تحریر:طارق اقبال چوہدری

لائلپور (فیصل آباد) کے گاؤں بنگا سے لاھور کی سنٹرل جیل تک، ایک ایسے نوجوان کی داستان جس نے صرف 23 برس کی عمر میں برصغیر کی آزادی کی تحریک کو نئی روح بخشی، اور جسے آج بھی پاکستان اور بھارت دونوں میں احترام سے یاد کیا جاتا ہے
23 مارچ 1931 کی شام برطانوی راج کے لیے ایک عام دن نہیں تھا۔ لاہور سینٹرل جیل کی بلند و بالا دیواروں کے پیچھے تین نوجوان انقلابی اپنے انجام کے منتظر تھے۔ ان میں انگریز سامراج کو للکارنے والے دلیر نوجوان بھگت سنگھ اور ان کے دو ساتھی سکھ دیو اور راج گرو شامل تھے ۔ عام طور پر برطانوی جیلوں میں پھانسی سورج طلوع ہونے سے پہلے دی جاتی تھی، مگر اس روز روایت بدل دی گئی۔ شام کے اندھیرے میں انہیں تختہ دار کی طرف لے جایا گیا تاکہ جیل کے باہر جمع لوگوں کو اس کی خبر نہ ہو سکے۔
لاہور سنٹرل جیل (Lahore Central Jail) کے چیف سپرنٹنڈنٹ میجر پی ڈی چوپڑا (Major P. D. Chopra) خاموشی سے کارروائی کی نگرانی کر رہے تھے، جبکہ ڈپٹی جیل سپرنٹنڈنٹ محمد اکبر خان (Muhammad Akbar Khan) اپنے جذبات پر قابو پانے کی کوشش کر رہے تھے۔ تاریخی روایات کے مطابق بھگت سنگھ اپنے دونوں ساتھیوں کے درمیان چل رہے تھے۔ ان کے چہرے پر خوف نہیں بلکہ اطمینان تھا اور وہ آہستہ آہستہ یہ شعر گنگنا رہے تھے:

"دل سے نکلے گی نہ مر کے بھی وطن کی الفت، میری مٹی سے بھی خوشبوئے وطن آئے گی۔”
پھانسی گھاٹ پر پہنچ کر تینوں انقلابیوں نے اپنی آخری درخواست دہرائی کہ انہیں سیاسی قیدیوں کی حیثیت سے عام مجرموں کی طرح پھانسی دینے کے بجائے فوجیوں کی طرح گولی مار کر سزا دی جائے، مگر برطانوی حکومت نے یہ درخواست مسترد کر دی۔
جب بھگت سنگھ نے پھندے کو چوما
تاریخی حوالوں کے مطابق بھگت سنگھ نے پھانسی سے پہلے خود پھندے کو چوما اور اپنے گلے میں ڈالا۔ چند لمحوں بعد راج گرو اور سکھ دیو بھی اسی انجام سے دوچار ہوئے۔ برطانوی حکومت نے عوامی ردعمل کے خوف سے ان کی لاشیں ورثا کے حوالے کرنے کے بجائے رات کی تاریکی میں جیل کی پچھلی دیوار سے ٹرک کے ذریعے ستلج (Sutlej) کے کنارے پہنچائیں اور جلدی میں آخری رسومات ادا کرنے کی کوشش کی، مگر مقامی لوگوں کو اس کی اطلاع مل گئی۔ پولیس کے جانے کے بعد دیہاتیوں نے راکھ اور باقیات جمع کرکے تینوں انقلابیوں کی مذہبی روایات کے مطابق آخری رسومات ادا کیں۔
بھگت سنگھ کی پھانسی کی خبر پورے برصغیر میں غم اور غصے کی لہر بن کر پھیلی۔ لاہور میں مکمل ہڑتال ہوئی، بازار بند رہے اور ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔ نیلہ گمبد (Neela Gumbad) سے ایک عظیم الشان تعزیتی جلوس نکالا گیا، جو اس مقام کے قریب سے گزرا جہاں چند برس قبل جان پی سینڈرز (John P. Saunders) کو گولی ماری گئی تھی۔ تقریباً تین میل طویل اس جلوس میں ہندو، مسلمان اور سکھ ایک ساتھ شریک ہوئے۔
