اردو رپورٹ ڈیسک
اسلام آباد: حکومت نے ملک بھر میں ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 32 روپے 63 پیسے فی لیٹر کمی کردی۔ دوسری جانب تازہ ترین قیمتوں کے تحت پیٹرول کی قیمت میں 2 روپے 97 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق 20 اگست کی نصف شب سے ہوگیا ہے۔
تازہ نوٹیفکیشن کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 395 روپے 69 پیسے سے کم ہوکر 363 روپے 6 پیسے فی لیٹر ہوگئی۔ دوسری جانب پیٹرول کی قیمت 334 روپے 54 پیسے سے بڑھ کر 337 روپے 51 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔ نئی قیمتوں کا اعلان آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کی سفارشات کے بعد کیا گیا۔
اوگرا کی آفیشل پیٹرولیم قیمتوں کی تفصیل
وزیر پیٹرولیم نے ڈیزل قیمت میں کمی کی وضاحت کردی
وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اس سے قبل صارفین کو بڑے ریلیف ملنے کا عندیہ دیا تھا۔ انہوں نے وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس میں صورتحال پر گفتگو کی تھی۔ علی پرویز ملک نے کہا کہ مشکل معاشی حالات میں عوام کو ٹارگٹڈ ریلیف فراہم کیا گیا ہے۔
وزیر پیٹرولیم کے مطابق ریلیف کے لیے حکومتی حکام نے مقامی ریفائنریوں سے متعدد ملاقاتیں کیں۔ ان کے مطابق ریفائنریوں نے تفصیلی مذاکرات کے بعد حکومتی درخواست قبول کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے عوام کو ممکنہ ریلیف دینے کی ہدایت کی تھی۔
مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں بلند رہی ہیں۔ ان عالمی دباؤ کے باوجود حکومت نے ڈیزل کی قیمت میں نمایاں کمی کا اعلان کیا ہے۔ اس اقدام کو ٹرانسپورٹرز، کسانوں اور دیگر ڈیزل صارفین کے لیے بڑا ریلیف قرار دیا جارہا ہے۔
ٹرانسپورٹرز اور کسانوں نے ڈیزل سستا ہونے کا خیرمقدم کیا
ٹرانسپورٹرز نے ڈیزل کی قیمت میں نمایاں کمی کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے اہم ریلیف قرار دیا۔ کسان بھی اس کمی سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں کیونکہ زرعی مشینری میں ڈیزل کا استعمال زیادہ ہوتا ہے۔ ڈیزل سستا ہونے سے ٹرانسپورٹ اور زرعی سرگرمیوں کے اخراجات کم ہونے کی توقع ہے۔
دوسری جانب پیٹرول کی قیمت میں اضافے پر صارفین نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ موٹرسائیکل سواروں نے بھی بڑھتے ہوئے پیٹرول اخراجات پر تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ سوشل میڈیا صارفین نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار تبدیلی پر سوالات اٹھائے ہیں۔
پاکستان میں روزانہ ایندھن قیمتوں کا نظام
پاکستان میں حالیہ عرصے کے دوران پیٹرولیم قیمتوں میں روزانہ تبدیلی کا نظام متعارف کرایا گیا ہے۔ اس نظام کے تحت اوگرا عالمی تیل کی قیمتوں اور شرح مبادلہ کا جائزہ لیتا ہے۔ اتھارٹی نئی قیمتوں کی سفارش کرتے وقت دیگر متعلقہ مارکیٹ عوامل کو بھی مدنظر رکھتی ہے۔
حکومت بعد ازاں اوگرا کی سفارشات کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتیں مقرر کرتی ہے۔ ڈیزل کی تازہ کمی صرف ایک روز بعد سامنے آئی ہے جب ایندھن کی قیمتیں بڑھائی گئی تھیں۔ 19 اگست کو پیٹرول 3 روپے 34 پیسے اور ڈیزل 5 روپے 27 پیسے مہنگا کیا گیا تھا۔
ڈیزل کی قیمت میں اچانک نمایاں کمی نے ملک بھر میں صارفین کو حیران کردیا ہے۔ شہری اب ایندھن کی قیمتوں میں بار بار تبدیلی کے باعث صورتحال پر نظر رکھتے ہیں۔ ٹرانسپورٹرز اپنے کاروباری اخراجات کے باعث ڈیزل کی قیمتوں پر خصوصی توجہ دیتے ہیں۔
پیٹرولیم ڈیلرز کا مارجن ستمبر سے بڑھے گا
حکومت نے یکم ستمبر سے پیٹرولیم ڈیلرز کے مارجن میں اضافے کی بھی منظوری دے دی ہے۔ منظور شدہ فیصلے کے تحت ڈیلرز کا مارجن 1 روپے 34 پیسے فی لیٹر بڑھے گا۔ نئے فیصلے کے بعد ڈیلرز کو 8 روپے 64 پیسے کے بجائے 9 روپے 98 پیسے ملیں گے۔
نئے ڈیلر مارجن سے پیٹرولیم مصنوعات کے مجموعی ریٹیل قیمتوں کے ڈھانچے پر اثر پڑسکتا ہے۔ تازہ قیمتوں سے ڈیزل صارفین کو ریلیف ملے گا جبکہ پیٹرول صارفین کے اخراجات بڑھیں گے۔ ٹرانسپورٹرز اور کسان ڈیزل کی نمایاں قیمت کمی سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔


