فیڈرل انویسٹیگیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے پاکستان کے میڈیکل کالجوں میں شہریوں کو فارن سیٹوں پر داخلے کا جھانسہ دے کر ان سے پیسے بٹورنے کے حوالے سے ایک بڑے فراڈ کو بے نقاب کیا ہے جس کے مطابق پی ایم ڈی سی کے ایک ڈرائیور کے اکاوئنٹ سے چار ارب رو پے نکل آئے تا ہم پی ایم ڈی سی حکام نے خود کو اس سارے معاملے سے لا تعلق کر لیا ہے۔
ڈپٹی ڈائریکٹر افضل نیازی نے غیر ملکی میڈیا کو کو بتایا اس لین دین کے تنازع ،ین جب تحقیقات کی گئیں تو بڑی کہانی سامنے آئی۔ایف آئِ اے کو امکان ہے کہ ان کارروائیوں میں وہ تنہا نہیں بلکہ ادارے کے اور لوگ بھی ملوث ہو سکتے ہیں۔‘
ایف آئی آر کے مطابق پی ایم ڈی سی کے ایک ملازم نے متاثرین سے پی ایم ڈی سی کے صدر کے نام کو استعمال کرتے ہوئے چار کروڑ سے زیادہ رقم لی کہ وہ نو طلبا کا پاکستان کے میڈیکل کالجوں میں اوورسیز بیرون ملک مقیم افراد کوٹے کی سیٹوں پر داخلہ کروائے گا ۔ملزم کے ریمانڈ کے دوران اس کی بینک سٹیٹمینٹس نکلوائی گئیں جس میں مجموعی طور پر چار ارب 73 کروڑ کا لین دین (ٹرانزیکشنز) سامنے آیا
یہ بھی پڑھیں
نجی میڈیکل کالجز — تعلیم کے نام پر ناپاک کاروبار کا نیا روپ – urdureport.com
اس معاملے میں ڈرائیور تو گرفتار ہے جس کا جسمانی ریمانڈ حاصل کیا گیا ہے مگر ایف آئی اے کے مطابق تین دیگر مشتبہ ملزمان مفرور ہیں جن کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے جا چکے ہیں۔
ایف آئی اے کے اینٹی کرپشن سرکل نے پی این ڈی سی کے ایک ڈرائیور گرفتار کیا ہے جو کہ پاکستان میں فارن کوٹے کی سیٹوں میں داخلے کا جھانسہ دیکر ان سے پیسے لیتا تھا اور داخلہ نہ ہو نے پر یہ فراڈ سامنے آیا جب متا ثرین سے اس سے رقم واپسی کا مطالبہ کیا۔

پی ایم ڈی سی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم کا تعلق داخلوں یا پالیسی سے متعلق کسی بھی معاملے سے نہیں تھا اور اس کو محکمانہ کارروائی کے بعد بدعنوانی کے الزام میں معطل کر دیا گیا ہے۔‘
مبینہ ’دھوکہ دہی کے اس معاملے کے خلاف ایف آئی اے کو تین درخواست گزاروں نے رواں سال جون میں شکایت درج کروائی تھی اور ابتدائی تفتیش کے بعد پانچ اگست 2025 کو اس ضمن میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔‘
واضح رہے کہ پی ایم ڈی سی کے مطابق ملک کے تمام میڈیکل کالجوں کو چند مخصوص نشستیں فارن کوٹے، یعنی بیرون ملک مقیم پاکستانیوں یا غیر ملکی طلبا، کو دینے کی اجازت ہوتی ہے۔
پی ایم ڈی سی کے مطابق سیلف فنانس، اوورسیز پاکستانی، دوہری شہریت رکھنے والے اور غیر ملکی کوٹہ نشستوں پر داخلے کے لیے امیدوار کے اس یا تو مستقل غیر ملکی شہریت ہونی چاہیے یا وہ ایک اوورسیز پاکستانی ہوں (یعنی پاکستانی شہری جو کسی غیر ملکی ملک میں مستقل طور پر مقیم ہوں)، یا گرین کارڈ ہولڈر، اقامہ ہولڈر یا میپل کارڈ ہولڈر ہوں۔‘
پی ایم ڈی سی کے مطابق نشستوں کی تعداد کے تحت 15 فیصد کوٹہ سیلف فنانس/اوورسیز پاکستانی/ دوہری شہریت رکھنے والے کے لیے مختص ہوتا ہے جو پبلک اور پرائیویٹ دونوں میڈیکل و ڈینٹل کالجز پر لاگو ہوتا ہے