مردوں نے سیاہ پٹیاں باندھ رکھی تھیں جبکہ خواتین سیاہ ساڑھیوں میں احتجاج کر رہی تھیں۔ جب جلوس انارکلی بازار (Anarkali Bazaar) پہنچا تو اعلان ہوا کہ بھگت سنگھ اور ان کے ساتھیوں کی راکھ فیروزپور (Ferozepur) سے لاہور پہنچ چکی ہے۔ کچھ دیر بعد پھولوں سے سجے تین تابوت جلوس میں شامل ہوئے اور شہر کی فضا سوگوار ہو گئی۔
مولانا ظفر علی خان کی نظم،فیض احمد فیض اور چرت سنگھ
اسی موقع پر معروف صحافی اور شاعر مولانا ظفر علی خان (Maulana Zafar Ali Khan) "مولانا ظفر علی خان نے ایک نظم پڑھی جس میں بھگت سنگھ اور اس کے دونوں ساتھیوں کی آدھی جلی لاشوں کو کھلے آسمان تلے بے یار و مددگار چھوڑ دینے پر برطانوی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔
دوسری جانب لاہور جیل کے وارڈن چرت سنگھ (Charat Singh)، جنہوں نے اپنی ملازمت میں بے شمار قیدیوں کو پھانسی پر چڑھتے دیکھا تھا، اس روز خود پر قابو نہ رکھ سکے۔ وہ خاموشی سے اپنے کمرے میں گئے اور رونے لگے۔ بعد میں انہوں نے اعتراف کیا کہ انہوں نے بہت سے لوگوں کو موت کے سامنے دیکھا، مگر کسی نے بھگت سنگھ، سکھ دیو اور راج گرو کی طرح ہنستے ہوئے موت کو گلے نہیں لگایا۔
17 دسمبر 1928 کو لاہور میں جب بھگت سنگھ اور ان کے ساتھیوں نے برطانوی پولیس افسر جان پیٹرک سانڈرز (John P. Saunders) پر حملہ کیا، اس وقت نوجوان فیض احمد فیض گورنمنٹ کالج لاہور کے نیو ہاسٹل (New Hostel) میں رہتے تھے، جو جائے وقوعہ کے قریب تھا۔ بعض روایات کے مطابق فیض نے یہ واقعہ اپنی رہائش گاہ سے دیکھا تھا،
بھگت سنگھ کی زندگی
بھگت سنگھ کی پیدائش 28 ستمبر 1907 کو ضلع لائل پور (Lyallpur، موجودہ فیصل آباد کے گاؤں بنگا (Banga) میں ایک سکھ خاندان میں ہوئی۔ ان کے والد کشن سنگھ (Kishan Singh) اور چچا اجیت سنگھ (Ajit Singh) پہلے ہی آزادی کی سرگرمیوں میں شریک تھے۔ ابتدائی تعلیم آبائی گاؤں میں حاصل کرنے کے بعد وہ لاہور کے نیشنل کالج (National College Lahore) میں داخل ہوئے۔
بھگت سنگھ اردو، ہندی، پنجابی (گرمکھی)، انگریزی اور سنسکرت زبانوں پر عبور رکھنے والے بھگت سنگھ جلیانوالہ باغ (Jallianwala Bagh) کے قتل عام اور برطانوی مظالم سے شدید متاثر ہوئے اور انقلابی سیاست کی طرف مائل ہو گئے۔
لالہ لاج پت کی موت اور جان پی سینڈرز کا قتل
