سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے سفارتی علاقے میں منگل 3 مارچ کی صبح زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
عینی شاہدین کے مطابق دھماکے اتنے شدید تھے کہ سفارتی کوارٹر کے مختلف حصوں میں کھڑکیاں لرز اٹھیں اور کچھ دیر بعد علاقے میں سیاہ دھوئیں کے بادل دکھائی دینے لگے۔
خبر رساں ادارے Reuters نے دو باخبر ذرائع کے حوالے سے بی بی سی نے رپورٹ کیا ہے کہ دھماکے کے بعد ریاض میں واقع امریکی سفارت خانے کی عمارت میں آگ بھڑک اٹھی۔
دوسری جانب امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ’ہمارا مشن ان کی بیلسٹک میزائل صلاحیتوں کو تباہ کرنا ہے۔
‘ ادھر امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے خلیجِ عمان میں ایران کے 11 جہاز ڈبو دیے ہیں، اور ایران کے خلاف جاری کارروائی میں مارے جانے والے امریکی فوجیوں کی تعداد چھ تک پہنچ گئی۔
اسی طرح Agence France-Presse نے چار عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا کہ ریاض کے سفارتی علاقے میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں اور غیر ملکی سفارت خانوں اور سفارت کاروں کی رہائش گاہوں کے اطراف دھواں دیکھا گیا۔
سعودی فوج کے ترجمان کے مطابق امریکی سفارت خانے کو دو ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پر فوری قابو پا لیا گیا اور حفاظتی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔امریکی سفارت خانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں تصدیق کی کہ واقعے کے نتیجے میں عمارت میں محدود آگ لگی اور معمولی مادی نقصان ہوا، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
امریکی مشن برائے سعودی عرب نے ریاض، جدہ اور ظہران میں موجود امریکی شہریوں کے لیے “شیلٹر اِن پلیس” ہدایت جاری کرتے ہوئے انہیں گھروں یا محفوظ مقامات پر رہنے کا مشورہ دیا ہے۔
مشن نے خطے میں فوجی تنصیبات کے قریب غیر ضروری سفر سے بھی گریز کی ہدایت کی ہے۔یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ایران کی جانب سے امریکی فضائی حملوں کے جواب میں خطے میں کشیدگی بڑھ چکی ہے۔
ایران نے حالیہ دنوں میں سعودی عرب سمیت خلیج فارس کے ممالک پر میزائل اور ڈرون حملوں کی رفتار تیز کر دی ہے، جس کے باعث پورا خطہ غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔
یہ بھی پڑھئیے


