• Home  
  • قازقستان کا قدرتی حسن و جمال جس کے باعث سیّاحوں اور کاروباری افراد کے لیے جنت بن گیا
- سیاحت

قازقستان کا قدرتی حسن و جمال جس کے باعث سیّاحوں اور کاروباری افراد کے لیے جنت بن گیا

تحریر طارق اقبال چوہدری وسطی ایشیا میں واقع جمہوریہ قازقستان جس کی کوئی سمندری بندرگاہ موجود نہیں لیکن اس کے باوجود یہ ملک سیاحوں اور کاروباری افراد کے لیے ایک جنت کی حثیت رکھتا ہے۔ قازقستان دنیا کا نواں بڑا ملک ہے۔ اس کا کل رقبہ مغربی یورپ کے مجموعی رقبے سے بھی زیادہ ہے۔ […]

وسطی ایشیا میں واقع جمہوریہ قازقستان جس کی کوئی سمندری بندرگاہ موجود نہیں لیکن اس کے باوجود یہ ملک سیاحوں اور کاروباری افراد کے لیے ایک جنت کی حثیت رکھتا ہے۔

قازقستان دنیا کا نواں بڑا ملک ہے۔ اس کا کل رقبہ مغربی یورپ کے مجموعی رقبے سے بھی زیادہ ہے۔ قازقستان دنیا کا سب سے بڑا خشکی میں گھرا ہوا ملک ہے جس کے شمال میں روس، مشرق میں چین، جنوب مشرق میں کرغیزستان، جنوب میں ازبکستان اور ترکمانستان جبکہ جنوب مغرب میں بحیرۂ قزوین واقع ہے، جو اس کے جغرافیائی حسن میں اضافہ کرتا ہے۔

قازقستان میں سیاحت کا فروغ اور معاشی ترقی

قازقستان قدرتی وسائل اور سیاحتی مقامات سے مالا مال ملک ہے، جہاں دنیا بھر سے سیاح قدرتی حسن، ثقافت اور مہمان نوازی سے لطف اندوز ہونے کے لیے کھینچے چلے آتے ہیں۔

قازقستان کی آبادی، زبان اور مذہبی تناسب

قازقستان میں تقریباً 131 مختلف نسلوں کے لوگ آباد ہیں۔ مجموعی آبادی میں 63 فیصد قازق جبکہ روسی، ازبک، یوکرینی، جرمن، تاتاری اور اویغور سمیت دیگر اقوام بھی شامل ہیں۔
مذہبی اعتبار سے یہاں 70 فیصد مسلمان جبکہ 26 فیصد مسیحی آباد ہیں۔ انتظامی اور دفتری سطح پر قازق اور روسی زبانیں استعمال کی جاتی ہیں۔

قازقستان اقوامِ متحدہ، عالمی تجارتی ادارے، دولتِ مشترکہ اور شنگھائی تعاون تنظیم کا رکن بھی ہے۔

آزادی کے بعد قازقستان کا سفر

قازقستان نے 16 دسمبر 1991ء کو سوویت اتحاد سے علیحدگی اختیار کر کے آزادی کا اعلان کیا اور یوں یہ سوویت یونین سے الگ ہونے والی آخری ریاست بنا اور نورسلطان نذربایف ملک کے پہلے صدر بنے۔

آزادی کے بعد قازقستان نے متوازن خارجہ پالیسی اپنائی اور اپنی معیشت، بالخصوص تیل، گیس اور معدنی وسائل کی ترقی پر خصوصی توجہ دی۔

قازقستان کا بدلتا دارالحکومت اور جغرافیائی حسن

قازقستان کا سابق دارالحکومت الماتے 1997ء تک ملک کا انتظامی مرکز رہا، تاہم اب جدید و قدیم طرزِ تعمیر کا حسین امتزاج رکھنے والا شہر آستانہ ملک کا دارالحکومت ہے۔

قازقستان کی وسیع سرزمین قدرتی تنوع سے بھرپور ہے، جہاں گھاس کے میدان، قطبی جنگلات، برف پوش پہاڑ، دریا، جھیلیں اور صحرا سب ایک ساتھ دیکھنے کو ملتے ہیں۔

تاریخی طور پر قازقستان خانہ بدوشوں کا ملک رہا ہے، جہاں سولہویں صدی تک لوگ تین بڑے قبائل میں منظم ہو چکے تھے، جنہیں مقامی زبان میں "جُز” کہا جاتا ہے۔

ویزا فری پالیسی اور سیاحت کے نئے مواقع

قازقستان کی قومی سیاحتی کمپنی کے چیئرمین تلگت امان بائیوف کے مطابق کووڈ-19 کے بعد سیاحت کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ قازقستان نے 78ممالک کے ساتھ ویزا فری نظام بحال کیا، جسے مرحلہ وار 100 ممالک تک توسیع دی جائے گی۔

