سعودی عرب کے بادشاہ شاہ فہد کے دور میں جب مسجد الحرام اور مسجدِ نبویﷺ کے نئے ڈیزائن اور اس کی تو سیع کا فیصلہ کیا گیا تو ایک سوچ بچار کے بعد اس ڈیزائن کی تو سیع کے لیے مصر کے معروف آرکیٹیکٹ اور اسلامی فنِ تعمیر میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کر نے والے ڈاکٹر محمد کمال اسماعیل کو ذمہ داریاں سونپنے کا فیصلہ ہوا اور انہو ں نے اپنی مہارت کے ایسا استعمال کیا کہ آج دن تک ان کی خدمات کو عالم اسلام میں ایک قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

ڈاکٹر کمال نے جب یہ کارنا مہ سر انجام دیا اور معا وضہ لینے کا وقت آیا تو وہ کہتے رہے کہ "یہ اللہ کے گھر کی خدمت ہے… اس کا اجر اللہ دے گا، کوئی بادشاہ نہیں۔”
1908 مصر میں پیدا ہونے والے ڈاکٹر کمال کم عمری ہی میں ممتاز طالب علم بن کر سامنے آئے۔ وہ مصر کے ہائی اسکول اور پھر رائل کالج آف انجینیئرنگ سے گریجویشن کرنے والے سب سے کم عمر طالب علم تھے۔ بعدازاں انہوں نے یورپ سےاسلامی فنِ تعمیر میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی، جو اس دور میں ایک منفرد اعزاز تھا۔
ڈاکٹر کمال وہ پہلے انجینیئر تھے جنہوں نے حرمین شریفین کے پورے آرکیٹیکچرل ڈھانچے، توسیعی منصوبوں اور تعمیرِ نو سیع کا عملی چارج سنبھالا۔ ان کے تیار کردہ ڈیزائن میں کئی ایسی جدتیں شامل تھیں جو ناصرف فنِ تعمیر کے لحاظ سے منفرد تھیں بلکہ حجاج کرام کی سہولت کے لیے بھی انتہائی اہم ثابت ہو۔
مسجد الحرام میں ڈاکٹر کمال اسماعیل کی عظیم خدمات

1) تاریخی ترین جدید توسیع کا مرکزی انجینئر
مسجد الحرام کی موجودہ شاندار شکل اور جدید سہولیات کی بنیاد ڈاکٹر کمال کے تیار کردہ ڈیزائن اور منصوبوں پر رکھی گئی۔وہ پوری توسیع کے چیف آرکیٹیکٹ تھے اور تمام انجینیئرنگ انہی کے وژن کے مطابق ہوئی۔
2) شاہ فہد گیٹ (King Fahd Gate) کا شاہکار ڈیزائن
شاہ فہد گیٹ مسجد الحرام کے سب سے خوبصورت اور مرکزی دروازوں میں سے ایک ہے۔اس کا پورا ڈیزائن ڈاکٹر کمال نے خود تیار کیا جس میں مندرجہ ذیل باتوں کا خیال رکھا گیا۔
- سنگِ مرمر کی سیاہ و سفید تراش
- اسلامی نقوش
- محراب دار خوبصورت انداز
- نفیس میٹل پینلز
یہ دروازہ آج بھی مسجد الحرام کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
3) ستونوں، محرابوں اور صحن کا طرزِ تعمیر
انہوں نے ستونوں اور محرابوں کا ایسا طرز متعارف کروایا جو:
- عثمانی طرزِ تعمیر کی جھلک رکھتا ہے
- جدید انجینئرنگ کی مضبوطی پر بھی پورا اترتا ہے
مسجد کے بڑے بڑے ہالز، صحن اور راہداریوں کا پورا نظام انہی کے آرکیٹیکچر کی بنیاد پر قائم ہے۔
4) مطاف (طواف) کے علاقے کی مضبوطی اور وسعت
مطاف کا فرش، سنگِ مرمر، گرینائٹ اور لوڈ برداشت کرنے والی بنیادیں اس طرح ڈیزائن کی گئیں کہ
- روزانہ لاکھوں مسلمان آسانی سے طواف کریں
- رش کے باوجود مطاف محفوظ رہے
بعد کی تمام توسیعات اسی بنیادی ڈیزائن کے مطابق ہوئیں۔
5) تین منزلہ بڑا ڈھانچہ
انہوں نے مسجد الحرام کی
- نچلی منزل
- اوپر کی منزلیں
- اور بڑی چھت
کو اس طرح ڈیزائن کیا کہ آمدورفت آسان، ہنگامی راستے موجود اور عبادت کا ماحول قائم رہے۔چھت نماز کیلئے مکمل طور پر قابلِ استعمال بنائی گئی۔
6) سنگِ مرمر اور تعمیراتی مواد کا انتخاب
تعمیر میں استعمال ہونے والے تمام پتھر
- اٹالین ماربل
- اسپین کا سفید پتھر
- یونانی گرینائٹ
- سعودی گرینائٹ
کا انتخاب ڈاکٹر کمال نے خود کیا—اور وہ کہتے تھے:
"یہ اللہ کا گھر ہے، اس میں عام پتھر نہیں لگ سکتا!”
