پاکستان میں جدید موبائل انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کے آغازجی اسپیکٹرم نیلامی کا دوسرا مرحلہ مکمل ہو گیا۔
اس نیلامی کے ح میں حکومت کو مجموعی طور پر 510 ملین ڈالر یعنی تقریباً 142 ارب روپے کا ریونیو حاصل ہوا ہے۔
جہاں 55جی ٹیکنالوجی کے متعارف ہونے سے انٹرنیٹ کی رفتار میں نمایاں اضافہ ہوگا اور صارفین کو پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیز اور مستحکم انٹرنیٹ میسر آئے گا۔
اس کے ذریعے ویڈیوز دیکھنا، بڑی فائلیں ڈاؤن لوڈ کرنا، آن لائن گیمز کھیلنا اور ویڈیو کال کرنا زیادہ آسان اور بغیر تاخیر کے ممکن ہو سکے گا۔ اس کے علاوہ ایک ہی وقت میں زیادہ صارفین نیٹ ورک استعمال کر سکیں گے اور رفتار میں کمی کا مسئلہ بھی کم ہو جائے گا۔
ماہرین کے مطابق 5جی ٹیکنالوجی سے ڈیجیٹل معیشت کو بھی فروغ ملے گا۔ بہتر انٹرنیٹ کی بدولت فری لانسنگ، ای کامرس اور آن لائن کاروبار کے مواقع بڑھیں گے جبکہ سمارٹ شہروں، جدید صنعتی ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ آف تھنگز (IoT) جیسے شعبوں میں بھی ترقی کے نئے امکانات پیدا ہوں گے
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے چیئرمین حفیظ الرحمان کے مطابق نیلامی کے دوران 2600 اور 3500 میگا ہرٹز بینڈز میں پوزیشننگ کے لیے ٹیلی کام کمپنیوں نے بولیاں لگائیں۔ 2600 میگا ہرٹز بینڈ کی بولی تین راؤنڈز میں مکمل ہوئی جبکہ 3500 میگا ہرٹز بینڈ کے لیے پانچ راؤنڈز تک مقابلہ جاری رہا۔
حکام کے مطابق اس نیلامی میں مجموعی طور پر 480 میگا ہرٹز اسپیکٹرم فروخت کیا گیا، جو پاکستان کی تاریخ کی بڑی اسپیکٹرم نیلامیوں میں سے ایک قرار دی جا رہی ہے۔نیلامی میں ملک کی تین بڑی موبائل کمپنیوں جاز، یوفون اور زونگ نے حصہ لیا۔
نتائج کے مطابق جاز نے 190 میگا ہرٹز، یوفون نے 180 میگا ہرٹز جبکہ زونگ نے 110 میگا ہرٹز اسپیکٹرم حاصل کیا۔پی ٹی اے حکام کے مطابق 2300 اور 2600 میگا ہرٹز بینڈ کے تمام لاٹس فروخت ہو چکے ہیں جبکہ 3500 میگا ہرٹز کے 28 میں سے 22 لاٹس کمپنیوں کو الاٹ کیے گئے ہیں۔
وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ کا کہنا ہے کہ 5جی ٹیکنالوجی ملک کے ڈیجیٹل پاکستان وژن کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی اور اس سے تیز رفتار انٹرنیٹ اور جدید ڈیجیٹل خدمات کے فروغ میں مدد ملے گی۔ماہرین کے مطابق 5جی ٹیکنالوجی متعارف ہونے سے نہ صرف موبائل انٹرنیٹ کی رفتار میں نمایاں اضافہ ہوگا بلکہ ڈیجیٹل سروسز، ای کامرس، فری لانسنگ اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بھی نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
نیلامی مکمل ہونے کے بعد کمپنیوں کو لائسنس جاری کیے جائیں گے اور توقع ہے کہ آنے والے چند ماہ میں ملک کے بڑے شہروں میں مرحلہ وار بنیادوں پر 5جی سروسز متعارف کرا دی جائیں گی


