لاہور ہائی کورٹ سے ایک بھارتی شہری کرنال سنگھ نے انڈیا سے پاکستان آ کر شادی کرنے والی خاتون سربجیت کور (نور فاطمہ) کا نکاح منسوخ کرنے کی اپیل کی ہے۔
کرنال سنگھ کا موقف ہے کہ سربجیت کور اب بھی ان کی بیوی ہیں، لہٰذا ان کا پاکستانی شہری سے کیا گیا نکاح منسوخ کیا جائے۔
درخواست گزار کرنال سنگھ نے اپنے وکیل علی چنگیزی سندھو کے ذریعے عدالت عالیہ سے رجوع کیا۔ پٹیشن میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ سربجیت کور (نور فاطمہ) کی کرنال سنگھ سے شادی تاحال قانونی طور پر برقرار ہے اور انہوں نے اپنے ملکی قوانین کے مطابق طلاق حاصل نہیں کی۔
درخواست کے مطابق سنہ 2016 میں سربجیت کور کی پاکستانی شہری ناصر سے ٹک ٹاک پر شناسائی ہوئی، جس کے بعد وہ نومبر 2025 میں پاکستان آئیں اور ناصر سے نکاح کر لیا۔
رواں ماہ طویل قانونی کارروائی کے بعد انہیں لاہور میں قائم ایک پناہ گاہ سے اپنے پاکستانی شوہر کے گھر جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
درخواست گزار کے وکیل کا کہنا ہے کہ پاکستان کی آئینی اور شرعی عدالتوں کے طے شدہ اصولوں کے تحت دوسری شادی سے قبل خاتون کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے پہلے شوہر سے قانونی طور پر طلاق حاصل کریں۔ تحلیلِ نکاح کے بغیر دوسری شادی قانونی اور شرعی تقاضوں کے منافی ہے۔
پٹیشن میں مزید استدعا کی گئی ہے کہ مبینہ طور پر Foreigners Act 1946 اور ویزا قوانین کی خلاف ورزی پر سربجیت کور (نور فاطمہ) کے خلاف کارروائی عمل میں لاتے ہوئے انہیں ملک بدر کیا جائے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل ناصر کے گھر جانے کی اجازت ملنے پر سربجیت کور (نور فاطمہ) نے کہا تھا کہ وہ اپنی باقی زندگی پاکستان میں گزارنا چاہتی ہیں اور پاکستان آنے کے اپنے فیصلے پر خوش ہیں۔
عدالت کی جانب سے درخواست پر سماعت کی تاریخ مقرر کی جائے گی، جس کے بعد آئندہ لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھئیں


