اردو رپورٹ ڈیسک
سابق وزیراعظم عمران خان کے بیٹوں قاسم اور سلیمان نے پاکستانی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے والد کا کسی غیرجانبدار ڈاکٹر یا ان کے ذاتی معالج سے طبی معائنہ کرایا جائے اور اس کی رپورٹ بھی عوام کے سامنے پیش کی جائے۔
جمعرات کو ایک انٹرویو میں سلیمان خان نے کہا کہ اگر حکومت واقعی عمران خان کو صحت مند قرار دے رہی ہے تو اسے اس دعوے کے شواہد بھی سامنے لانے چاہییں۔
سلیمان کے مطابق عمران خان کا معائنہ کسی آزاد ڈاکٹر یا ان کے اپنے معالج سے کرایا جانا چاہیے تاکہ ان کی اصل طبی صورتحال واضح ہو سکے۔
عمران خان کو شفا ہسپتال منتقل کرنے کا معاملہ
18 اگست کو سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کو علاج کے لیے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔
تاہم حکومت نے انہیں پمز ہسپتال منتقل کیا۔ حکومتی مؤقف تھا کہ شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے اطراف پی ٹی آئی کارکنوں کی موجودگی اور سکیورٹی صورتحال کے باعث انہیں وہاں لے جانا ممکن نہیں تھا۔
حکومت نے بعد میں بتایا کہ پمز میں طبی معائنے کے دوران عمران خان کی صحت تسلی بخش پائی گئی۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے حکومتی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے اسے عدالتی حکم کی خلاف ورزی قرار دیا اور توہینِ عدالت کی درخواست دائر کی۔ حکومت نے بھی سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست دائر کر رکھی ہے۔
عمران خان کے بیٹوں کا مؤقف اس کے برعکس ہے۔ وہ اپنے والد کی صحت کو انتہائی تشویشناک قرار دے رہے ہیں۔
سلیمان کا عمران خان کی صحت پر دعویٰ
سلیمان خان نے غیر ملکی نیوز ایجنسی دعویٰ کیا کہ گزشتہ تین برس کے دوران ان کے والد کی صحت مسلسل خراب ہوتی رہی ہے۔
ان کے بقول اب صورتحال انتہائی سنگین ہو چکی ہے اور عمران خان کی صحت تشویشناک حد تک متاثر ہوئی ہے۔
سلیمان نے کہا کہ عدالت نے عمران خان کے علاج کے لیے ایک غیرجانبدار ہسپتال کا حکم دیا تھا، لیکن انہیں سرکاری ہسپتال منتقل کیا گیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پمز میں صرف ایک معمولی طبی معائنہ کیا گیا اور اس کے بعد عمران خان کو دوبارہ جیل بھیج دیا گیا۔
سلیمان کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ تین برس کے دوران عمران خان کو بینائی کے مسائل کا سامنا رہا ہے اور ان کی دائیں آنکھ کی تقریباً 80 فیصد بینائی ختم ہونے کا دعویٰ بھی سامنے آیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خاندان کے لیے ان کی مکمل طبی صورتحال جاننا آسان نہیں، تاہم ایک ملاقات کے دوران ان کی آنٹی نے عمران خان کو آنکھ پر پٹی باندھے دیکھا تھا۔
سلیمان کے مطابق تنہائی کے باعث ان کے والد ذہنی دباؤ اور اضطراب کا شکار تھے جبکہ ان کا بلڈ پریشر بھی بلند تھا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ تقریباً 10 ماہ سے عمران خان کو مکمل تنہائی میں رکھا گیا ہے اور انہیں اہلخانہ اور وکلا سے ملاقات کا موقع نہیں دیا گیا۔
قاسم خان نے بھی اپنے والد کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خاندان کے لیے یہ صورتحال اس لیے زیادہ پریشان کن ہے کیونکہ عمران خان کو ہمیشہ ایک مضبوط اور باوقار شخصیت کے طور پر دیکھا گیا ہے۔
