اسلام آباد (اردو رپورٹ) ایران امریکہ اس را ئیل جنگ کے باعث عالمی تیل کی قیمتیں $105 سے $112 فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔
کیا ایسے حالات میں پاکستان ایران سے سستا تیل خرید سکتا ہے ۔
پاکستان ایرانی تیل بالکل خریدنے کا اختیار رکھتا ہے۔ عالمی منڈی مین تیل کی قیمتوں پر کنٹرول رکھنے کی وجہ سے امریکہ نے ایرانی تیل کی خریداری پر 30 دن کی عارضی چھوٹ دی ہو ئی ہے۔
لیکن پاکستان کو ایران سے تیل کی خریداری پر ثانوی پابندیوں اور شپنگ کے خطرات کی وجہ سے بڑی درآمدی مشکلات درپیش ہوں گی۔
اگر ایران کی جانب سے خریداری پر پاکستان کو کوئی سپیشل ڈسکاونٹ نہیں دیا جاتا تو پھر بھی ایرانی تیل اگر خریدا جائے تو ایرانی تیل Brent سے $8-10 سستا پڑ سکتا ہے، یعنی تقریباً $95-104 فی بیرل۔
دوسری طرف چین ایرانی تیل کی سب سے بڑی خریدار ہے.چین کوایرانی تیل $8-10 فی بیرل ڈسکاؤنٹ پر مل رہا ہے۔ چین نے روسی تیل کی درآمدات بھی 40% بڑھا دیں ہیں ۔
تیل کی قیمتوں کا موازنہ

عالمی Brent crude کی موجودہ قیمت تقریباً $105 سے $112 فی بیرل کے قریب ہے ۔
(جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے)۔
ایرانی تیل عام طور پر $8 سے $10 فی بیرل ڈسکاؤنٹ پر ملتا ہے (چین کی طرح)۔
یعنی پاکستان کو تقریباً $95 سے $104 فی بیرل کے درمیان پڑ سکتا ہے (ڈسکاؤنٹ کے بعد)۔
خطرناک شپنگ، انشورنس، اور غیر رسمی ادائیگی کی وجہ سے مجموعی قیمت عالمی مارکیٹ سے سستی بھی پڑ سکتی ہے لیکن ریسک کی وجہ سے مہنگی ہو جاتی ہے۔
پاکستان میں پیٹرول/ڈیزل کی قیمتیں اس وقت بھی جنگ کی وجہ سے دباؤ میں ہیں۔
ایران پاکستان گیس پائپ لائن کا پس منظر
پاکستان اور ایران کے درمیان گیس پائپ لائن (IP Gas Pipeline) کا معاہدہ مارچ 2010 میں انقرہ میں ہوا تھا۔
اس کا مقصد ایران سے 750-1000 ملین کیوبک فٹ گیس یومیہ لانا تھا۔
ایران نے اپنا حصہ 2011 میں مکمل کر لیا، لیکن پاکستان امریکی پابندیوں کی وجہ سے 2014 سے اپنا حصہ نہیں بنا سکا۔
پاکستان نے Force Majeure نوٹس جاری کر کے ذمہ داریاں معطل کر دیں۔
اب جنوری 2026 میں پاکستان منصوبہ ختم کرنے کے لیے out-of-court settlement کی بات کر رہا ہے، جبکہ ایران 10 سالہ توسیع دینے کو تیار ہے۔ ممکنہ جرمانہ $18 بلین تک بتایا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئِے


