پاکستان نے سری لنکا کو شکست تو دے دی لیکن مطلوبہ مارجن سے کامیابی حاصل نہ کرنے کے باعث قومی ٹیم ناٹ آؤٹ مرحلے میں جگہ نہ بنا سکی۔
کینڈی میں کھیلے گئے اہم میچ میں پاکستان کو سیمی فائنل کی دوڑ میں برقرار رہنے کے لیے کم از کم 65 رنز سے فتح درکار تھی، لیکن یہ ہدف پورا نہ ہو سکا۔
پاکستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 212 رنز کا بڑا اسکور بنایا اور بظاہر مضبوط پوزیشن میں دکھائی دے رہا تھا۔
جواب میں سری لنکا نے جارحانہ انداز اپنایا اور 16ویں اوور کی پانچویں گیند پر 148 رنز کا ہدف عبور کر لیا، جس کے ساتھ ہی پاکستان کی ٹورنامنٹ میں پیش قدمی کا راستہ بند ہوگیا۔
سری لنکن بیٹرز نے بھرپور مقابلہ کرتے ہوئے 207 رنز اسکور کیے۔
اس نتیجے کے بعد گروپ ٹو سے سیمی فائنل میں پہنچنے والی دوسری ٹیم بن گئی، جبکہ پہلے ہی اگلے مرحلے کے لیے کوالیفائی کر چکی تھی۔
میچ میں سری لنکن کپتان نے ٹاس جیت کر پاکستان کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی۔ قومی ٹیم میں نمایاں تبدیلیاں کی گئیں؛ ، اور کو آرام دیا گیا، جبکہ ، اور کو پلیئنگ الیون میں شامل کیا گیا۔
بیٹنگ میں نے شاندار سنچری اسکور کر کے ٹورنامنٹ میں نئی تاریخ رقم کر دی۔ وہ میچ سے قبل کے 2014 کے ورلڈ کپ میں بنائے گئے 319 رنز کے ریکارڈ سے صرف 38 رنز دور تھے۔
فرحان نے ایک چوکا لگا کر اپنا اسکور 40 تک پہنچایا اور یوں کوہلی کا ریکارڈ توڑ دیا، جس کے بعد وہ ایونٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹر بن گئے۔
ان کا ساتھ فخر زمان نے دیا، جنہوں نے 84 رنز کی دھواں دار اننگز کھیلی۔ دونوں کے درمیان 176 رنز کی شاندار شراکت قائم ہوئی جو میچ کی خاص بات رہی۔
اگرچہ پاکستان نے میچ جیت لیا، لیکن مطلوبہ بڑے مارجن سے کامیابی نہ ملنے کے باعث قومی ٹیم کا ورلڈ کپ سفر اختتام پذیر ہوگیا۔


