اردوEnglish
ہفتہ, 17 اکتوبر 2026
  • Home  
  • اقرار الحسن کی بریت کی درخواست مسترد، جسمانی ریمانڈ میں مزید دو روز کی توسیع
- پاکستان

اقرار الحسن کی بریت کی درخواست مسترد، جسمانی ریمانڈ میں مزید دو روز کی توسیع

کراچی کی عدالت نے اینکر پرسن اور عوام راج تحریک کے سربراہ اقرار الحسن کی مقدمے سے بریت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے جسمانی ریمانڈ میں مزید دو روز کی توسیع کر دی۔ ان کے خلاف پیکا ترمیمی ایکٹ 2025 کے تحت مقدمہ درج ہے۔

اردو رپورٹ ڈیسک

کراچی کی عدالت نے معروف اینکر پرسن اور عوام راج تحریک کے سربراہ اقرار الحسن کی مقدمے سے بریت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ان کے جسمانی ریمانڈ میں مزید دو روز کی توسیع کر دی۔

اقرار الحسن کو ہفتے کے روز جوڈیشل مجسٹریٹ کراچی شرقی کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے ان کے جسمانی ریمانڈ میں مزید دو دن کی توسیع کا حکم دیا۔

اس سے قبل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کراچی شرقی نے ابتدائی چار روزہ جسمانی ریمانڈ کے خلاف دفاعی وکلا کی جانب سے دائر نظرثانی کی درخواست اور اقرار الحسن کو مقدمے سے خارج کرنے کی استدعا مسترد کر دی تھی۔

اقرار الحسن کی گرفتاری

اقرار الحسن کو 12 اکتوبر کی رات تقریباً تین بجے لاہور کے علاقے ڈی ایچ اے فیز 8 میں واقع ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لیا گیا تھا۔ کارروائی کے دوران قومی سائبر جرائم تحقیقاتی ادارے (این سی سی آئی اے) کی ٹیم کے اہلکار مبینہ طور پر سادہ لباس میں موجود تھے۔

گرفتاری کے بعد اقرار الحسن کو کراچی منتقل کیا گیا، جہاں جوڈیشل مجسٹریٹ نے ابتدائی طور پر ان کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا تھا۔

ان کے خلاف پیکا ترمیمی ایکٹ 2025 کے تحت مقدمہ نمبر 101/2026 درج ہے۔

دفاعی وکلا کے گرفتاری کے طریقہ کار پر اعتراضات

گزشتہ سماعت کے دوران سیشن جج ارشد مرتضیٰ کی عدالت میں اقرار الحسن کے وکلا میاں علی اشفاق اور شاہد حسین کریجو نے ان کی گرفتاری اور حراست کے قانونی طریقہ کار پر سوالات اٹھائے تھے۔

دفاعی وکلا کا مؤقف تھا کہ اقرار الحسن کو لاہور سے کراچی منتقل کرنے کے لیے قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے اور راہداری ریمانڈ بھی حاصل نہیں کیا گیا۔

وکلا نے کہا کہ اقرار الحسن نے صرف سیاسی صورتحال اور ممکنہ گورنر راج کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کیا تھا، جو ان کے بقول آئین کے تحت شہریوں کا بنیادی حق ہے۔

الیکٹرانک آلات کی تحویل کا معاملہ

دفاعی وکلا نے عدالت کو بتایا کہ این سی سی آئی اے پہلے ہی اقرار الحسن کا موبائل فون اور پانچ دیگر الیکٹرانک آلات اپنی تحویل میں لے چکی ہے، جن میں چار موبائل فون اور ایک آئی پیڈ شامل ہیں۔

وکلاء کے مطابق، تمام متعلقہ آلات پہلے ہی تحقیقاتی ادارے کے قبضے میں ہونے کے باعث اقرار الحسن کو مزید جسمانی تحویل میں رکھنے کی ضرورت نہیں تھی۔

سماعت کے دوران اقرار الحسن کی اہلیہ فرح اقرار بھی روسٹرم پر آئیں اور انہوں نے اپنے شوہر کو حراست میں لیے جانے کے وقت اور حالات کے بارے میں تفصیلات بیان کیں۔

این سی سی آئی اے کا مؤقف

دوسری جانب این سی سی آئی اے کے تفتیشی افسر انسپکٹر رانا محمد فیصل خان نے عدالت کو بتایا کہ برآمد کیے گئے الیکٹرانک آلات سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کا تجزیہ جاری ہے، جس کے لیے اقرار الحسن کا مزید جسمانی ریمانڈ ضروری ہے۔

عدالت نے گزشتہ سماعت کے تحریری حکم نامے میں قرار دیا تھا کہ آزادی اظہار رائے کا حق قانون کے تحت عائد معقول پابندیوں کے تابع ہے۔ عدالت کے مطابق، اقرار الحسن کے ابتدائی جسمانی ریمانڈ کا حکم قانون کے مطابق دیا گیا تھا۔

urdureport.com@2025. All Rights Reserved

Your license hasn’t been activated yet. Activate it now!