1928 میں جب برطانوی حکومت نے سائمن کمیشن (Simon Commission) ہندوستان بھیجا تو ملک بھر میں احتجاج شروع ہو گیا۔ لاہور میں اس احتجاج کی قیادت پنجاب کے ممتاز رہنما لالہ لاجپت رائے (Lala Lajpat Rai) کر رہے تھے، جنہیں "پنجاب کیسری (Punjab Kesari)” کہا جاتا تھا۔ پولیس کے لاٹھی چارج میں وہ شدید زخمی ہوئے اور چند ہفتوں بعد انتقال کر گئے۔ ان کی وفات نے نوجوان انقلابیوں، خصوصاً بھگت سنگھ، کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔
لالہ لاجپت رائے کی وفات کے بعد لاہور میں ایک خفیہ اجلاس ہوا، جس میں بھگت سنگھ، سکھ دیو، راج گرو، چندر شیھکر Bhagat Singh, Sukhdev Thapar, Shivaram Hari Rajguru, Chandra Shekhar Azad آزاد (Chandra Shekhar Azad) اور جئے گوپال (Jai Gopal) سمیت دیگر ساتھیوں نے شرکت کی۔ فیصلہ ہوا کہ پولیس سپرنٹنڈنٹ جیمز اے سکاٹ (James A. Scott) کو نشانہ بنایا جائے، جن پر لاٹھی چارج کا حکم دینے کا الزام تھا۔
تاہم 17 دسمبر 1928 کو شناخت میں غلطی کے باعث لاہور پولیس کے اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ جان پی سینڈرز (John P. Saunders) کو گولی مار دی گئی۔
سینڈرز کے قتل کے بعد انقلابی منصوبے کے مطابق ڈی اے وی کالج (D.A.V. College) کی طرف روانہ ہوئے، جہاں چندر شیکھر آزاد ان کی حفاظت کے لیے موجود تھے۔ اسی دوران ایک ہیڈ کانسٹیبل چنن سنگھ (Channan Singh) نے ان کا پیچھا کیا، مگر راج گرو نے اسے بھی گولی مار دی۔
اگلے روز لاہور کی دیواروں پر سرخ پوسٹر چسپاں تھے جن پر لکھا تھا: "سینڈرز مر گیا ہے۔ لالہ لاجپت رائے کا بدلہ لیا گیا ہے۔”ان تینوں بہادروں نے لالہ لاج پت کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے ٹھانی ہوئی تھی اور انہوں نے اپنا مشن مکمل کیا۔
لاھور سے فرار
سینڈرز قتل کے بعد پولیس نے پورے شہر میں سخت ناکہ بندی کر دی، مگر بھگت سنگھ نے اپنے بال کٹوا کر اور داڑھی منڈوا کر روپ بدل لیا۔ انقلابی رہنما بھگوتی چرن ووہرا (Bhagwati Charan Vohra) کی اہلیہ درگا دیوی، المعروف درگا بھابھی (Durga Devi "Durga Bhabhi”) نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر انہیں شوہر کے روپ میں لاہور سے نکالا، جبکہ راج گرو نوکر کے بھیس میں سفر کر رہے تھے۔
درگا بھابھی کون تھیں؟
درگاوتی دیوی (7 اکتوبر 1907ء – 15 اکتوبر 1999ء)، جو "درگا بھابھی” کے نام سے مشہور تھیں، برطانوی راج کے خلاف برصغیر کی انقلابی تحریک کی ایک نمایاں خاتون رہنما اور مجاہدِ آزادی تھیں۔ وہ ان چند خواتین میں شامل تھیں جنہوں نے برطانوی حکومت کے خلاف مسلح انقلابی جدوجہد میں عملی حصہ لیا۔ انہیں سب سے زیادہ اس جرات مندانہ کردار کی وجہ سے یاد کیا جاتا ہے۔
