امریکا کی سابق نائب صدر کملا ہیرس نے ایران پر بڑے پیمانے پر امریکی فوجی حملوں اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
ایک بیان میںانہوں نے کہا کہ امریکی عوام نہیں چاہتے۔‘‘ ان کے مطابق یہ اقدام ’’عزم کے لبادے میں لپٹی لاپرواہی‘‘ ہے جو نہ صرف امریکی جانوں کو خطرے میں ڈال سکتا ہے بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام کو بھی بڑھا سکتا ہے۔
انہوں نے اس کارروائی کو ’’خطرناک اور غیر ضروری جوا‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایران میں حکومت کی تبدیلی کے لیے کسی جنگ کی حمایت نہیں کرتیں۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکی فوجیوں کو ایک ’’انتخابی جنگ‘‘ کی خاطر خطرے میں ڈالا جا رہا ہے۔
کملا ہیرس نے آئینی نکات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صدر کو کسی بھی بڑے جنگی اقدام سے قبل کانگریس کی منظوری درکار ہوتی ہے، لہٰذا کانگریس کو چاہیے کہ وہ اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے مزید عسکری پیش قدمی کو روکے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ امریکا ایران کے ممکنہ خطرات سے آگاہ ہے اور اسے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، مگر ان کے بقول موجودہ راستہ اس مسئلے کا مؤثر حل نہیں ہے۔
اپنے بیان کے اختتام پر کملا ہیرس نے امریکی فوجیوں کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ خطرناک مشنز پر تعینات اہلکاروں کے لیے دعاگو ہیں، اور امریکا کو ’’جنگی جنون‘‘ کے بجائے ذمہ دار اور متوازن قیادت کی ضرورت ہے تاکہ عوام، اتحادیوں اور فوجیوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھئیے


