وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے ہدایت جاری کی ہے کہ 8 فروری تک جمع کرائی گئی تمام نیٹ میٹرنگ درخواستوں پر سابقہ قواعد و ضوابط کے تحت کارروائی کی جائے۔
اس فیصلے سے ملک بھر میں زیر التوا 5 ہزار 165 درخواستوں سے متعلق غیر یقینی صورتحال ختم ہو گئی ہے۔
وزارتِ توانائی کے مطابق یہ فیصلہ تمام بجلی تقسیم کار کمپنیوں بشمول K-Electric پر لاگو ہوگا۔ درخواستوں کی منظوری کے بعد قومی گرڈ میں مزید 250.822 میگاواٹ بجلی شامل ہو گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ فوری عملدرآمد کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں تاکہ تمام کمپنیاں فیصلے پر مکمل طور پر عمل کریں۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بڑھتی ہوئی بجلی قیمتوں کے باعث صارفین کی بڑی تعداد چھتوں پر سولر سسٹم نصب کر رہی ہے۔ National Electric Power Regulatory Authority (نیپرا) کے اعداد و شمار کے مطابق 2025
میں پاکستان میں نیٹ میٹرنگ کے تحت نصب شدہ مجموعی صلاحیت 2 ہزار 500 میگاواٹ سے تجاوز کر چکی ہے، جو گزشتہ تین برسوں میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
نیپرا کی 2024 کی اسٹیٹ آف انڈسٹری رپورٹ کے مطابق تقسیم شدہ سولر پیداوار میں سال بہ سال 40 فیصد سے زائد اضافہ ہوا، جس کی بڑی وجہ عالمی سطح پر سولر پینلز کی قیمتوں میں کمی اور گرڈ بجلی کے بلند نرخ ہیں۔
ریگولیٹر ماضی میں گرڈ استحکام اور صارفین کے مفادات میں توازن قائم رکھنے کے لیے نیٹ میٹرنگ قواعد میں ترامیم بھی کر چکا ہے، جس کے باعث عبوری ادوار میں درخواست گزاروں کو غیر یقینی صورتحال کا سامنا رہا۔
دریں اثنا، Alternative Energy Development Board کے مطابق پاکستان 2030 تک اپنی مجموعی بجلی پیداوار میں قابلِ تجدید توانائی کا حصہ 30 فیصد تک بڑھانے کا ہدف رکھتا ہے۔
نیٹ میٹرنگ کے تحت تقسیم شدہ سولر نظام اس حکمت عملی کا اہم جزو ہے، خصوصاً بڑے شہری مراکز میں جہاں بجلی کی طلب عروج پر رہتی ہے۔
یہ بھی پڑھئیے


