستیاب گاڑیوں کی اقسام میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ تاہم، گاڑیوں کی قیمتوں پر اس تبدیلی کے اثرات کا انحصار درآمدی اخراجات، ٹیکسوں، معیار کی شرائط اور مارکیٹ میں گاڑیوں کی دستیابی پر ہوگا۔

