لاہور میں مال روڈ پر واقع 140 سالہ تاریخی سالگرہ کے موقع پر ایچیسن کالج کے کیمپس میں واقع گوردوارہ صاحب میں 80 سال بعد سکھ برادری نے عبادت کا انعقاد کیا گیا۔
گوردارہ کا سنگ بنیاد 1910 میں پٹیالہ کے مہاراجہ بھوپندر سنگھ نے رکھا تھا،مہاراجہ بھوپندر سنگھ خود اس سے پہلے 1904 سے 1908 تک کالج میں تعلیم حاصل کر چکے تھے
ایچی سن کے اعزازی سفیر ڈاکٹر ترنجیت سنگھ کی جانب سے جاری بیان مین کہا گیا کہ بدھ کی صبح لگ بھگ 80 سال بعد کالج میں عبادت کا تاریخی عبادت کا انعقاد کیا گیا اور اس دوران جہاں جذباتی مناظر دیکھے میں آئے۔
ایچیسن کالج وہ کالج ہے جہاں بچے کے ساتھ ساتھ اس کے والدین کا بھی داخلے کے وقت انٹریو کیا جاتا ہے اورمعیار کو برقرار رکھنے کے لیے بچے کا خاندانی تعلق بھی مد نظر رکھا جاتا ہے کہ ان میں کتنی شرافت اور تربیت ہے اور کتنا پڑھا لکھا خاندان ہے۔
ایچیسن کالج کی تاریخ قیام پاکستان سے پہلے شروع ہوتی ہے۔ کالج کی ویب سائٹ کے مطابق:’ایچی سن کالج انگریزوں نے ایک اعلیٰ تعلیمی ادارے کے طور پر قائم کیا تھا جہاں پنجاب کے حکمران، سربراہوں کے رشتہ داروں، اچھے خاندان کے نوجوان اور نابالغوں کو کورٹ آف وارڈز کی سرپرستی میں تعلیم دی جا سکے۔‘
اس تعلیمی ادارے کی بنیاد امبالہ کے وارڈز کالج کی مدد سے 1864 میں رکھی گئی، جب یہاں صرف 12 لڑکوں کو داخلہ دیا گیا۔ ایچی سن کالج کو دو جنوری 1886 کو پنجاب چیفس کالج کا نام دیا گیا تھا۔

کالج کی موجودہ عمارت کا سنگ بنیاد تین نومبر 1886 کو ارل آف ڈفرن اینڈ آوا، وائسرائے اور گورنر جنرل آف انڈیا نے نمائندہ اسمبلی کی ایک بہت بڑی تعداد، جن میں یورپی اور مقامی، بشمول ڈیوک اور ڈچز آف کناٹ، کاؤنٹیس آف ڈفرن، سر چارلس ایچی سن، صوبے کے حکمران سربراہ شامل تھے، کی موجودگی میں رکھا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’سنہ 1947 سے گوردوارہ سکھ طلبا کی کمی کی وجہ سے بند کیا گیا تھا لیکن کالج نے اس کا خیال رکھا۔ گوردوارے میں خصوصی عبادت کا انعقاد کالج کی 140ویں سالگرہ کے موقع پر کیا گیا۔
واضع رہے کہ ایچیسن کالج کا سنگ بنیاد 3 نومبر 1886 کو رکھا گیا اس وقت پنجاب کے شاہی خاندانوں کے افراد کو تعلیم فراہمی کے لیے اس کا اہتمام کیا گیا۔
13 نومبر 1886 کو اس کا نام چیفس کالج سے تبدیل کر کے ایچی سن کالج رکھا گیا، اس نام کی وجہ سر چارلس امپرسٹن ایچی سن کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنا تھا، جن کی کوششوں سے یہ کالج قائم ہوا تھا۔
ایچیسن گوردوارہ کو اس وقت کے میو سکول آف آرٹس (اب نیشنل کالج آف آرٹس) کے مشہور سکھ معمار رام سنگھ نے ڈیزائن کیا تھا۔
پٹیالہ کے شاہی خاندان نے عمارت کے لیے چندہ اکٹھا کیا اور گردوارہ کی عمارت اگلے ایک یا دو سال میں مکمل ہو گئی اور اسے وقف کر دیا گیا جہاں سکھ طلبہ روزانہ شام کی عبادت میں شرکت کرتے تھے
عموماً یہ کہا جاتا ہے کہ ایچی سن میں داخلہ لینا کوئی آسان کام نہیں کیوں کہ یہاں پر داخلے کے لیے ہر بچے کو ایک ٹیسٹ دینا ہوتا ہے۔

ایچیسن کالج لاھور میں سابق صدرپاکستان سردار فاروق احمد خان لغاری، سابق وزرائے اعظم ملک فیروز خان نون، میر ظفر اللہ خان جمالی، عمران خان، سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، سابق وزرا شاہ محمود قریشی، پرویز خٹک اور جسٹس منصور علی شاہ ، اعتزاز احسن اور سلمان اکرم راجہ شامل زیر تعلیم رہے ہیں۔
کچھ مشہور شخصیات میں یوسف صلاح الدین، نواب افتخار علی خان پٹودی (انڈین کرکٹ ٹیم کے کپتان) بھی کالج میں پڑھ چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھئیے


