وزیرِ داخلہ محسن نقوی سے متحدہ عرب امارات کے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز و پورٹ سکیورٹی احمد بن لاحج الفلاسی کی سربراہی میں متحدہ عرب امارات کے وفد کی ملاقات ہوئی ہے۔
منگل کو وزارت داخلہ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں پاکستان اور یو اے ای کے تعلقات، باہمی تعاون اور مسافروں کے لیے امیگریشن عمل مزید آسان بنانے سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔

وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ پری امیگریشن کلیئرنس کے تحت مسافروں کی امیگریشن اور متعلقہ کلیئرنس پاکستان ہی میں مکمل کی جائے گی۔
ملاقات میں اس بات پر اتفاق ہوا کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان ’پری امیگریشن کلیئرنس‘ کے حوالے سے باضابطہ معاہدہ کیا جائے گا۔ اس نئے نظام کا آغاز ابتدائی طور پر پائلٹ بنیادوں پر کیا جائے گا اور اس منصوبے کا آغاز کراچی سے پہلے مرحلے میں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس نظام کے نفاذ کے بعد مسافروں کومتحدہ عرب امارات پہنچنے پر امیگریشن کی طویل کارروائی سے گزرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ مسافر ڈومیسٹک مسافروں کی طرح سیدھا ایئرپورٹ سے باہر نکل سکیں گے۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے سفر میں سہولت، وقت کی بچت اور مسافروں کے لیے مجموعی تجربہ بہتر ہوگا۔بیان کے مطابق یو اے ای وفد نے اس اقدام کو دونوں ممالک کے عوام کے لیے مفید قرار دیتے ہوئے ہر طرح کےتعاون کے عزم کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھئیے
یو اے ای کو فوجی فاونڈیشن کے ایک ارب ڈالر کے شئیرز فروخت کیے جا یں گے – urdureport.com
پاکستان مخالف بھارتی فلم دھریندر کو بڑا جھٹکا،یو اے ای میں پابندی لگ گئی – urdureport.com
مزید کہا گیا کہ پائلٹ منصوبے کے انتظامی و تکنیکی معاملات کو حتمی شکل دینے کے لیے متعلقہ حکام رابطہ کاری جاری رکھیں گے۔ کامیاب پائلٹ کے بعد اس نظام کو بتدریج مزید مقامات تک توسیع دی جائے گی