جب انہوں نے جان پی. سانڈرز کے قتل کے بعد بھگت سنگھ کے ساتھ ایک ٹرین میں ان کی اہلیہ کا روپ دھار کر سفر کیا، جس کی بدولت بھگت سنگھ بھیس بدل کر پولیس کی گرفت سے بچ نکلے۔ درگا بھابھی، ہندوستان سوشلسٹ ریپبلکن ایسوسی ایشن (HSRA) کے سرگرم رکن بھگوتی چرن ووہرا کی اہلیہ تھیں۔ اسی نسبت سے تنظیم کے دیگر انقلابی انہیں احتراماً "بھابھی” کہہ کر پکارتے تھے، اور یہی لقب بعد ازاں ان کی پہچان بن گیا، جس کے باعث وہ انقلابی حلقوں میں "درگا بھابھی” کے نام سے ہمیشہ کے لیے معروف ہوئیں۔
درگاوتی دیوی (7 اکتوبر 1907ء – 15 اکتوبر 1999ء)، انقلابی جو "درگا بھابھی" کے نام سے مشہور تھیں، انہوں نے جان پی. سانڈرز کے قتل کے بعد بھگت سنگھ کے ساتھ ایک ٹرین میں ان کی اہلیہ کا روپ دھار کر سفر کیا، جس کی بدولت بھگت سنگھ بھیس بدل کر پولیس کی گرفت سے بچ نکلے۔ pic.twitter.com/TcUyujHepn
— Urdu Report (@UrduReportpk) July 25, 2026
انقلابیوں کا احتجاج کا فیصلہ
بعد ازاں انقلابیوں نے فیصلہ کیا کہ برطانوی حکومت کی جابرانہ قانون سازی کے خلاف ایسا احتجاج کیا جائے جس کی آواز پورے ہندوستان میں گونجے۔ 8 اپریل 1929 کو بھگت سنگھ اور بٹوکیشور دت (Batukeshwar Dutt) دہلی کی سنٹرل لیجسلیٹو اسمبلی (Central Legislative Assembly) پہنچے۔ اس وقت ایوان میں محمد علی جناح (Muhammad Ali Jinnah)، موٹیلال نہرو (Motilal Nehru) اور وٹھل بھائی پٹیل (Vithalbhai Patel) سمیت کئی اہم رہنما موجود تھے۔
جیسے ہی پبلک سیفٹی بل (Public Safety Bill) اور ٹریڈ ڈسپیوٹس بل (Trade Disputes Bill) پیش کیے گئے، دونوں انقلابیوں نے کم شدت کے بم پھینکے تاکہ کسی کی جان نہ جائے مگر احتجاج کی آواز پورے ملک تک پہنچے۔ دھماکوں کے ساتھ ہی نعرے بلند ہوئے:
"انقلاب زندہ باد”
"سامراج مردہ باد”
فضا میں بکھرنے والے پمفلٹوں پر لکھا تھا:
"بہروں کو سنانے کے لیے اونچی آواز کی ضرورت ہوتی ہے۔”
بھگت سنگھ اور ساتھیوں کی گرفتاری
دھماکے کے بعد دونوں انقلابی فرار نہیں ہوئے بلکہ وہیں اپنے ہتھیار رکھ کر گرفتاری دے دی تاکہ عدالت کو اپنے نظریات بیان کرنے کا پلیٹ فارم بنایا جا سکے۔
بعد ازاں لاہور سازش کیس (Lahore Conspiracy Case) میں سینڈرز قتل کے الزام میں بھگت سنگھ، سکھ دیو اور راج گرو کو سزائے موت سنائی گئی۔ان کو دہلی کی مرکزی اسمبلی (Central Legislative Assembly) میں بم پھینکنے کے مقدمے میں پھانسی نہیں دی گئی تھی۔ اس مقدمے میں انہیں عمر قید کی سزا ہوئی تھی، لیکن بعد میں پولیس افسر کے قتل کے مقدمے میں ان پر الگ مقدمہ چلایا گیا۔
The gallows of Lahore Central Jail, where Bhagat Singh was hanged. pic.twitter.com/gjlhlTNndW
