اردوEnglish
اتوار, 25 اکتوبر 2026
  • Home  
  • امریکی کمپنی کا پارے سے سونا بنانے کا دعویٰ، سرن کا ریکارڈ توڑنے کا اعلان
- ٹیکنالوجی

امریکی کمپنی کا پارے سے سونا بنانے کا دعویٰ، سرن کا ریکارڈ توڑنے کا اعلان

امریکی کمپنی میراتھن فیوژن نے جوہری امتزاج کی مدد سے پارے کو مستحکم سونے میں تبدیل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ کمپنی کے مطابق سونا بنانے کی رفتار سرن کے 2025 کے سائنسی ریکارڈ سے 10 گنا زیادہ ہے، تاہم تیار کردہ سونے کی مقدار ظاہر نہیں کی گئی۔

اردو رپورٹ ڈیسک

امریکا میں جوہری امتزاج کی ٹیکنالوجی پر کام کرنے والی نئی کمپنی میراتھن فیوژن نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جوہری امتزاج سے حاصل ہونے والے نیوٹرانز کی مدد سے پارے کو مستحکم سونے میں تبدیل کیا ہے۔

سان فرانسسکو میں قائم کمپنی کے مطابق اس عمل کے ذریعے سونا بنانے کی رفتار یورپی تنظیم برائے جوہری تحقیق، سرن، کے 2025 کے سائنسی ریکارڈ سے 10 گنا زیادہ ہے۔ تاہم کمپنی نے تجربے کے دوران تیار ہونے والے سونے کی حتمی مقدار یا وزن ظاہر نہیں کیا۔

سونے کے علاوہ طبی شعبے میں استعمال کا منصوبہ

میراتھن فیوژن اس ٹیکنالوجی کو صرف قیمتی دھاتیں تیار کرنے تک محدود نہیں رکھنا چاہتی بلکہ اسے طبی شعبے میں بھی استعمال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

کمپنی کے مطابق اس ٹیکنالوجی کو ایسے طبی آئسوٹوپس کی تیاری کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جو سرطان کی تشخیص اور علاج میں کام آتے ہیں۔

پارے کو سونے میں کیسے تبدیل کیا جاتا ہے؟

یہ عمل عام کیمیائی تعامل کے بجائے جوہری تبدیلی کے ذریعے انجام پاتا ہے۔ اس میں کسی عنصر کی کیمیائی خصوصیات بدلنے کے بجائے اس کے ایٹم کے مرکزے میں تبدیلی لائی جاتی ہے، جس سے ایک عنصر دوسرے عنصر میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

کمپنی کے بیان کردہ طریقۂ کار کے مطابق ڈیوٹیریم اور ٹریٹیم کے جوہری امتزاج سے پیدا ہونے والے تیز رفتار نیوٹرانز قدرتی پارے کے آئسوٹوپ مرکری-198 کو غیر مستحکم آئسوٹوپ مرکری-197 میں تبدیل کرتے ہیں۔

اس کے بعد تابکار مرکری-197، الیکٹران جذب کرنے کے قدرتی عمل سے گزرتا ہے اور سونے کے مستحکم آئسوٹوپ گولڈ-197 میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

تاہم اس عمل کے دوران پیدا ہونے والے تابکار ضمنی مادوں پر قابو پانا ایک اہم سائنسی چیلنج ہے۔

سرن کے سائنس دان بھی سونے کے ایٹمی مرکزے بنا چکے ہیں

مئی 2025 میں یورپی تنظیم برائے جوہری تحقیق، سرن، کے بڑے ہیڈرون کولائیڈر میں کام کرنے والے سائنس دانوں نے سیسے کے ایٹمی مرکزوں کے تصادم کے ذریعے سونے کے ایٹمی مرکزے پیدا کرنے کی تصدیق کی تھی۔

سرن کے ایلس تجربے کے تخمینے کے مطابق 2015 سے 2018 کے دوران چار بڑے تجرباتی مراحل میں تقریباً 86 ارب سونے کے ایٹمی مرکزے پیدا ہوئے۔ ان سب کا مجموعی وزن محض 29 پیکوگرام تھا۔

یہ ایٹمی مرکزے انتہائی مختصر وقت کے لیے قائم رہے اور پھر تحلیل ہو گئے۔ اس لیے یہ تجربہ سونے کی مستحکم مقدار تیار کرنے سے مختلف تھا۔

میراتھن فیوژن کا طریقہ سرن سے مختلف

    سرن کے تجربے میں سیسے کے ایٹمی مرکزوں کے تصادم سے سونے کے مرکزے پیدا کیے گئے تھے، جبکہ میراتھن فیوژن کا دعویٰ ہے کہ اس کا طریقہ پارے کو سونے میں تبدیل کرنے کے لیے جوہری امتزاج سے حاصل ہونے والے نیوٹرانز استعمال کرتا ہے۔

    کمپنی کا کہنا ہے کہ اس طریقے سے جوہری عمل کے ذریعے سونا تیار کیا جا سکتا ہے، تاہم تجربے میں پیدا ہونے والے سونے کی اصل مقدار اور اس ٹیکنالوجی کی عملی کارکردگی کے بارے میں تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں۔

    urdureport.com@2025. All Rights Reserved

    Your license hasn’t been activated yet. Activate it now!