ذرائع کے مطابق 11 اور 12 مارچ کو ہونے والی نیلامی میں انڈین ملکیت سے منسلک چار فرنچائزز پاکستانی کرکٹرز کو خریدنے کا ارادہ نہیں رکھتیں۔
پاکستان سے تعلق رکھنے والے 67 کرکٹرز نے مارچ میں ہونے والی ٹی 20 لیگ ’دی ہنڈرڈ‘ کے لیے خود کو رجسٹر کروایا ہے۔
اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ محض اسپورٹس بزنس کا فیصلہ نہیں بلکہ بین الاقوامی کرکٹ میں امتیازی رجحانات پر ایک نئی بحث کو جنم دے سکتا ہے۔
مارچ میں ہونے والی انگلینڈ کی معروف ٹی 20 لیگ The Hundred کے لیے پاکستان سے تعلق رکھنے والے 67 کرکٹرز نے رجسٹریشن کروا لی ہے۔ بظاہر یہ ایک معمول کی خبر معلوم ہوتی ہے، لیکن پس منظر میں چلنے والی بحث نے اس معاملے کو خاصا حساس بنا دیا ہے۔
دی ہنڈرڈ میں شامل آٹھ ٹیموں میں سے چار، یعنی مانچسٹر سُپر جائنٹس، اہم آئی لندن، ساؤدرن بریو اور سنرائزرز لیڈز، جزوی طور پر اُن کمپنیوں کی ملکیت میں ہیں، جن کے پاس آئی پی ایل کی ٹیموں کا بھی کنٹرول ہے۔
مائیکل وان کی کھلی تنقید
The ECB need to act fast on this .. they own the league and this should not be allowed to happen .. the most inclusive sport in the country is not one that allows this to happen .. https://t.co/IYysTSIYHt
— Michael Vaughan (@MichaelVaughan) February 20, 2026
انگلینڈ کے سابق کپتان Michael Vaughan نے اس معاملے پر سخت ردِعمل دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کھلاڑیوں کو ان کی قومیت کی بنیاد پر نظر انداز کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔
انہوں نے England and Wales Cricket Board سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری اقدام کرے کیونکہ کرکٹ ایسا کھیل ہے جو معاشرے کو جوڑنے کا ذریعہ بنتا ہے، تقسیم کا نہیں۔
کن کھلاڑیوں کی نظریں نیلامی پر؟

رجسٹر ہونے والے نمایاں پاکستانی مرد کرکٹرز میں Shaheen Shah Afridi, سلمان آغا، صائم ایوب، عثمان طارق اور Haris Rauf شامل ہیں۔ شاہین اور رؤف ماضی میں دی ہنڈرڈ کھیل چکے ہیں۔
خواتین کرکٹرز میں منیبہ علی، سعدیہ اقبال، ڈیانا بیگ اور فاطمہ ثنا شامل ہیں.
تاہم اب تک کسی پاکستانی خاتون کھلاڑی کو اس لیگ میں موقع نہیں ملا۔
آئی پی ایل سے جڑی فرنچائزز اور ’غیر تحریر شدہ اصول‘
ذرائع کا کہنا ہے کہ دی ہنڈرڈ کی آٹھ ٹیموں میں سے چار ٹیمیں ایسی کمپنیوں کی ملکیت میں ہیں جن کا تعلق Indian Premier League سے ہے۔ انہی ٹیموں کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وہ پاکستانی کھلاڑیوں میں دلچسپی نہیں رکھتیں۔

دیگر لیگز کی مثالیں
جنوبی افریقہ کی SA20 میں کسی پاکستانی کھلاڑی کو شامل نہیں کیا گیا، جبکہ اس کی تمام ٹیمیں آئی پی ایل فرنچائزز کی ملکیت ہیں۔
اسی طرح متحدہ عرب امارات کی International League T20 میں بعض انڈین ملکیت والی ٹیموں نے چاروں سیزنز میں کسی پاکستانی کھلاڑی کو سائن نہیں کیا۔
تاہم ایک امریکی کمپنی کی ملکیت والی ٹیم ڈیزرٹ وائپرز نے آٹھ پاکستانی کھلاڑیوں کے ساتھ معاہدے کیے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مسئلہ عالمی نہیں بلکہ مخصوص ملکیتی ڈھانچوں سے جڑا ہو سکتا ہے۔
پی سی بی کا مؤقف اور دستیابی کا سوال

پاکستان کی مینز ٹیم اس دوران ویسٹ انڈیز میں ٹیسٹ سیریز کھیل رہی ہو گی، تاہم وائٹ بال ماہر کھلاڑی نیلامی کے لیے دستیاب ہوں گے۔
ماضی میں Pakistan Cricket Board نے این او سیز کے معاملے پر سختی دکھائی.
مگر حالیہ بگ بیش لیگ میں پاکستانی کھلاڑیوں کی شمولیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب کچھ لچک موجود ہے۔
مساوات یا کاروباری مفاد؟
ورلڈ کرکٹرز ایسوسی ایشن کے چیف ایگزیکٹو ٹام موفٹ کے مطابق ہر کھلاڑی کو منصفانہ اور برابری کے مواقع ملنے چاہییں۔ مالکان کو خودمختاری ضرور حاصل ہے، لیکن فیصلے انصاف اور احترام کے اصولوں کے مطابق ہونے چاہییں۔
گزشتہ برس ای سی بی نے دی ہنڈرڈ کی فرنچائزز میں 49 فیصد حصص فروخت کر کے تقریباً 500 ملین پاؤنڈ کی نجی سرمایہ کاری حاصل کی۔ اس سرمایہ کاری کے بعد لیگ کا کاروباری ماڈل مزید بین الاقوامی ہو چکا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس عمل میں کھیل کی بنیادی اقدار متاثر ہو رہی ہیں؟
سماجی پہلو بھی اہم
گریٹر مانچسٹر اور لیڈز جیسے شہروں میں پاکستانی نژاد آبادی نمایاں ہے۔ ای سی بی نے 2018 میں ساؤتھ ایشیئن ایکشن پلان متعارف کروایا تھا تاکہ جنوبی ایشیائی کمیونٹی سے روابط بڑھائے جائیں۔
ایسے میں اگر پاکستانی کھلاڑیوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے تو یہ پیغام تضاد کا شکار ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئِے


