ایرانی میڈیا کی جانب نشر کیے گئے بیان میں بتایا گیا کہ سیکیورٹی چیف علی لاریجانی امریکی حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔
علی لاریجانی تہران کے مشرق میں اپنی بیٹی سے ملنے گئے تھے وہ ایران کی طاقتور شخصیات میں سے ایک تھے اور سپریم لیڈر کے مشیر خاص تھے۔
علی لاریجانی کا ایک بیان بھی ان کی شہادت کے دعویٰ کے موقع پر منظر عام پر آیا جس مین انہوں نے ایران سے تعاون نہ کرنے پر مسلم ممالک سے شکوہ کیا۔
اس رائیل کی جانب سے علی لاریجانی کی شہادت کے دعوے سے چند گھنٹے پہلے سامنے آنے والے ان کے ایک بیان میں لاریجانی نےافسوس کا اظہار کیا کہ مسلم دنیا نے ان سے تعاون نہیں کیا جبکہ دوسری جانب ایرانی سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کو نشانہ بنانے کا اسرائیلی دعویٰ سامنا آیا ہے۔
انھوں نے اپنے پیغام میں کہا ’کوئی اسلامی حکومت ایران کے عوام کے ساتھ نہیں کھڑی ہوئی، سوائے چند غیر معمولی معاملات اور محض سیاسی بیانات تک محدود رہنے والی مثالوں کے۔‘
مسلمان ممالک کے نام پیغام میں انھیں یقین تھا کہ ایران کا مؤقف مسلم دنیا کی عوامی سطح پر پذیرائی حاصل کر سکتا ہے، چاہے ان کی حکومتیں بڑی حد تک لاتعلق رہی ہوں۔
علی لاریجانی نے لکھا کہ ’ایک طرف امریکہ اور اس رائی ل ہیں اور دوسری طرف مسلم ایران اور مزاحمتی قوتیں۔ آپ اس جنگ میں کس طرف کھڑے ہیں؟‘
علی لاریجانی نے امریکی افواج کی میزبانی کرنے کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے والے خلیجی ممالک پر خصوصی تنقید کی۔
انھوں نے سوال اٹھایا کہ ’کیا ایران سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا رہے جبکہ آپ کے ممالک میں موجود امریکی اڈوں کو اس پر حملے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے؟‘
یہ بھی پڑھئِے