— Urdu Report (@UrduReportpk) July 25, 2026
23 مارچ 1931 کو تینوں کو لاہور سینٹرل جیل میں پھانسی دے دی گئی۔ ان کی شہادت کے 16 سال، 4 ماہ اور 23 دن بعد 15 اگست 1947 کو برطانوی راج کا خاتمہ ہوا اور ہندوستان آزاد ہو گیا۔
لاھور پونچھ ہاوس گیلری
برطانوی حکومت نے لاہور سازش کیس (Lahore Conspiracy Case) کی سماعت کے لیے ایک خصوصی ٹربیونل قائم کیا تھا۔ تاریخی ریکارڈ کے مطابق اس ٹربیونل کی کارروائیاں پونچھ ہاؤس، لاہور میں بھی ہوئیں، جہاں بھگت سنگھ، سکھ دیو تھاپر (Sukhdev Thapar) اور شیو رام راج گرو (Shivaram Rajguru) کے خلاف مقدمے کی سماعت کی گئی۔

آج پاکستان کے شہر لاہور میں واقع تاریخی پونچھ ہاؤس (Poonch House) میں بھگت سنگھ گیلری (Bhagat Singh Gallery) آج پونچھ ہاؤس پنجاب حکومت کے انتظامی دفاتر کے طور پر استعمال ہوتا ہےقائم کی جا چکی ہے، جہاں ان سے متعلق تاریخی دستاویزات، تصاویر اور عدالتی ریکارڈ محفوظ ہیں۔
مذید پڑھئِے
اسلام بی بی کا مقدمہ : جس نے برطانوی سامراج کے خلاف فقیر ایپی کی بغاوت کو جنم دیا – urdureport.com
ممتاز محل:چودھویں زچگی میں وفات پانے والی ملکہ کی محبت اور قربانی کی لازوال داستان – urdureport.com
اسی طرح ضلع فیصل آباد کے چک 105 بنگا میں ان کی آبائی حویلی اور ابتدائی سکول بھی ثقافتی ورثے کے طور پر محفوظ کیے جا چکے ہیں۔ اس سکول کے تاریخی کلاس روم میں آج بھی قائداعظم محمد علی جناح (Muhammad Ali Jinnah)، علامہ محمد اقبال (Allama Muhammad Iqbal) اور بھگت سنگھ (Bhagat Singh) کی تصاویر ایک ساتھ آویزاں ہیں، جو برصغیر کی مشترکہ تاریخ کی ایک منفرد علامت سمجھی جاتی ہیں۔
بھگت سنگھ کی شخصیت سے اختلاف
بھگت سنگھ کی جدوجہد اور فکر کے بارے میں مختلف آرا موجود ہیں، تاہم اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ انہوں نے برصغیر کی تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ ان کی جنم بھومی، لاہور کی گیلری، آبائی حویلی اور سکول آج بھی اس دور کی یاد دلاتے ہیں جب آزادی کے لیے نوجوان اپنی جانیں قربان کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے تھے۔
بھگت سنگھ خود کو ایک سوشلسٹ انقلابی سمجھتے تھے۔ ان کو پاک و ہند کے اکثریت ایک آزادی کا ہیرو تصور کرتی ہے ،انہوں نے سرمایہ دارانہ نظام، جاگیرداری اور استحصالی معاشرت کی مخالفت کی۔ ان کے مضامین، خصوصاً "میں ملحد کیوں ہوں؟” (Why I Am an Atheist) میں مذہب، ریاست اور سماجی انصاف پر ان کے خیالات سامنے آتے ہیں، جن سے مذہبی حلقوں کا ایک طبقہ اختلاف رکھتا ہے۔






