لاہور، جسے پاکستان کا ثقافتی دارالحکومت کہا جاتا ہے،یہا ں پر 25 سال کے عرصے کے بعد سرکاری سرپرستی میں بسنت میلہ سجایا گیا ہے ۔
بسنت بہار آئی 🩷💚💜🩵 pic.twitter.com/bDqM00IHcD
— Maryam Nawaz Sharif (@MaryamNSharif) February 4, 2026
لیکن مگر اس رنگین تہوار سے جڑا آج بھی سب سے بڑا سوال ذہن میں ابھرتا ہے کہ آیا کہ بسنت کا مطلب واقعی پتنگ بازی ہے؟
حیران کن طور پر اس سوال کا جواب ’’نہیں‘‘ میں ہے کیو نکہ پتنگیں اڑانے کی روایت تفریح کے لیے نہیں بلکہ دیوتاؤں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے شروع ہوئی۔
بسنت کا اصل مفہوم،بہار، نہ کہ پتنگ
معروف ادیب شاہد احمد دہلوی اپنی کتاب ’دلی جو ایک شہر تھا‘ میں لکھتے ہیں کہ بسنت دراصل بہار کی آمد کا تہوار تھا۔
سنسکرت زبان میں بسنت کا مطلب ہی بہار ہے اس لیے اس کو صرف پتنگ با زی کے کھیل سے نہیں جوڑا جا سکتا۔
قدیم ہندوستان میں بسنت کے موقع پر ہندو دیوتاؤں کے مندروں میں سرسوں کے زرد پھول چڑھائے جاتے تھے۔ یہی رسم بعد میں مسلمانوں نے روحانی رنگ میں اپنائی۔
امیر خسرو اور بسنت کی صوفیانہ بنیاد

بسنت کو برصغیر کے مسلمانوں میں متعارف کرانے کا سہرا امیر خسرو کے سر جاتا ہے اور اس میں مرکزئی حثیت سرسوں کے زرد پھولوں کی رہی ہے۔
اس بارئے مختلف رویات ہیں کہ امیر خسرو نے بہار کے آغاز پر اپنے مرشد حضرت خواجہ نظام الدین اولیا کے حضور سرسوں کے پھول پیش کیے اور وجد میں آ کر رقص کرنے لگے۔
جب خواجہ صاحب نے وجہ پوچھی تو امیر خسرو نے کہا:
’’آج ہندو اپنے بت پر بسنت کے پھول چڑھا رہے ہیں،
میں بھی اپنے بت پر پھول چڑھانے آیا ہوں۔‘‘
یہ سن کر خواجہ نظام الدین اولیا نے یہ شعر پڑھا:
اشک ریز آمد و ابر بہار
ساقیا گل بریز بادہ بیار
یوں بسنت ایک صوفیانہ اور روحانی روایت بن گئی، جس میں پھول، ذکر، قوالی اور خیرات شامل تھی مگر حیران کن طور پر اس میں پتنگ بازی کا عنصر شامل نہیں تھا۔
پتنگ بازی کی ابتدا کیسے ہوئی

پتنگ بازی کی تاریخ بسنت سے کہیں زیادہ قدیم اور حیران کن ہے جس کو بعض اوقات صرف بسنت سے جوڑ دیا جاتا ہے۔
قبلِ مسیح کی کہانیاں
- انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کے مطابق چوتھی صدی قبل مسیح میں یونانی سائنس دان آرکیٹاس نے ہوا میں اڑنے کے تجربات کے دوران پتنگ ایجاد کی۔
- چین، نیوزی لینڈ اور ہوائی میں پتنگیں دیوتاؤں کو خوش کرنے کے لیے اڑائی جاتی تھیں۔
- نیوزی لینڈ میں پتنگوں سے فال نکالی جاتی تھی۔
- چین اور جاپان میں پتنگیں بری روحوں کو بھگانے کا ذریعہ سمجھی جاتی تھیں۔
دیوتا، اساطیر اور پتنگیں
- ہوائی جزائر میں دیوتا موئی کو پتنگ اڑاتے دکھایا گیا ہے۔
- نیوزی لینڈ کی اساطیر میں ایک دیوتا خود پتنگ بن جاتا ہے۔
- گوئٹے مالا میں مایا قوم آج بھی ’یومِ اموات‘ پر قبرستانوں میں پتنگیں اڑاتی ہے تاکہ مرحوم روحوں سے رابطہ ہو سکے۔
یہ سب اس بات کی دلیل ہیں کہ پتنگ بازی کا آغاز مذہبی اور تقدیسی مقصد سے ہوا، نہ کہ کھیل کے طور پر لیکن آج کے دور مین اس کو بسنت سے جوڑ کر ایک کھیل بنا دیا گیا ہے۔
پتنگ بطور ذریعۂ روزگار
- ملائیشیا اور پاپا نیوگنی میں پتنگیں مچھلی پکڑنے کے لیے استعمال ہوتی تھیں۔
- پتنگ کی ڈور کے ساتھ کانٹا باندھ کر پانی کے اوپر لٹکایا جاتا تھا، مچھلی پھنس جاتی تھی۔
پتنگ بازی بطور کھیل کا: باقاعدہ آغاز کہاں سے ہوا

تفریحی پتنگ بازی کا آغاز چین میں ہوا جہاں لوگ اس کھیل کے دوران ایک دوسرے کی پتنگیں کاٹتے تھے۔
چھٹی صدی میں چینی راہب یہ روایت جاپان لے گئے، جہاں بعد میں:
- نئے سال
- بچوں کا دن
- فصلوں کے تہوار
اس کے بعد یہ تمام تہوار پتنگ بازی کے ساتھ جُڑ گئے۔
پتنگ اور محاورے، مخالف ہوا میں بلندی
دنیا کی کئی زبانوں میں پتنگوں کے حوالے سے محاورے بھی بنے جن میں پتنگ حوصلے اور مزاحمت کی علامت بن چکی ہے۔
- چینی شاعر ژان کو کی کہاوت: ’’پتنگیں ہوا کی مخالفت پر بلند ہوتی ہیں‘‘
- سوئس ادیب ژاں انتونی کے مطابق: ’’بلند ہمتی پتنگ کی مانند ہے، مخالف ہوا اسے گرانے کے بجائے اونچا کرتی ہے۔‘‘
یہی وجہ ہے کہ آج بھی موٹیویشنل تقاریر میں پتنگ کی آڑان کی مثال دی جاتی ہے۔
بسنت اور پتنگ، دو الگ الگ کہانیاں
تاریخ، اساطیر اور ادب اس بات پر متفق ہیں کہ:
- بسنت کا تعلق بہار، پھولوں اور روحانیت سے ہے
- پتنگ بازی کا تعلق قدیم دیوتاؤں، رسومات اور بعد میں تفریح سے جڑا
لاہور کی بسنت دراصل ان دونوں روایات کا امتزاج ہے—
ایک طرف صوفیانہ رنگ، دوسری طرف آسمان سے باتیں کرتی پتنگیں اور اس تہوار مین سب رنگ جھلکتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں مگر جدید مانجھیں دھاتی تاروں نے اس تہوار کا قاتل تہوار بنا دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئِے
