امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ Donald Trump کی جانب سے تعینات ایک سینئر انٹیلیجنس عہدیدار نے ایران کے خلاف جنگ پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اچانک اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔
Joe Kent نے منگل کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر جاری بیان میں کہا کہ انہوں نے “کافی غور و فکر کے بعد نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کے ڈائریکٹر کے عہدے سے فوری طور پر استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔”
After much reflection, I have decided to resign from my position as Director of the National Counterterrorism Center, effective today.
I cannot in good conscience support the ongoing war in Iran. Iran posed no imminent threat to our nation, and it is clear that we started this… pic.twitter.com/prtu86DpEr
— Joe Kent (@joekent16jan19) March 17, 2026
انہوں نے اپنے استعفے میں لکھا کہ “میں ضمیر کی آواز کے خلاف جا کر ایران کے ساتھ جاری جنگ کی حمایت نہیں کر سکتا۔ ایران ہماری قوم کے لیے کوئی فوری خطرہ نہیں تھا، اور یہ واضح ہے کہ ہم نے یہ جنگ اس رائی ل اور اس کی طاقتور امریکی لابی کے دباؤ پر شروع کی۔”
جو کینٹ، جو کہ صدر ٹرمپ کے مضبوط حامی سمجھے جاتے تھے، کا استعفیٰ صدر کی دوسری مدت میں کسی بڑے پالیسی معاملے پر پہلا اہم استعفیٰ قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر بعض قانون سازوں اور ماہرین کی جانب سے بھی اس انٹیلیجنس پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں جس کی بنیاد پر صدر ٹرمپ نے جنگ کا جواز پیش کیا تھا۔ اہم انٹیلیجنس عہدیدار کی رخصتی کے بعد اب حکومت کے مؤقف پر مزید جانچ پڑتال میں اضافے کا امکان ہے۔
یہ بھی پڑھئِے


