فرانس کے صدر ایمانول میکرون کہا ہے کہ ان کی شادی کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تبصرے “نہ شائستہ ہیں اور نہ ہی معیار کے مطابق”،واضع رہے کہ امریکی صدر Donald Trump نے واشنگٹن میں ایک نجی ظہرانے کے دوران فرانسیسی صدر اور ان کی اہلیہ کا مذاق اڑاتے ہوئے لہجہ بھی نقل کیا۔
جمعرات کو جنوبی کوریا پہنچنے پر میکرون Emmanuel Macron نے واضح کیا کہ وہ ٹرمپ کے بیانات سے خوش نہیں ہیں۔ یہ بیانات وائٹ ہاؤس کے یوٹیوب چینل پر ایک ویڈیو میں مختصر وقت کے لیے سامنے آئے تھے، جسے بعد میں ہٹا دیا گیا۔

میکرون نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، “میں ان کا جواب نہیں دوں گا – وہ جواب کے قابل نہیں ہیں۔”
فرانس میں اس بیان پر غم و غصہ پایا جا رہا ہے، جہاں ٹرمپ نے بدھ کے روز ایک ظہرانے میں، جس میں مذہبی رہنما اور حکومتی شخصیات بھی شریک تھیں، میکرون اور ان کی اہلیہ کا مذاق اڑایا۔ اسی دوران انہوں نے نیٹو اتحادیوں کو ایران کے خلاف جنگ میں شامل نہ ہونے پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔
ٹرمپ کا بیان
فرانسیسی لہجے کی نقل کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ میکرون کی اہلیہ Brigitte Macron “ان کے ساتھ بہت برا سلوک کرتی ہیں۔” ایران کے معاملے پر فرانس سے مدد طلب کرنے کا ذکر کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا: “ہمیں ان کی ضرورت نہیں تھی، لیکن میں نے پھر بھی پوچھا۔”
انہوں نے مزید کہا: “میں نے فرانس کو فون کیا، میکرون کو – جن کی بیوی ان کے ساتھ بہت برا سلوک کرتی ہیں۔ ابھی تک جبڑے پر لگنے والے وار سے سنبھل رہے ہیں۔”
فرانس کے صدر سے سوال ہوا ٹرمپ نے کہا آپ کو بیگم مارتی ہے
اس نے جواب دیا کہ ٹرمپ بہت بک بک کرتا ہے اسی بات کرنے کی تمیز نہی ہے
ایک پاپوکسٹ کو بنانے کا یہی نقصان ہوتا کہ دنیا بھر میں ملک تماشہ بن جاتا ہے pic.twitter.com/nrD2xy11sF— RAShahzaddk (@RShahzaddk) April 2, 2026
ٹرمپ بظاہر مئی 2025 کی ایک ویڈیو کا حوالہ دے رہے تھے، جس میں ایسا لگتا تھا کہ بریجیت میکرون نے ویتنام کے سرکاری دورے کے دوران طیارے سے اترنے سے پہلے اپنے شوہر کے چہرے کو دھکا دیا۔
یہ ویڈیو Associated Press کے کیمرہ آپریٹر نے بنائی تھی، جس میں میکرون طیارے کے دروازے پر نظر آتے ہیں اور ان کی اہلیہ کا ہاتھ انہیں پیچھے کی طرف دھکیلتا ہوا دکھائی دیتا ہے، جس کے بعد وہ سنبھل کر ہاتھ ہلاتے ہیں۔ اس وقت میکرون نے کسی بھی “گھریلو تنازع” کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ “ہمیشہ کی طرح مذاق کر رہے تھے۔”
ٹرمپ نے میکرون بارئے طنزیہ بیان کیوں دیا
ظہرانے کے دوران ٹرمپ نے مزید کہا: “میں نے کہا، ایمانوئل، ہمیں خلیج میں کچھ مدد چاہیے، حالانکہ ہم دہشت گردوں اور بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کرنے میں ریکارڈ قائم کر رہے ہیں۔ اگر ممکن ہو تو فوراً جہاز بھیج دیں۔”
اس کے بعد ٹرمپ نے فرانسیسی لہجے میں میکرون کے مبینہ جواب کی نقل کرتے ہوئے کہا: “‘نہیں، نہیں، ہم ایسا نہیں کر سکتے، ڈونلڈ۔ ہم جنگ ختم ہونے کے بعد مدد کریں گے۔’”
ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے جواب دیا: “مجھے جنگ کے بعد مدد نہیں چاہیے، ایمانوئل۔”
انہوں نے مزید کہا: “میں نے نیٹو کے بارے میں یہ سیکھا ہے کہ اگر کبھی بڑا بحران آیا، تو نیٹو وہاں نہیں ہوگا، آپ سمجھ رہے ہیں میں کس کی بات کر رہا ہوں۔”
فرانس میں سیاستدانوں نے ٹرمپ کے ان بیانات پر شدید ردعمل دیا۔ فرانسیسی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں کی اسپیکر Yaël Braun-Pivet نے کہا: “یہ واقعی معیار کے مطابق نہیں ہے۔”
انہوں نے کہا: “ہم اس وقت دنیا کے مستقبل پر بات کر رہے ہیں، ایران میں لاکھوں لوگوں کی زندگیاں متاثر ہو رہی ہیں، لوگ جنگ میں مر رہے ہیں، اور ہمارے پاس ایک صدر ہے جو ہنس رہا ہے اور دوسروں کا مذاق اڑا رہا ہے۔”
بائیں بازو کی جماعت لا فرانس انسومیز کے رہنما Manuel Bompard نے بھی میکرون کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا: “میرے صدر سے اختلافات اپنی جگہ، لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کا اس انداز میں بات کرنا اور ان کی اہلیہ کے بارے میں ایسے الفاظ استعمال کرنا بالکل ناقابل قبول ہے۔”
فرانسیسی اخبار Le Figaro نے اسے “ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک اور متنازع بیان” قرار دیا۔
یہ بھی پڑھئِں


