ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک بیان میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز ایرانی سرزمین پر جارحیت ہماری سرزمین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے علاوہ تمام بحری جہازوں کے لیے کھلا ہے۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے مزید کہا کہ امریکہ کی جانب سے ایران کو نقشے سے مٹانے کا فریب مایوسی کی علامت ہیں۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ ایران کو نقشے سے مٹانے کا وہم ایک تاریخ ساز قوم کی مرضی کے مقابلے میں مایوسی کو ظاہر کرتا ہے۔ دھمکیاں اور دہشت گردی ہماری یکجہتی کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔‘
صدر نے کسی بھی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم جنگ کے میدان میں بے بنیاد دھمکیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اگلے 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کو نہ کھولنے کی صورت میں ایران کے پاور پلانٹس کو ہدف بنانے کی دھمکی دی تھی اور کہا تھا کہ سب سے بڑے پلانٹ کو پہلا ہدف بنایا جائے گا۔
‘ایران کے ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ ایران کے دشمنوں کے علاوہ آبنائے ہرمز سب کے لیے کھلی ہے۔
امرکی دھمکی کے جواب میں پاسدارانِ انقلاب نے دھمکی دی ہے کہ اگر امریکہ اپنی دھمکی پر عمل کرتا ہے تو آبنائے ہرمز تباہ شدہ پاور پلانٹس کی دوبارہ تعمیر تک بند رہے گی۔


