اردو رپورٹ ڈیسک
دل کی شریانوں میں رکاوٹ کا سامنا کرنے والے مریضوں کے لیے نئی طبی تحقیق سامنے آئی ہے، جس کے مطابق دوائی کی تہہ والے خصوصی غبارے کے ذریعے تنگ شریانوں کا علاج کیا جا سکتا ہے، جس کے بعد شریان میں مستقل دھاتی اسٹنٹ لگانے کی ضرورت نہیں رہتی۔
برطانیہ کی یونیورسٹی آف ایسٹ اینگلیا کے محققین نے 7 ہزار 832 مریضوں پر ہونے والی 10 طبی آزمائشوں کے نتائج کا تجزیہ کیا۔ تحقیق میں دوائی والے غبارے سے علاج کا روایتی اسٹنٹ کے ساتھ موازنہ کیا گیا۔
نتائج کے مطابق، دل کی بیماری کے باعث موت اور دل کے دورے کے خطرے کے حوالے سے دونوں طریقوں کے نتائج میں کوئی نمایاں فرق سامنے نہیں آیا۔ تاہم، بعض مریضوں میں مستقبل میں شریان دوبارہ کھولنے کے لیے مزید علاج کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
یہ تحقیق طبی جریدے ’دی لانسیٹ ای کلینیکل میڈیسن‘ میں شائع ہوئی ہے۔
تحقیق میں کیا سامنے آیا؟
تحقیق کی سربراہ ڈاکٹر نتاشا کوربالس کے مطابق، تجزیے میں دوائی والے غبارے اور روایتی اسٹنٹ سے علاج کے اہم نتائج تقریباً یکساں پائے گئے۔
ان کے مطابق، دوائی والے غبارے سے علاج کروانے والے مریضوں میں دل کی بیماری کے باعث موت کا خطرہ زیادہ نہیں تھا، جبکہ دل کے دورے کی شرح بھی دونوں طریقوں میں تقریباً برابر رہی۔
تاہم، محققین نے واضح کیا کہ ان نتائج کی بنیاد پر دوائی والے غبارے کو ہر مریض کے لیے اسٹنٹ کا مکمل متبادل قرار نہیں دیا جا سکتا۔
دل کی شریانیں تنگ کیوں ہوتی ہیں؟
دل کی شریانوں کی بیماری اس وقت پیدا ہوتی ہے جب دل کو خون پہنچانے والی نالیاں تنگ ہونے لگتی ہیں۔ اس کی ایک عام وجہ شریانوں کی اندرونی دیواروں پر چربی جمع ہونا ہے۔
شریانوں میں تنگی کے باعث دل تک خون کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے، جس سے دل کے دورے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اسی لیے متاثرہ شریان کو کھولنا علاج کا اہم حصہ ہوتا ہے۔
دوائی والا غبارہ کیسے کام کرتا ہے؟
دل کی تنگ شریانوں کو کھولنے کے لیے عموماً انجیو پلاسٹی کی جاتی ہے۔ اس عمل میں ڈاکٹر ایک باریک غبارے کو شریان کے متاثرہ حصے تک پہنچا کر پھلاتے ہیں، جس سے شریان کھل جاتی ہے اور خون کے بہاؤ کے لیے جگہ بن جاتی ہے۔
روایتی طریقہ علاج میں اکثر اس کے بعد شریان کے اندر دھاتی جالی نما ٹیوب، یعنی اسٹنٹ، نصب کیا جاتا ہے۔ یہ شریان کو کھلا رکھنے میں مدد دیتا ہے اور اس پر دوا کی تہہ بھی ہو سکتی ہے، جو شریان کے دوبارہ تنگ ہونے کے خطرے کو کم کرتی ہے۔
اس کے برعکس، دوائی والے غبارے کی سطح پر موجود دوا شریان کی اندرونی دیوار تک پہنچائی جاتی ہے۔ اس کا مقصد خلیوں کی غیر ضروری افزائش کو روکنا ہے، جو شریان کو دوبارہ تنگ کر سکتی ہے۔
دوا پہنچانے کے بعد غبارہ نکال لیا جاتا ہے اور شریان کے اندر کوئی مستقل دھاتی آلہ نہیں چھوڑا جاتا۔
اسٹنٹ نہ لگانے کے ممکنہ فوائد
محققین کے مطابق، دوائی والے غبارے کا ایک ممکنہ فائدہ یہ ہے کہ مریض کے جسم میں مستقل دھاتی آلہ موجود نہیں رہتا۔ اس سے اسٹنٹ سے وابستہ بعض طویل مدتی پیچیدگیوں سے بچنے میں مدد مل سکتی ہے۔
اس طریقے سے مستقبل میں ضرورت پڑنے پر شریان کے علاج کے دوسرے طریقے اختیار کرنے کی گنجائش بھی برقرار رہ سکتی ہے۔
تاہم، ماہرین نے واضح کیا ہے کہ اسٹنٹ نہ لگانے کا مطلب یہ نہیں کہ دوائی والا غبارہ ہر صورت میں زیادہ مؤثر یا محفوظ ہے۔ مناسب طریقہ علاج کا انتخاب مریض کی شریانوں کی حالت، بیماری کی شدت اور دیگر طبی عوامل کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا ہے۔
کچھ مریضوں کو دوبارہ علاج کی ضرورت پڑ سکتی ہے
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ بڑی شریانوں میں دوائی والے غبارے سے علاج کروانے والے بعض مریضوں کو شریان دوبارہ کھولنے کے لیے مزید طبی کارروائی کی ضرورت پڑنے کا امکان زیادہ تھا۔
طبی اصطلاح میں اس عمل کو دوبارہ خون کی فراہمی بحال کرنا یا ری ویسکیولرائزیشن کہا جاتا ہے۔
محققین نے بتایا کہ مختلف طبی آزمائشوں کے نتائج میں فرق موجود تھا اور ایک آزمائش کے نتائج نے اس خدشے پر خاصا اثر ڈالا۔ اس لیے اس معاملے پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
مزید تحقیق کیوں ضروری ہے؟
تحقیق کے سینئر مصنف پروفیسر ویسیلیوس ویسیلیو کے مطابق، دوائی والے غبارے سے علاج مستقل اسٹنٹ سے وابستہ بعض طویل مدتی پیچیدگیوں کو کم کرنے اور مستقبل میں علاج کے مزید امکانات برقرار رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔
تاہم، اس طریقے کے فوائد اور ممکنہ خطرات کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے زیادہ مریضوں پر اور طویل عرصے تک تحقیق ضروری ہے۔ بالخصوص بڑی شریانوں اور پیچیدہ بیماریوں کی صورت میں مزید شواہد درکار ہیں۔
مجموعی طور پر تحقیق دل کی شریانوں کے علاج کے لیے ایک ممکنہ متبادل کی نشاندہی کرتی ہے، لیکن فی الحال اسے ہر مریض کے لیے اسٹنٹ کا مکمل متبادل نہیں سمجھا جا سکتا۔ مریضوں کو اپنے لیے موزوں طریقہ علاج کے انتخاب سے قبل ماہر امراض قلب سے مشورہ کرنا چاہیے۔


