ماضی میں مانچسٹر یونائیٹڈ کی اکیڈمی سے وابستہ رہنے والے مڈفیلڈر زیدان اقبال عراق کی قومی ٹیم کی نمائندگی کرتے ہوئے فیفا فٹبال ورلڈ کپ 2026 میں ایک اہم سنگ میل حاصل کرنے جا رہے ہیں۔ اگرچہ وہ عراق کی طرف سے کھیل رہے ہیں، پاکستانی فٹ بال ٹیم کبھی فیفا میگا ایونٹ میں نہیں پہنچی مگر زیدان اقبال کی یہ شرکت پاکستانی فٹبال شائقین کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے۔
زیدان اقبال پاکستانی والد اور عراقی والدہ کے ہاں انگلینڈ کے شہر مانچسٹر میں پیدا ہوئے اور وہیں پرورش پائی۔ وہ ماضی میں مانچسٹر یونائیٹڈ کی اکیڈمی کا حصہ رہے اور بعد میں نیدرلینڈز کے کلب ایف سی یوتریخت سے منسلک ہو گئے۔ ان کی اس بین الاقوامی کامیابی کو جنوبی ایشیائی فٹبال کے لیے ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
Zidane Iqbal's World Cup boots featuring both the Pakistani and Iraqi flags on his shoes. 🇵🇰🇮🇶 pic.twitter.com/TKAGLZMHKR
— Urdu Report (@UrduReportpk) June 17, 2026
جوتوں پر عراقی اور پاکستانی پرچم
زیدان اقبال کا کہنا ہے کہ وہ اپنے دونوں پس منظر پر فخر کرتے ہیں۔ وہ اپنے جوتوں پر عراق اور پاکستان دونوں کے پرچم استعمال کرتے ہیں، جس کے ذریعے وہ اپنی شناخت اور خاندان دونوں کے ساتھ وابستگی کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کے مطابق وہ دونوں ممالک کو برابر اہمیت دیتے ہیں اور کسی ایک کو دوسرے پر ترجیح نہیں دے سکتے۔
عراق کی ٹیم نے ورلڈ کپ تک پہنچنے کے لیے طویل اور مشکل کوالیفائنگ مرحلہ طے کیا، جس میں 21 میچز شامل تھے۔ یہ عراق کی 40 سال بعد عالمی کپ میں واپسی ہے، کیونکہ اس سے قبل وہ 1986 کے میکسیکو ورلڈ کپ میں شریک ہوئے تھے۔
زیدان اقبال کا بیان
زیدان اقبال نے کہا ہے کہ ان کی ٹیم اس ٹورنامنٹ میں بغیر کسی دباؤ کے بطور انڈر ڈاگ شریک ہوگی اور اگر وہ اچھی کارکردگی دکھانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ دنیا کے لیے حیران کن ہوگا۔ ان کے مطابق فٹبال میں محنت اور جذبے کے ساتھ کچھ بھی ممکن ہے۔
مذید پڑھئِں
فیفا ورلڈ کپ:امریکہ نے ایرانی ٹیم کے لیے انوکھی شرط لگا دی – urdureport.com
فیفا فٹ بال ورلڈ کپ 2026: ٹرافی کتنے ارب کی تیار ہوئی جائیے – urdureport.com
زیدان اقبال کی یہ کہانی نہ صرف عراق بلکہ پاکستان اور عالمی سطح پر نوجوان کھلاڑیوں کے لیے بھی ایک حوصلہ افزا مثال بن رہی ہے۔


