Kharg Island خلیج فارس میں واقع ایک چھوٹا سا جزیرہ خارگ ہے، لیکن اس کی اہمیت غیر معمولی ہے۔ ایران کے صوبہ بوشہر کے قریب واقع یہ جزیرہ صرف تقریباً 20 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے، مگر اسے ایران کی تیل برآمدات کی سب سے بڑی شہ رگ سمجھا جاتا ہے۔ ایران کے خام تیل کی تقریباً 90 فیصد برآمدات اسی جزیرے سے ہوتی ہیں۔
حالیہ دنوں میں یہ جزیرہ اس وقت عالمی خبروں کا مرکز بن گیا جب امریکہ کے صدر Donald Trump نے دعویٰ کیا کہ امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ United States Central Command نے یہاں ایران کے فوجی اہداف پر تاریخ کے طاقتور ترین بم حملوں میں سے ایک کیا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق اس کارروائی میں جزیرے پر موجود فوجی اہداف کو تباہ کر دیا گیا، تاہم انہوں نے تیل کے بنیادی ڈھانچے کو جان بوجھ کر نشانہ نہیں بنایا۔
آبنائے ہرمز اور تیل کی سیاست
امریکی صدر نے اپنے بیان میں خبردار کیا کہ اگر ایران نے Strait of Hormuz میں بحری جہازوں کی آزادانہ آمد و رفت میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی تو وہ تیل کی تنصیبات کو بھی نشانہ بنانے کے فیصلے پر نظر ثانی کر سکتے ہیں۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں سے ایک ہے جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس لیے خارگ جزیرہ نہ صرف ایران بلکہ عالمی توانائی کی منڈی کے لیے بھی اہمیت رکھتا ہے۔
اسرائیل اور ایران کے حملوں کا سلسلہ
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے دوران اس ر ا ئی ل نے ایران کے مختلف آئل ڈپو اور ایندھن ذخیرہ کرنے والے مراکز کو نشانہ بنایا۔ ایرانی دارالحکومت Tehran کے علاقوں رے، شہران اور اقدسیہ کے ساتھ ساتھ کرج کے فردیس علاقے میں بھی حملے کیے گئے۔
اس ر ا ئِ لی فوج کا مؤقف تھا کہ ان مقامات کو ایرانی حکومت فوجی مقاصد کے لیے استعمال کر رہی تھی۔ دوسری جانب ایران نے بھی خلیج فارس کے کئی ممالک میں تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس کے بعد پورے خطے میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے خطرے میں پڑ گئے۔
خارگ پر قبضے کی قیاس آرائیاں
خارگ جزیرے پر حملوں کے بعد یہ قیاس آرائیاں بھی بڑھ گئی ہیں کہ امریکہ اس جزیرے پر قبضہ کرنے کی حکمت عملی پر غور کر سکتا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی حکام کے درمیان اس امکان پر بات چیت بھی ہوئی ہے۔
ایران کے امور کے ماہر اور سابق پینٹاگون مشیر Michael Rubin کے مطابق اگر امریکہ خارگ جزیرے کو نشانہ بناتا یا اس پر قبضہ کرتا ہے تو اس سے ایرانی حکومت کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ متاثر ہو سکتا ہے۔
ٹرمپ کا پرانا مؤقف
دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹرمپ نے یہ خیال کئی دہائیوں پہلے بھی ظاہر کیا تھا۔ سنہ 1980 کی دہائی میں Iran–Iraq War کے دوران ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر ایران نے امریکہ کے کسی جہاز پر حملہ کیا تو وہ خارگ جزیرے پر قبضہ کرنے کا فیصلہ کریں گے۔
اس وقت ٹرمپ سیاست میں نہیں آئے تھے بلکہ ایک کاروباری شخصیت کے طور پر عالمی سیاست پر تبصرہ کر رہے تھے۔
تیل کے ذخائر اور بنیادی ڈھانچہ
خارگ جزیرہ ایران کے تیل کے سب سے بڑے ذخیرہ مراکز میں سے ایک ہے۔ یہاں تقریباً 40 بڑے اسٹوریج ٹینک موجود ہیں جن میں دو کروڑ بیرل سے زیادہ خام تیل ذخیرہ کیا جا سکتا ہے۔
جنوبی ایران کے تیل سے مالا مال علاقوں سے نکالا جانے والا خام تیل زیرِ سمندر پائپ لائنوں کے ذریعے یہاں پہنچایا جاتا ہے، جہاں سے اسے بڑے آئل ٹینکرز کے ذریعے دنیا کے مختلف ممالک کو بھیجا جاتا ہے۔
جزیرے کے قریب واقع ابو زر آئل فیلڈ خلیج فارس میں ایران کے سب سے بڑے آف شور تیل کے ذخائر میں شمار ہوتی ہے۔ اس فیلڈ کے تین بڑے پلیٹ فارم روزانہ تقریباً 80 ہزار بیرل تیل پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ہرنوں کا جزیرہ
دلچسپ بات یہ ہے کہ خارگ صرف تیل کی تنصیبات کی وجہ سے مشہور نہیں بلکہ یہاں ہرنوں کی بڑی تعداد بھی پائی جاتی ہے۔ جزیرے کا ماحول ان کے لیے افزائش نسل کے لیے موزوں سمجھا جاتا ہے اور بعض رپورٹس کے مطابق ہرنوں کی تعداد جزیرے کی گنجائش سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔
تعلیم اور صنعت
خارگ میں پیٹروکیمیکل صنعت بھی موجود ہے جہاں قدرتی گیسوں کو ضائع ہونے سے بچا کر انہیں میتھانول، سلفر، پروپین، بیوٹین اور نیفتھا جیسی مصنوعات میں تبدیل کیا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ یہاں Islamic Azad University کی ایک شاخ بھی قائم ہے جہاں میرین سائنس اور پیٹرولیم سے متعلق تعلیم دی جاتی ہے۔
جنگوں کی تاریخ
خارگ جزیرہ پہلے بھی جنگوں کا نشانہ بنتا رہا ہے۔ ایران اور عراق کے درمیان آٹھ سال جاری رہنے والی جنگ کے دوران عراق نے اس جزیرے پر تقریباً 2800 حملے کیے تھے کیونکہ ایران کی زیادہ تر تیل برآمدات اسی راستے سے ہوتی تھیں۔
آج بھی یہی وجہ ہے کہ خارگ جزیرہ خطے کی سیاست، جنگی حکمت عملی اور عالمی توانائی کی منڈی میں ایک انتہائی حساس اور اہم مقام بن چکا ہے۔
یہ بھی پڑھئیں


