اپ ڈیٹ
آسٹریلیا کی نیو ساؤتھ ویلز پولیس کا کہنا ہے کہ بونڈائی ساحل پر ہونے والی فائرنگ کے مشتبہ ملزم نوید اکرم پر 59 جرائم کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق ان میں قتل کے 15 اور ایک دہشت گردانہ فعل کے ارتکاب کا ایک جرم شامل ہے۔
تین روز قبل سڈنی کے مشہور بونڈائی ساحل پر منعقد ہونے والی یہودیوں کی تقریب پر ’دہشت گردانہ‘ حملے کے بعد حملہ آوروں کی شناخت 50 سالہ ساجد اکرم اور ان کے 24 سالہ بیٹے نوید اکرم کے نام سے ہوئی تھی۔
آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے بونڈی بیچ پر ہلاکت خیز حملے کی خوفناک تفصیلات عینی شاہدین نے بیان کردی ہیں۔
سڈنی فائرنگ واقعہ میں ملوث حملہ آور کا تعلق حیدرآباد سے تھا اس بارے بھارتی پولیس نے تفصیلات بتا دی ہیں ۔
اتوار کے روز ہونے والے اس واقعی میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور تقریباً زخمی ہوئے اور دہشت گردی کا ہدف یہودی کمیونٹی تھی۔
گواہوں نے منظر کو قتل عام قرار دیا جس دوران بچوں، بزرگوں اور خاندانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ بیچ کے قریب موجود ایک خاتون نے بتایا کہ اس نے حملہ آور کو گاڑی سے نکلتے دیکھا تو ایسا لگا جیسے وہ بیساکھیاں اٹھا رہا ہے، لیکن اس نے بڑی بندوق نکالی اور فائرنگ شروع کردی۔
ایک شخص نے کہا، میں نے بچوں کو ہدف بنتے دیکھا، بڑے لوگ جو حرکت نہیں کر سکتے تھے، انہیں گولی ماری گئی، ہر جگہ خون ہی خون تھا۔
یہ بھی پڑھئیے
کوہ پیما ثمینہ بیگ کو جنوبی قطب تک اسکینگ کرنے والی پہلی پاکستانی کا اعزاز مل گیا – urdureport.com
عینی شاہدین کے مطابق لوگ خوفزدہ ہو کر ریسٹورنٹس، سرف کلبز اور بیت الخلا میں چھپ گئے، کچھ پانی میں کود گئے۔
واقعے کے دوران غیر معمولی بہادری بھی دیکھی گئی۔ ایک ویڈیو میں ایک غیر مسلح شخص کو ایک حملہ آور کا ہتھیار چھینتے اور اسے محفوظ کرنے کے مناظر دکھائے گئے۔
ایک عینی شاہد نے کہا کہ نے بتایا کہ ایک پولیس اہلکار زخمی ہونے کے باوجود ہمت نہیں ہاری۔ ایک اور گواہ نے ایک ماں کو اپنے بچوں کے ساتھ گولی لگنے کا منظر دیکھا۔
پولیس کے مطابق حملہ آور باپ بیٹے نے ماں کو بھی سارے منصوبے سے لاعلم رکھا اور ماں کو فشنگ ٹرپ پر جانے کا بتایا۔جائے وقعہ پر پہنچنے کے بعد باپ بیٹے نے پل پر پوزیشن سنبھالی اور نہتے لوگوں پر فائرنگ شروع کردی۔
وزیر اعظم انتھونی البانیز نے واقعے کو ایک بدترین یہودی مخالف دہشت گردی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ ہر آسٹریلوی پر حملہ ہے۔واقعے نے کمیونٹی کو ہلا کر رکھ دیا، گواہ اور بچ جانے والے واقعے کے دوران بہادری اور خوفناک مناظر کی داستانیں بیان کر رہے ہیں۔