قازقستان اس وقت چو نکہ دنیا میں ایک ابھرتا ہوا ملک ہے اور اس کا پاسپورٹ بھی دنیا میں 61 سے 65 درجے کے ساتھ رینک کر رہا ہے۔

قازقستان اس وقت پاکستان کے ڈپلومیٹک یا سرکاری پاسپورٹ کے حا مل افراد کے لیے ویزا فری ملک ہے تا ہم عام شہریوں کو قازقستان جا نے کے لیے ویزا لینا پڑتا ہے۔

آستانہ: وسطی ایشیا کا جدید چہرہ

دارالحکومت آستانہ کو وسطی ایشیا کا بدلتا ہوا چہرہ کہا جاتا ہے یہ ایک جدید شہر ہے۔ یہ شہر جدید قوم کی زندہ مثال ہے، جہاں شاندار فنِ تعمیر، کاروباری مراکز اور جدید سہولیات موجود ہیں۔

اہم سیاحتی مقامات میں:

  • Bayterek Tower
  • Duman Recreational Complex
  • میوزیم آف مینی ایچرز
  • سی ایکیوریم
  • قومی عجائب گھر
  • نور آستانہ مسجد
  • صدارتی محل اور آزادی اسکوائر

شامل ہیں۔

الماتے: ثقافت اور فطرت کا حسین امتزاج

سابق دارالحکومت الماتے قازقستان کا سب سے بڑا ثقافتی مرکز ہے۔ یہ شہر برف پوش پہاڑوں کے دامن میں واقع ہے، جہاں قدرتی مناظر اور جدید شہری زندگی کا دلکش امتزاج نظر آتا ہے۔

الماتے کے مشہور مقامات میں:

  • کوک ٹوبی
  • کولسائی جھیلیں
  • چرین کی وادی
  • جھیل اسیک
  • پانفیلوف پارک
  • سینٹرل اسٹیٹ میوزیم
  • اراسان حمام

خاص طور پر قابلِ دید ہیں۔

دیگر اہم سیاحتی مقامات

  • جھیل بلخاش: دنیا کی 15ویں بڑی جھیل
  • بائیکونور اسپیس پورٹ: راکٹوں اور خلائی جہازوں کا شہر
  • اکتاؤ: بحیرۂ کیسپین کے کنارے واقع پُرسکون شہر
  • تراز: جنوبی قازقستان کا قدیم تاریخی شہر

تراز میں بابا جی خاتون، عائشہ بی بی، اکیرتاس اور دیگر تاریخی مقامات سیاحوں کی خصوصی توجہ کا مرکز ہیں۔

قازقستان: سرمایہ کاری اور سیاحت کے بے شمار مواقع

قدیم تہذیب، جدید انفراسٹرکچر، نرم ویزا پالیسی، مناسب قیمتیں، معیاری خوراک اور دوستانہ ماحول قازقستان کو سیاحوں اور کاروباری افراد کے لیے جنت بناتے ہیں۔
قازقستان کے قدیم و جدید شہروں میں نہ صرف سیاحتی مقامات کی بھرمار ہے بلکہ عالمی سرمایہ کاروں کے لیے بھی وسیع مواقع موجود ہیں۔

قازقستان خوبصورت پہاڑوں کے درمیان خانہ بدوش ریاست

قازقستان میں جو غیر ملکی یہاں آئے ان میں سے زیادہ تر ملک کے دو بڑے شہروں الماتی اور آستانہ میں ٹھرے لیکن جو سیاح ان دو شہروں سے باہر نکلے انھوں نے ایک ناہموار زمین کا تجربہ کیا،

اس ان ہموار زمین میں جہاں گھوڑے اور اونٹ لامتناہی میدانوں پر چرتے ہیں اور مقامی ثقافت زندہ ہو جاتی ہے۔

اس سرزمین پر 15ویں صدی میں، ایک خانہ بدوش ریاست قائم ہوئی جو روسی سلطنت کے اقتدار سنبھالنے تک تقریباً 400 سال تک قائم رہی۔

قازقستان مین قازق شناخت، تاریخ اور اس کی شاہراہ ریشم سے جُڑی میراث آج بھی سیاحوں کی دلچسپی کا با عث بنی ہو ئی ہے۔

قازقستان کے لذیذ کھانے

قازقستان کے کھانے جن میں بنیادی طور پر بھیٹر اور گھوڑے کا گوشت شامل ہو تا ہےان میں پلاؤ، جس میں یخنی، سبزیاں اور گوشت شامل ہوتا ہے، ایک اہم ڈش ہے جو وسطی ایشیا اور پاکستان سمیت دیگر خطوں میں بھی مشہور شامل ہیں۔

کینیڈا کا مری "بینف” جہا ں کیسے قدرت اپنی خوبصورتی خود بیان کر تی ہے

گرو نانک ایکسپریس وے مذہبی سیاحت کا آغاز ،فائیو سٹار ہوٹل سمیت جدید سہولیتیں

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اردو رپورٹ جملہ حقوق محفوظ ہیں