اگر کوئی شخص پاکستان سے کسی گلف ممالک میں جا کر مزدوری کر نے کے با رئے میں پلان بنا رہا ہے تو اس کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ ان کو جانے سے قبل پاکستان میں مسائل سے بھرپور کئی مراحل سے گزرنا ہو گا۔
یہ وہ پاکستانی ہیں جوکہ بیرون ملک محنت مزدوری کرتے ہیں لیکن پاکستان کو سب سے زیادہ 40 ارب ڈالر تک سالانہ زرمبادلہ کی صورت میں بھجواتے ہیں۔
بیرون ملک جا نے والی مین پاور کے لیے اداروں نے مسائل کھڑے کر دئیے اب کوئی بھِی شخص جو کہ کسی بھی رجسٹرڈ پروموٹر کے ذریعے بیرون ملک جانا چاہتا ہے تو سرکاری روکاٹیں سامنے کھڑی ہو جاتی ہیں۔
لیبر کلاس کو پاکستان میں ویزے، میڈیکل اور نیوٹیک سرٹیفکیٹ کے حصول کے لیے لاکھوں روپے خرچ کرنے پڑتے ہیں۔
موجودہ حکومت کے دور میں ہی رجسٹرڈ اداروں سے میڈیکل کرانے کی فیس کو تقریباً دس ہزار روپے تک بڑھا دیا گیا اور وہ بھی ان کو ایک بار کلئِر نہیں کرتے بلکہ اس عمل کو ادارے دہراتے ہیں اور مین پاور کو تیس سے چالیس ہزار صرف میڈیکل کی مد میں ہی ادا کرنے ہوتے ہیں۔
اس کے علاوہ لیبر کلاس کے لیے سرٹیفکیٹ جو کہ نیوٹک ادارہ دیتا ہے وہ ضروری کر دیا گیا ہے اس کے بغیر وہ بیرون ملک نہی جا سکتے۔
کوئی بھی شخص جو کہ مزدوری کے لیے بیرون ملک جانے کا ارادہ رکھتا ہے تو کو ویزا پراسس میں بھاری رقم ادا کرنا پڑتی ہے حالانکہ لیبر کلاس اس وقت سب سے زیادہ رقم زر مبادلہ کی صورت مین بھجواتی ہے۔
یہ بھی پڑھئِے

