بنگلہ دیش میں عام انتخابات کل 12 فروری کو منعقد ہوں گے، جس کی تمام تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔
الیکشن کمیشن کے مطابق بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ 350 ارکان پر مشتمل ہے، جن میں سے 300 ارکان براہِ راست منتخب ہوتے ہیں جبکہ 50 نشستیں خواتین کے لیے مخصوص ہیں جو جماعتوں کو متناسب نمائندگی کی بنیاد پر دی جاتی ہیں۔
بنگلہ دیش کے چیف الیکشن کمشنر کیا کہتے ہیں؟
بنگلہ دیش کے چیف الیکشن کمشنر اے ایم ایم ناصر الدین نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن آئندہ 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات کو آزاد، منصفانہ، غیر جانبدار اور قابلِ اعتماد انداز میں منعقد کرانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
ڈھاکہ میں بین الاقوامی مبصرین اور میڈیا نمائندگان کو بریفنگ دیتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ بنگلہ دیش الیکشن کمیشن ووٹنگ اور ووٹوں کی گنتی کے تمام مراحل میں شفافیت برقرار رکھنے کے لیے پُرعزم ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ کسی بھی قسم کے تنازع، الزام یا اختلاف کو قائم شدہ قانونی طریقہ کار کے تحت نمٹایا جائے گا اور ہر قسم کی انتخابی بے ضابطگی کی سخت نگرانی کی جائے گی۔
پارلیمنٹ کی مدت 5 سال ہے، آئندہ انتخابات میں 299 حلقوں سے مجموعی طور پر 2 ہزار 28 امیدوار حصہ لے رہے ہیں۔
چیف الیکشن کمشنر نے ووٹر فہرست میں حالیہ ترامیم کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ تقریباً 45 لاکھ نئے ووٹرز کا اندراج کیا گیا ہے، جن میں 27 لاکھ خواتین شامل ہیں۔
اس طرح ملک میں رجسٹرڈ ووٹرز کی مجموعی تعداد 12 کروڑ 70 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے، حکام کے مطابق ووٹر ڈیٹا کی درستگی بہتر بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے۔
پہلی بار بیرونِ ملک مقیم بنگلہ دیشی شہری آئی ٹی سے معاونت یافتہ پوسٹل بیلٹ سسٹم کے ذریعے ووٹ ڈال سکیں گے۔
محدود تیاری کے وقت کے باوجود تقریباً 8 لاکھ اوورسیز ووٹرز نے رجسٹریشن کروا لی ہے، ملک کے اندر موجود اہل ووٹرز کے لیے بھی پوسٹل بیلٹ کی سہولت دستیاب ہوگی۔
ووٹنگ ایک ہی دن صبح ساڑھے 7 بجے سے شام ساڑھے 4 بجے تک جاری رہے گی، ووٹر ٹرن آؤٹ بڑھانے کے لیے حکومت نے عام تعطیل کا اعلان کیا ہے۔
پولنگ اور ووٹوں کی گنتی کی نگرانی الیکشن حکام پولنگ اسٹیشنز پر کریں گے اور نتائج کا اعلان موقع پر ہی کیا جائے گا، جس کے بعد ریٹرننگ افسران انہیں یکجا کریں گے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق شفافیت یقینی بنانے کے لیے ملکی اور غیر ملکی مبصرین اور صحافی موجود ہوں گے، 45 ممالک اور تنظیموں کے نمائندگان، جن میں یورپی یونین کا بڑا وفد بھی شامل ہے، انتخابات کی نگرانی کریں گے، جبکہ ملک بھر میں ہزاروں مقامی مبصرین اور صحافی بھی تعینات کیے جائیں گے۔
ناصر الدین نے مزید کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور حکومت کے تعاون سے جامع سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ کسی بھی انتخابی تنازع کو آئین اور قانون کے مطابق حل کیا جائے گا اور کمیشن پُرامن اور بھرپور عوامی شرکت والے انتخابات کے انعقاد کے اپنے عزم پر قائم ہے۔
یہ بھی پٹھئِے

