اردوEnglish
ہفتہ, 17 اکتوبر 2026
  • Home  
  • عمران خان سے ملاقات تک مذاکرات بند، محمود اچکزئی کی اپوزیشن رہنماؤں کو ہدایت
- دنیا

عمران خان سے ملاقات تک مذاکرات بند، محمود اچکزئی کی اپوزیشن رہنماؤں کو ہدایت

محمود خان اچکزئی نے اپوزیشن رہنماؤں کو عمران خان سے ملاقات تک حکومت سے مزید مذاکرات روکنے کی ہدایت کر دی۔ دوسری جانب مولانا فضل الرحمان نے ثالثی کے لیے پانچ شرائط رکھ دیں۔

اردو رپورٹ ڈیسک

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے اپوزیشن رہنماؤں راجا ناصر عباس، بیرسٹر گوہر علی خان اور اسد قیصر کو ہدایت کی ہے کہ بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان سے ملاقات تک حکومت کے ساتھ مزید مذاکرات نہ کیے جائیں۔

ذرائع کے مطابق محمود خان اچکزئی نے تینوں اپوزیشن رہنماؤں سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور انہیں ہدایت کی کہ وہ عمران خان سے ملاقات کے مطالبے پر قائم رہیں اور اس معاملے پر کسی متبادل تجویز کو قبول نہ کریں۔

محمود اچکزئی نے واضح کیا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات آگے بڑھانے کے لیے عمران خان سے ملاقات کی شرط پر سمجھوتہ نہیں کیا جانا چاہیے۔

مولانا فضل الرحمان کی ثالثی

دوسری جانب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات میں تعطل کے باعث دونوں فریق جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو ثالث بنانے پر آمادہ دکھائی دیتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لیے حکومت اور اپوزیشن کے سامنے پانچ شرائط رکھی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ وہ پہلے دونوں فریقوں کی جانب سے مسئلے کے حل کے لیے سنجیدگی کا جائزہ لیں گے، جس کے بعد ثالثی کے بارے میں فیصلہ کریں گے۔

مولانا فضل الرحمان حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے اپنی شرائط پر دیے جانے والے جوابات کا جائزہ لینے کے بعد طے کریں گے کہ آیا وہ مذاکراتی عمل میں ثالث کا کردار ادا کریں گے یا نہیں۔

سنجیدہ کوششیں

مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت اور اپوزیشن بنیادی امور پر اتفاق کر لیں تو وہ اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہوں گے۔ ان کے مطابق سنجیدہ اور مخلصانہ کوششوں کے ذریعے اب بھی مسئلے کا حل نکالا جا سکتا ہے۔

انہوں نے دونوں فریقوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے مؤقف کو تسلیم کریں اور باہمی لچک کا مظاہرہ کریں، کیونکہ اسی صورت میں کسی درمیانی راستے پر پہنچنا ممکن ہو سکتا ہے۔

لانگ مارچ کے خلاف طاقت سے گریز

مولانا فضل الرحمان نے خبردار کیا ہے کہ اگر مذاکرات میں تعطل برقرار رہا اور لانگ مارچ کے خلاف طاقت استعمال کی گئی تو سیاسی حل کے امکانات محدود ہو سکتے ہیں۔

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کی بحالی کی کوششوں کو اس وقت کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ عمران خان سے ملاقات کا مطالبہ اپوزیشن کا اہم مؤقف ہے، جبکہ مذاکراتی تعطل ختم کرنے کے لیے مولانا فضل الرحمان کی ثالثی کا معاملہ بھی زیر غور ہے۔

urdureport.com@2025. All Rights Reserved

Your license hasn’t been activated yet. Activate it now!