سابق برطانوی حکومت کے مشورے کا دعویٰ
پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے مارچ میں کہا تھا کہ عمران خان کے بیٹے قاسم اور سلیمان بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے جاری شناختی کارڈ کے ذریعے پاکستان آ کر اپنے والد سے ملاقات کر سکتے ہیں۔
تاہم قاسم خان نے بتایا کہ کیئر اسٹارمر اور ڈیوڈ لیمی کی سابق برطانوی حکومت نے انہیں پاکستان جا کر عمران خان سے ملاقات نہ کرنے کا مشورہ دیا تھا۔
قاسم کے مطابق اس وقت انہیں اپنے والد سے ملاقات کیے ہوئے دو سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اب وہ سکیورٹی خدشات کی پروا نہیں کرتے اور ان کی بنیادی خواہش صرف یہ ہے کہ وہ اپنے والد سے ملیں اور خود ان کی خیریت معلوم کریں۔
قاسم نے عمران خان کی صحت کے بارے میں معلومات کو مبینہ طور پر خفیہ رکھنے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ نئے سیکریٹری خارجہ اس حوالے سے کوئی یقین دہانی کرا سکیں گے کہ پاکستان آنے کی صورت میں انہیں ضروری معاونت فراہم کی جائے گی۔
عمران خان کے مقدمات اور سزائیں
دسمبر 2025 میں اسلام آباد کی ایک عدالت نے توشہ خانہ ٹو کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 17، 17 سال قید کی سزا سنائی تھی۔
اس سے قبل توشہ خانہ ون کیس میں دونوں کو 14، 14 سال قید کی سزا دی گئی تھی، تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپریل 2024 میں یہ سزائیں کالعدم قرار دے دی تھیں۔
2024 میں ایک خصوصی عدالت نے سائفر کیس میں عمران خان کو 10 سال قید کی سزا بھی سنائی تھی۔
سائفر کیس میں عمران خان کی سزا سے متعلق اردو رپورٹ کی خبر
سلیمان خان نے الزام عائد کیا کہ حکومت عمران خان کی سیاسی مقبولیت سے خوفزدہ ہے اور انہیں خاموش رکھنے کے لیے تنہائی میں رکھا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر عمران خان واقعی صحت مند اور محفوظ ہیں تو انہیں کسی غیرجانبدار ہسپتال میں طبی معائنہ اور علاج کی سہولت دی جانی چاہیے۔
سکائی سپورٹس پر انٹرویو نشر کرنے میں تاخیر
قاسم اور سلیمان کا انٹرویو پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان لارڈز میں جاری ٹیسٹ سیریز کے دوران بھی خبروں میں رہا۔
سکائی سپورٹس نے دوسرے ٹیسٹ کے پہلے روز کھانے کے وقفے کے دوران عمران خان کے بیٹوں سے ہونے والی گفتگو نشر کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔
تاہم رپورٹس کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس انٹرویو کی نشریات پر سکائی سپورٹس سے باضابطہ شکایت کی۔
بعد میں سکائی نیوز نے تقریباً 18 منٹ پر مشتمل انٹرویو تاخیر سے نشر کیا، جبکہ پاکستان کے سرکاری اسپورٹس چینل پی ٹی وی نے اسے نشر نہیں کیا۔
یہ گفتگو انگلینڈ کے سابق کپتان مائیکل ایتھرٹن نے کی تھی۔ انٹرویو کے دوران قاسم اور سلیمان نے ایک بار پھر اپنے والد کی صحت کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا۔
گزشتہ ہفتے مائیکل ایتھرٹن سمیت 21 سابق کرکٹ کپتانوں نے وزیراعظم شہباز شریف کو خط لکھا تھا۔ خط میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ عمران خان کو جیل میں مناسب طبی نگہداشت فراہم کرنے کو یقینی بنایا جائے۔
خط پر بھارت، آسٹریلیا، انگلینڈ، ویسٹ انڈیز اور نیوزی لینڈ کے سابق کپتانوں کے دستخط بھی موجود تھے۔


