راولپنڈی پولیس نے چلتی گاڑی میں انیس سالہ لڑکی کے ساتھ مبینہ گینگ ریپ کے سنگین واقعے میں ملوث چار ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔
پولیس نے گاؤں کی پنچائیت سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو بھی حراست میں لیا گیا ہے، جس پر الزام ہے کہ اس نے متاثرہ لڑکی اور اس کے اہل خانہ کو قانونی کارروائی سے روکنے کی کوشش کی۔
پولیس کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ تھانہ روات کے علاقے چک بیلی روڈ پر پیش آیا، جہاں چار افراد نے ایک شادی شدہ خاتون کو چلتی گاڑی میں مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا۔
تفتیشی ٹیم کے رکن سب انسپکٹر وسیم سرور کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان نے دورانِ تفتیش جرم کا اعتراف بھی کیا ہے۔پولیس نے بتایا کہ متاثرہ خاتون نے شناخت پریڈ کے دوران ملزمان کو پہچان لیا۔
عدالت سے ملزمان کا جسمانی ریمانڈ حاصل کیا گیا مزید یہ بھی انکشاف ہوا کہ ملزمان اور متاثرہ خاتون کا تعلق ایک ہی گاؤں سے ہے۔تفتیش کے مطابق واقعے کی ممکنہ وجہ ایک پرانا تنازع تھا۔
متاثرہ خاتون کے شوہر کو ملزمان نے اپنے فارم ہاؤس پر کام کرنے کی پیشکش کی تھی، جسے انہوں نے مسترد کر دیا۔ اس پر دونوں فریقین کے درمیان تلخ کلامی ہوئی اور مبینہ طور پر ملزمان نے سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔
پولیس کے مطابق ملزمان نے واقعے کی ویڈیوز بھی بنائیں اور ان میں سے کچھ سوشل میڈیا پر وائرل کر دیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان ویڈیوز کے وائرل ہونے کا صدمہ متاثرہ خاتون کے شوہر برداشت نہ کر سکے اور انہیں دل کا دورہ پڑا جس سے وہ انتقال کر گئے۔
متاثرہ خاتون کی والدہ نے الزام عائد کیا ہے کہ اس واقعے میں لڑکی کی ساس اور نند بھی ملوث ہیں۔ پولیس نے دونوں خواتین کو شاملِ تفتیش کر کے ان کے بیانات ریکارڈ کر لیے ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد علاقے کے بااثر افراد نے پنچائیت کے ذریعے متاثرہ خاندان پر دباؤ ڈالا کہ وہ قانونی کارروائی نہ کریں۔
پنچائیت نے وعدہ کیا تھا کہ وہ خود ملزمان کو سزا دے گی اور لڑکی کا علاج کروائے گی، تاہم یہ وعدے پورے نہیں کیے گئے۔متاثرہ خاتون کی والدہ کے مطابق جب حالات مزید خراب ہونے لگے اور کوئی مدد نہ ملی تو انہوں نے مجبور ہو کر پولیس سے رجوع کیا۔
پولیس نے پنچائیت کے ایک رکن کو بھی گرفتار کیا ہے جس پر متاثرہ خاندان کو دباؤ ڈالنے کا الزام ہے۔پولیس نے بتایا کہ ملزمان اور متاثرہ خاتون کے ڈی این اے ٹیسٹ پنجاب فرانزک لیبارٹری کو بھیج دیے گئے ہیں، جن کی رپورٹ جلد متوقع ہے۔
متاثرہ خاتون نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی تمام ویڈیوز کو مکمل طور پر ڈیلیٹ کیا جائے تاکہ وہ دوبارہ سوشل میڈیا پر وائرل نہ ہو سکیں اور مزید نقصان کا باعث نہ بنیں۔


