اردو رپورٹ ڈیسک
پاکستان میں مہنگی موٹر سائیکلوں کی مارکیٹ میں بڑی تبدیلی کا امکان ہے، جہاں براک آٹوموبائل نے اطالوی اور چینی موٹر سائیکلوں کی مقامی اسمبلنگ کے لیے پلانٹ قائم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس اقدام سے درآمدی ڈیوٹی میں کمی کے باعث موٹر سائیکلوں کی قیمتیں لاکھوں روپے تک کم ہو سکتی ہیں۔
کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مبین احمد کے مطابق پلانٹ دسمبر 2026 تک تیار ہونے کی توقع ہے، جبکہ پیداوار جنوری 2027 میں شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ کمپنی اس وقت بینیلی، موٹو مورینی اور کیو جے موٹر کی موٹر سائیکلیں درآمد اور تقسیم کرتی ہے۔
موٹو مورینی سے پہلے مرحلے کا آغاز
مقامی اسمبلنگ کے پہلے مرحلے میں موٹو مورینی کی موٹر سائیکلیں تیار کی جائیں گی۔ اس سلسلے میں ابتدا آل تھرائیک 450 ایڈونچر موٹر سائیکل سے ہوگی، جس کے بعد 300 سی سی ماڈل بھی متعارف کرانے کا منصوبہ ہے۔
کمپنی ایک اور بین الاقوامی برانڈ کی موٹر سائیکلیں بھی مقامی سطح پر تیار کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، تاہم اس برانڈ کا نام فی الحال ظاہر نہیں کیا گیا۔
آل تھرائیک 450 کی قیمت میں ممکنہ کمی
مبین احمد کے مطابق مقامی اسمبلنگ سے درآمدی ڈیوٹی میں کمی کے باعث موٹر سائیکلوں کی قیمتیں نمایاں طور پر کم ہو سکتی ہیں۔
انہوں نے آل تھرائیک 450 کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ مکمل تیار شدہ درآمدی موٹر سائیکل کی قیمت 26 لاکھ روپے ہے، جبکہ مقامی اسمبلنگ کے بعد اس کی ممکنہ قیمت 19 لاکھ 95 ہزار روپے ہو سکتی ہے۔ اس طرح قیمت میں تقریباً 23 فیصد کمی متوقع ہے۔
حکومتی پالیسی سے قیمتیں مزید کم ہونے کا امکان
مبین احمد کے مطابق اگر حکومت مجوزہ آٹو پالیسی کی منظوری دے دیتی ہے اور مکمل طور پر کھول کر درآمد کی جانے والی موٹر سائیکلوں کی کٹس پر ڈیوٹی میں کمی ہوتی ہے تو قیمتوں میں مزید کمی ممکن ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈیوٹی میں ہونے والی اضافی رعایت کا فائدہ صارفین تک منتقل کیا جائے گا۔
ایندھن کی بچت والی موٹر سائیکلیں بھی متعارف ہوں گی
براک آٹوموبائل مقامی سطح پر الیکٹرانک فیول انجیکشن (ای ایف آئی) نظام سے لیس موٹر سائیکلیں بھی تیار کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
مبین احمد کو توقع ہے کہ ایندھن کی بہتر بچت، تیز رفتار پکڑنے کی صلاحیت اور زیادہ طاقت کے باعث یہ موٹر سائیکلیں خریداروں کی توجہ حاصل کریں گی، اگرچہ پاکستان میں ای ایف آئی نظام کی مرمت کی سہولتیں ابھی محدود ہیں۔

