اردو رپورٹ ڈیسک
ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے امید ظاہر کی ہے کہ تہران میں چار ملکی اجلاس ایران، پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان حقیقی تبدیلی اور عملی تعاون کا آغاز ثابت ہوگا۔
ایک انٹرویو میں محسن رضائی نے کہا کہ چاروں ممالک کے درمیان تعاون کا آغاز بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھا۔ ان کے مطابق اجلاس میں بات چیت مثبت رہی اور خطے میں ایک نئی فضا بنتی محسوس ہوئی۔
شرکا کا علاقائی مسائل کے حل کے لیے اتحاد پر اتفاق
محسن رضائی نے کہا کہ اجلاس میں شریک تینوں دیگر رہنماؤں کا رویہ بھی مثبت تھا۔ شرکا کا مؤقف تھا کہ اگر چاروں ممالک متحد ہو جائیں تو خطے کے بہت سے مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ اجلاس محض بات چیت تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کے نتیجے میں باہمی تعاون کے فروغ کے لیے عملی اقدامات بھی کیے جائیں گے۔
مسلم ممالک کے اتحاد میں بیرونی مداخلت رکاوٹ
ایرانی رہنما نے کہا کہ اسلامی تعاون تنظیم اور مسلم ممالک کے دیگر اجلاسوں میں باہمی تعاون اور اتحاد کے معاملے پر بات ہوتی رہی ہے، تاہم بیرونی مداخلت کے باعث حقیقی اتحاد کے لیے عملی اقدامات نہیں کیے جا سکے۔
ان کے مطابق چاروں ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دینا خطے کے مسائل حل کرنے اور مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے اہم ثابت ہو سکتا ہے۔
تہران اجلاس میں علاقائی امن و سلامتی پر اتفاق
ایران، پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان چار ملکی اجلاس 26 اکتوبر 2026 کو تہران میں اختتام پذیر ہوا۔ اجلاس کے اعلامیے کے مطابق شرکا نے علاقائی امن و سلامتی کے فروغ کے لیے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
اجلاس کی میزبانی ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے کی۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔
پاکستان کی جانب سے فیلڈ مارشل عاصم منیر، سعودی عرب کے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور ترکیہ کے انٹیلی جنس چیف ابراہیم قالن نے شرکت کی۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق تہران میں مشترکہ اجلاس کی تجویز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اپنے حالیہ دورۂ ایران کے دوران پیش کی تھی۔
علاقائی کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں
اجلاس سے قبل اسماعیل بقائی نے بتایا تھا کہ بات چیت میں علاقائی اور سکیورٹی امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا، جن میں ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ فوجی کشیدگی بھی شامل ہے۔
سعودی عرب کے نائب وزیر برائے عوامی سفارت کاری ڈاکٹر رائد کرملی نے کہا تھا کہ شہزادہ خالد بن سلمان تہران میں ہونے والے اجلاسوں کے دوران سعودی وفد کی قیادت کریں گے، جہاں مشترکہ دفاعی معاہدے میں شامل ممالک کے نمائندے ایرانی حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔
ڈاکٹر رائد کرملی کے مطابق یہ دورہ جاری بحران میں شامل فریقین کے درمیان کشیدگی کم کرنے، مذاکرات کو فروغ دینے اور سفارتی حل کی حمایت کے لیے جاری کوششوں کا حصہ ہے۔ ان کوششوں کا مقصد قطر اور پاکستان کی جانب سے جاری ثالثی کی کوششوں کی حمایت کرنا بھی ہے۔
محسن رضائی کا امریکی دھمکیوں پر مؤقف
محسن رضائی نے کہا کہ مکہ دفاعی معاہدے سے وابستہ ممالک کے اعلیٰ حکام کے دورے سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی دھمکیوں کا دنیا پر زیادہ اثر نہیں پڑا۔