7) جدید ایئر کنڈیشننگ اور وینٹی لیشن
مسجد کے ایئر فلو، کولنگ اور وینٹی لیشن کا جدید ترین نظام ڈاکٹر کمال کے ڈیزائن پر قائم ہے۔شدید گرمی میں یہ نظام لاکھوں نمازیوں کو ٹھنڈک اور سکون فراہم کرتا ہے۔
8) تاریخی طرز کو برقرار رکھتے ہوئے جدید تعمیرات
ڈاکٹر کمال کی سب سے بڑی کامیابی یہ تھی کہ جدید تعمیرات کے باوجود
- تاریخی فضا
- اسلامی طرز
- روحانی ماحول
بالکل برقرار رہا۔آج مسجد کے نئے اور پرانے حصے میں فرق محسوس نہیں ہوتا—یہ انہی کی فنکاری کا ثبوت ہے
جب ان خدمات کا معاوضہ لینے کا وقت آیا تو ڈاکٹر کمال نے کہا کہ :"یہ اللہ کے گھروں کی خدمت ہے… اس کا اجر اللہ دے گا، کوئی بادشاہ نہیں۔"
مسجد نبوی ﷺ میں ڈاکٹر کمال اسماعیل کا کردار

مسجد نبویﷺ مسلمانوں کے لیے دوسرا مقدس ترین مقام ہے اس کی تعمیر میں ڈاکٹر کمال کا نام جڑا ہوا ہے آخر ڈاکٹر محمد کمال اسماعیل نے کون سا ایسا کارنامہ سر انجام دیا۔
مسجدِ نبویﷺ وہی مسجد ہے جسے آپﷺ نے ہجرتِ مدینہ کے فوراً بعد تعمیر کروایا۔ اسے اسلامی ریاست کے مرکز کی حیثیت حاصل رہی۔ایک روایت کے مطابق مسجد نبویﷺ میں ایک نماز کا ثبواب مسجد الحرام کے سوا، دنیا کی کسی بھی مسجد میں ادا کی جانے والی نماز سے ہزار گنا زیادہ ہے۔
1) توسیعِ مسجد نبوی کا مرکزی ڈیزائن
مسجد نبوی ﷺ کی تاریخی توسیع کا مکمل معماری ڈیزائن، نقشہ سازی اور انجینیئرنگ ڈاکٹر کمال نے خود تیار کی۔
انہوں نے پرانی تاریخی عمارت، اس کے پتھر، رنگ اور طرزِ تعمیر کو نئے حصوں میں اس طرح ضم کیا کہ پرانا اور نیا حصہ ایک جیسا محسوس ہوتا ہے۔ یہی ان کے فن کی سب سے بڑی خوبی تھی۔
2) ستون، محرابیں اور گمبدوں کا منفرد نظام
مسجدنبویﷺ کے تمام نئے ستون، محرابیں، چھت اور گمبد ان کے تیار کردہ انجینئرنگ ماڈل کے مطابق بنائے گئے۔انہوں نے پورے ڈھانچے کو زلزلہ ریزسٹنٹ، مضبوط اور طویل عرصے تک قائم رہنے والا بنایا۔فنِ تعمیر کا یہ حسن آج بھی مسجد کی پہچان ہے۔
3) مسجد نبویﷺ کے بڑے کھلنے–بند ہونے والے خودکار شامیانے
مسجد نبویﷺ کے صحن میں موجود بڑے خودکار چھتری نما شامیانے (Umbrellas) دنیا بھر میں اپنی مثال آپ ہیں۔
