کعبہ معظمہ کو ڈھانپنے والے مقدس غلاف ’کسوہ‘ کے مبینہ ٹکڑے سزا یافتہ جنسی مجرم جعفری ایپسٹین Jeffrey Epstein کو بھیجے جانے کے انکشاف پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
21 مارچ کی ایک ای میل میں ’ایپسٹین کے گھر‘ کسوہ کے ٹکڑے پہنچنے کی تصدیق کی گئی تھی۔
یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ایپسٹین نے یہ ٹکڑے بطور تحفہ وصول کیے تھے یا نہیں، اور نہ ہی اس بات کی تصدیق ہو سکی کہ وہ واقعی اصل کسوہ کے حصے تھے۔
یاد رہے کہ ایپسٹین کو جسم فروشی کے مطالبے، جس میں ایک نابالغ بھی شامل تھا، کے الزامات میں سزا سنائی گئی تھی اور اس نے دو الزامات کا اعتراف بھی کیا تھا۔
نئی جاری ہونے والی فائلز میں شامل ایک تصویر میں Jeffrey Epstein کو ایک نمایاں اماراتی کاروباری شخصیت کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے، جہاں وہ کسوہ مقدس کپڑے سے مشابہ شے کو فرش پر بچھا ہوا دیکھ رہے ہیں۔
30 جنوری کو United States Department of Justice کی جانب سے جاری کی گئی ایپسٹین فائلز کی ایک قسط میں سنہ 2017 کی ایسی ای میلز شامل ہیں جن میں سعودی عرب سے کیریبیئن میں موجود ایپسٹین کے گھر کسوہ کے تین ٹکڑے بھیجے جانے کا ذکر ہے۔
سنہ 2014 کی ایک تصویر میں ایپسٹین کو ایک شخص کے ساتھ زمین پر رکھے کپڑے کے ایک ٹکڑے کا معائنہ کرتے دیکھا گیا، جو بظاہر کعبہ کے دروازے کو ڈھانپنے والے کسوہ کے آرائشی حصے سے مشابہت رکھتا تھا۔
تاہم اس تصویر کا 2017 میں بھیجے گئے مبینہ ٹکڑوں سے براہِ راست تعلق ثابت نہیں ہو سکا اور نہ ہی یہ واضح ہے کہ تصویر میں موجود کپڑا اصل کسوہ کا حصہ تھا۔

محکمہ انصاف کی دستاویزات کے مطابق سنہ 2017 میں ایپسٹین کے عملے اور ’عزیز الاحمدی‘ نامی شخصیت کے درمیان ای میلز کا تبادلہ ہوا، جس میں کسوہ کے تین ٹکڑوں کی ترسیل کا بندوبست کیا گیا۔
یکم فروری 2017 کی ایک ای میل میں ’احمدی‘ کے معاون نے اطلاع دی کہ وہ ’مسجد کے لیے کعبہ کے کچھ ٹکڑے‘ بھیجیں گے، جنہیں مبینہ طور پر مختلف مسالک کے لاکھوں مسلمانوں نے چھوا تھا۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ یہاں کس مسجد کا حوالہ دیا گیا تھا۔
ایپسٹین فائلز میں اس کے نجی جزیرے پر کسی مسجد کا ذکر موجود نہیں۔ دستاویزات کے مطابق یہ کارگو 4 مارچ 2017 کو فلوریڈا کے شہر پالم بیچ میں واقع ایپسٹین کی رہائش گاہ پہنچا اور بعد ازاں اسے یو ایس ورجن آئی لینڈ کے علاقے سینٹ تھامس منتقل کر دیا گیا، جو اس کے نجی جزیرے Little Saint James کے قریب واقع ہے۔
اسی جزیرے کے بارے میں متعدد متاثرین نے الزام عائد کیا تھا کہ وہاں انہیں اسمگل کر کے جنسی استحصال کا نشانہ بنایا گیا۔
دستاویزات میں ’احمدی‘ کے بارے میں معلومات محدود ہیں، تاہم ستمبر 2018 کی ایک ای میل میں اسی نام کا ایک شخص ایپسٹین سے اپنی موبائل گیم کمپنی کے حوالے سے مشورہ طلب کرتا دکھائی دیتا ہے۔ مزید برآں، 2016 سے 2019 کے اوائل تک دونوں کے درمیان مختلف موضوعات پر ای میلز کے تبادلے کا بھی ذکر ہے۔
کچھ ای میلز میں ایپسٹین کو ’باس‘ یا ’ماسٹر‘ کہہ کر مخاطب کیا گیا اور ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں نیویارک اور پیرس میں ملاقاتیں بھی کر چکے تھے۔
امریکی محکمہ انصاف کی جاری کردہ دستاویزات کے مطابق ایپسٹین نے احمدی کے ذریعے سعودی حکومت پر اثرانداز ہونے کی کوششیں بھی کیں۔
اس معاملے میں شامل افراد اور کسوہ کے مبینہ ٹکڑوں کی ترسیل کے پس منظر پر کئی سوالات اٹھ رہے ہیں، جبکہ مسلم دنیا میں سعودی حکام سے مکمل اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئیے


