اردو رپورٹ ڈیسک
بیجنگ، 23 اگست 2026: چین میں ہونے والے ورلڈ ہیومنائیڈ روبوٹ گیمز کے دوران ایک انسان نما روبوٹ نے 100 میٹر کی دوڑ صرف 9.39 سیکنڈ میں مکمل کرکے سب کو حیران کردیا۔ روبوٹ کا یہ وقت جمیکا کے عالمی شہرت یافتہ ایتھلیٹ یوسین بولٹ کے 9.58 سیکنڈ کے انسانی عالمی ریکارڈ سے کم ہے۔
تیان گونگ الٹرا (Tiangong Ultra) نامی یہ روبوٹ بیجنگ ہیومنائیڈ روبوٹ انوویشن سینٹر نے تیار کیا ہے۔ اس نے ورلڈ ہیومنائیڈ روبوٹ گیمز کے دوسرے ایڈیشن کے ابتدائی راؤنڈ میں 100 میٹر کا فاصلہ 9.39 سیکنڈ میں طے کیا۔
یوسین بولٹ نے 2009 میں برلن میں ہونے والی ورلڈ ایتھلیٹکس چیمپئن شپ کے دوران 9.58 سیکنڈ میں 100 میٹر دوڑ کر انسانی دنیا کا عالمی ریکارڈ قائم کیا تھا۔
دوڑ کے دوران تیان گونگ الٹرا نے ایک اور چینی ہیومنائیڈ روبوٹ لائٹننگ (Lightning) کو آخری مرحلے میں پیچھے چھوڑ دیا۔ چینی اسمارٹ فون کمپنی Honor کی جانب سے تیار کردہ لائٹننگ نے 100 میٹر کا فاصلہ 9.47 سیکنڈ میں مکمل کیا، جو یوسین بولٹ کے انسانی ریکارڈ سے بھی تیز وقت ہے۔
چینی ہیومنائیڈ روبوٹ نے 100 میٹر کی دوڑ 9.39 سیکنڈ میں مکمل کی، جو یوسین بولٹ کے 9.58 سیکنڈ کے عالمی ریکارڈ سے کم وقت ہے۔
WATCH: Robot beats human's world record
A Chinese humanoid robot ran 100 meters in 9.39 seconds, faster than Usain Bolt's legendary world record 9.58 seconds. pic.twitter.com/160vYMQDR3
— Insider Paper (@TheInsiderPaper) August 23, 2026
آنر کے روبوٹ کا کمال
Honor کا ہیومنائیڈ روبوٹ لائٹننگ سرکاری مقابلے سے پہلے ہی اپنی رفتار کی وجہ سے توجہ حاصل کرچکا تھا۔ کمپنی کے مطابق روبوٹ نے ایک آزمائشی دوڑ میں 100 میٹر کا فاصلہ 9.32 سیکنڈ میں مکمل کیا تھا۔
یہ روبوٹ رواں سال بیجنگ میں ہونے والی 21 کلومیٹر کی ہیومنائیڈ روبوٹ ہاف میراتھن میں بھی شریک ہوا، جہاں اس نے فاصلہ 50 منٹ 26 سیکنڈ میں طے کیا۔
رپورٹس کے مطابق روبوٹ کی دوڑنے کی صلاحیت بہتر بنانے کے لیے مقابلے سے قبل اس کی ٹانگوں کی لمبائی میں تقریباً 10 سینٹی میٹر اضافہ کیا گیا۔
روبوٹس کے مقابلے
ورلڈ ہیومنائیڈ روبوٹ گیمز صرف 100 میٹر کی دوڑ تک محدود نہیں۔ ان مقابلوں میں ہیومنائیڈ روبوٹس کو فٹبال، ٹیبل ٹینس، باکسنگ سمیت مختلف جسمانی سرگرمیوں میں اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع دیا جارہا ہے۔
پانچ روزہ ایونٹ میں 51 مختلف مقابلے شامل ہیں، جن میں 2 ہزار سے زائد ہیومنائیڈ روبوٹس حصہ لے رہے ہیں۔ ان مقابلوں کا مقصد روبوٹس کی رفتار، توازن، حرکتی ہم آہنگی، مصنوعی ذہانت اور پیچیدہ کام انجام دینے کی صلاحیتوں کو جانچنا ہے۔
ہیومنائیڈ روبوٹکس میں چین کی تیز رفتار پیش رفت نے عالمی سطح پر بھی توجہ حاصل کی ہے۔ چینی کمپنیاں اور تحقیقی ادارے ایسے روبوٹس تیار کرنے پر کام کر رہے ہیں جنہیں مستقبل میں صنعت، لاجسٹکس، خدمات اور دیگر حقیقی شعبوں میں استعمال کیا جاسکے۔
روبوٹکس میں ہونے والی یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مصنوعی ذہانت، جدید سینسرز، بیٹری ٹیکنالوجی اور حرکتی نظام کے امتزاج سے آنے والے برسوں میں ہیومنائیڈ روبوٹس کی صلاحیتوں میں مزید نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے۔
مذید خبریں
قدیم اولمپک مقابلوں میں کھلاڑی برہنہ ہوکر کیوں حصہ لیتے ! – urdureport.com
دنیا کا پہلا انٹرنیشنل کرکٹ میچ کس نے جیتا ؟ دلچسپ حقیقت – urdureport.com


