حکومت پاکستان نے انسانی ہمدردی کی بنا پر پاکستان اور افغانستان کے درمیان چمن اور طورخم بارڈر کراسنگ پوائنٹس کو کھولنے کا فیصلہ ہے تاہم یہا ں سے صرف اقوام متحدہ کے ٹرکوں کو گزرنے کی اجازت دی جائے گی جبکہ افغان ٹرانذٹ ٹریڈ کی اجازت نہیں ہو گی۔
وزارتِ تجارت کی جانب سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کسٹمز آپریشن اور ڈائریکٹر جنرل آف ٹرانزٹ ٹریڈ کراچی کو یہ ہدایت جا ری کی گئی ہے کہ چمن اور طورخم کے بارڈر کراسنگ پوائنٹس کے ذریعے اقوامِ متحدہ کی تین ایجنسیوں کے سامان کی نقل و حرکت شروع کرنے کی تیاری کی جائے۔

سرکاری ذرائع نے واضع کیا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد عام تجارت یا امیگریشن کے لیے نہیں کھولی اور نہ ہی افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کو بحال کیا جا رہا ہے۔‘
واضح رہے کہ 12 اکتوبر سے افغانستان اور پاکستان کے درمیان بارڈر کراسنگ پوائنٹس جن میں طورخم، غلام خان، خرلاچی اور انگور اڈہ شامل ہیں پر برآمدات و درآمدات کے ساتھ ساتھ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کارگو کی کسٹم کلیئرنس کو مکمل طور پر معطل کر دیا تھا جبکہ چمن بارڈر پر یہ معطلی 15 اکتوبر سے نافذ کی گئی تھی۔
سرکاری ذرائع کہ مطابق یہ صرف اقوامِ متحدہ کے انسانی ہمدردی کے کارگو کے لیے ایک وقتی سہولت ہے، جسے وزارتِ تجارت اور وزارتِ خارجہ کے ذریعے معاونت فراہم کی جاتی ہے اور اس کا اطلاق نجی یا تجارتی ٹرانزٹ کارگو پر نہیں ہوتا۔
سرکاری ذرائع کے مطابق اس سارے عمل کے دوران اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ دوطرفہ تجارت اور معمول کی سرحدی آمدورفت پر تمام موجودہ پابندیاں پوری طرح برقرار ہیں۔
بی بی سی کے مطابق وزارتِ تجارت نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کسٹمز آپریشن اور ڈائریکٹر جنرل آف ٹرانزٹ ٹریڈ کراچی کو ہدایت کی ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کی تین عالمی ادارہ خوراک، یونیسف اور یو این ایف پی اے کے خوراک، طبی سمان یا ادویات اور طلبا کے لیے سامان سے بھرے ٹرکوں کی افغانستان روانگی میں معاونت کریں۔
مزید یہ کہ ’انسانی ہمدردی کی بنیاد پر سرحد کے کھولے جانے پر 12 اکتوبر سے پھنسے امدادی سامان کے ٹرکس کو سرحد پار کرنے کی اجازت دی جائے گی۔
یہ بھی پڑھئیے
اب تک کتنے افغان مہا جرین واپس افغانستان جا چکے ،جانئیے اس رپورٹ میں – urdureport.com
واضح رہے کہ پاکستانی میڈیا میں گزشتہ کئی روز سے یہ خبریں گردش کر رہی تھی کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان عام تجارت یا امیگریشن اور ٹرانزٹ ٹریڈ کے لیے بحال کی جا رہی ہے۔