یہ چھتریاں:
- خودکار نظام کے تحت کھلتی اور بند ہوتی ہیں
- دھوپ، گرمی اور بارش سے نمازیوں کو محفوظ رکھتی ہیں
- لاکھوں عازمین کی سہولت کیلئے جدید ٹیکنالوجی کا شاہکار ہیں
ان کے مکینیکل اور انجینئرنگ سسٹم کی نگرانی بھی ڈاکٹر کمال نے کی۔
4) سنگِ تعمیر اور مواد کا انتخاب
مسجد نبویﷺ کی توسیع میں استعمال ہونے والا:
- مدنی پتھر
- خاص گرینائٹ
- آسٹریلین ماربل
سب ڈاکٹر کمال کی منظوری اور نگرانی سے منتخب ہوا۔انہوں نے پتھر کی کٹنگ، تراش اور رنگوں کو اس طرح ترتیب دیا کہ توسیع کا ہر حصہ قدیم اسلامی تعمیرات سے مکمل ہم آہنگ ہو۔
5) لائٹنگ اور وینٹی لیشن کا جدید نظام
مسجد نبویﷺ کے اندرونی حصے کی:
- لائٹنگ
- ہوا کے بہاؤ
- کولنگ سسٹم
کو جدید ترین عالمی ٹیکنالوجی کی بنیاد پر ڈاکٹر کمال نے ڈیزائن کیا۔نمازیوں کو گرمی اور ہجوم میں بہترین ماحول فراہم کرنے کے لیے یہ نظام آج بھی مثالی سمجھا جاتا ہے۔
6) تاریخی روح کو برقرار رکھنا
ڈاکٹر کمال اس بات پر انتہائی سخت تھے کہ مسجد نبوی ﷺ کی توسیع میں مندرجہ ذیل خوبیاں ہر صورت موجود ہونی چاہیں۔
- سیرتِ نبوی ﷺ کی جھلک
- اسلامی فنِ تعمیر
- قدیم طرزِ تعمیر
انہوں نے پرانے ستونوں، تاریخی محرابوں اور قدیم نقش و نگار کی اصل حالت کو مکمل طور پر محفوظ رکھا۔
7) 30 سال تک بغیر تنخواہ خدمت
روایت کے مطابق ڈاکٹر کمال اسماعیل نے مسجد نبویﷺ اور مسجد الحرام کی توسیعات میں کبھی کوئی تنخواہ یا معاوضہ قبول نہیں کیا۔
ان خدمات کے معاوضے پر ڈاکٹر کمال نے کیا کہا ؟
سب سے حیران کن پہلو یہ ہے کہ ڈاکٹر محمد کمال اسماعیل نے اس عظیم منصوبے کا کوئی مالی معاوضہ لینے سے انکار کر دیا تھا۔ جب انہیں ادائیگی کی پیشکش کی گئی تو انہوں نے کہا، ’میں دنیا کے مقدس ترین مقامات پر کیے گئے کام کے پیسے کیسے لے سکتا ہوں؟ روزِ قیامت خدا کو کیا منہ دکھاؤں گا!‘
اس وقت ڈاکٹر محمد کمال اسماعیل کی عمر 80 برس سے زیادہ تھی، مگر عبادت اور خدمتِ دین کا جذبہ اپنی کامل شدت سے موجود تھا۔
ڈاکٹر کمال نے اپنی زندگی کو عملی عبادت سمجھ کر گزارا اور سو سال سے زائد عمر پائی، ان کا انتقال 2008 میں ہوا۔
یہ بھی پڑھئِے

