ماہرینِ فلکیات نے کہکشاں (ملکی وے) کی ایسی نئی اور حیران کن تصاویر جاری کی ہیں جن سے ستاروں کی پیدائش کے عمل کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد مل رہی ہے۔
یہ تصاویر یورپی سدرن آبزرویٹری نے جاری کی ہیں اور انہیں چلی کے صحرائے اٹاکاما میں نصب طاقتور ریڈیو ٹیلی اسکوپ سسٹم ALMA کے ذریعے لیا گیا ہے۔
I think we all agree with photographer David Margo that his photo is “a reminder of how the night reshapes a place and how the Milky Way can soften even the eeriest corners of the landscape.” pic.twitter.com/CvgHjYgZFS
— Anthony Sider (@BudgetDude) February 27, 2026
یہ اب تک کی سب سے بڑی تصویر ہے جو اس دوربین نیٹ ورک نے تیار کی ہے۔
تصویر میں ہماری کہکشاں کے مرکزی حصے کو دکھایا گیا ہے، جسے سینٹرل مالیکیولر زون کہا جاتا ہے۔ یہ علاقہ زمین سے تقریباً 650 نوری سال کے وسیع حصے پر پھیلا ہوا ہے اور یہاں نہایت ٹھنڈی مگر گھنی کائناتی گیس موجود ہے۔ یہی گیس آگے چل کر نئے ستاروں کی تشکیل کا سبب بنتی ہے۔
عام آنکھ سے یہ علاقہ نظر نہیں آتا کیونکہ اس کے گرد گرد و غبار کی موٹی تہہ موجود ہے، لیکن جدید دوربینوں نے اس دھند کے پیچھے موجود گیس کے جال جیسے ڈھانچے کو واضح کر دیا ہے۔ یہ گیس باریک دھاریوں کی شکل میں جمع ہو کر گھنے حصے بناتی ہے، جہاں نئے ستارے جنم لیتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ان تصاویر سے ہمیں یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ کائنات کے ابتدائی دور میں ستارے کیسے بنے ہوں گے۔ یہ دریافت نہ صرف ہماری کہکشاں کے بارے میں معلومات بڑھاتی ہے بلکہ پوری کائنات کی ابتدا کو سمجھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔


