اردو رپورٹ ڈیسک
حکومتی دستاویز کے مطابق اپریل سے جون کے دوران 105 آزاد بجلی پیدا کرنے والے اداروں (آئی پی پیز) کو کیپیسٹی پیمنٹس کی مد میں 472 ارب روپے ادا کیے گئے۔
یہ ادائیگیاں ایسے وقت میں کی گئیں جب ملک بھر میں بجلی کی قلت اور لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری رہا۔ دستاویز کے مطابق یہ رقم بجلی صارفین سے ان کے بجلی کے بلوں کے ذریعے وصول کی گئی۔
105 آئی پی پیز کو 472 ارب روپے کی ادائیگی
حکومتی دستاویز کے مطابق تین ماہ کے دوران مختلف بجلی پیدا کرنے والے اداروں کو کیپیسٹی پیمنٹس کی مد میں بھاری رقوم ادا کی گئیں۔
چائنا فیول انرجی کو 32 ارب 81 کروڑ روپے جبکہ شنگھائی انرجی کو 26 ارب روپے ادا کیے گئے۔
نیوکلیئر ون کو 36 ارب روپے اور نیوکلیئر پاور پلانٹ تھری کو 37 ارب روپے کیپیسٹی پیمنٹس کی مد میں دیے گئے۔
اسی طرح پورٹ قاسم پاور کو 26 ارب روپے، تھر کول بلاک ون کو 29 ارب روپے جبکہ واپڈا ہائیڈل کو 35 ارب روپے ادا کیے گئے۔
کیپیسٹی پیمنٹس کے باوجود بجلی کا شارٹ فال
حکومتی دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ کیپیسٹی پیمنٹس کی ادائیگی کے باوجود ملک میں گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے شدید لوڈشیڈنگ جاری ہے۔
دستاویز کے مطابق بجلی کا شارٹ فال 3 ہزار سے 4 ہزار میگاواٹ کے درمیان برقرار رہا۔
اس طرح بجلی صارفین کی جانب سے بلوں کے ذریعے ادا کی جانے والی رقم میں کیپیسٹی پیمنٹس شامل رہیں، جبکہ ملک میں بجلی کی قلت اور لوڈشیڈنگ کا سلسلہ بھی جاری رہا۔


