اردوEnglish
منگل, 20 اکتوبر 2026
  • Home  
  • ملتان میں 15 سالہ بچے کا قتل:ملزم کا ڈی این اے ٹیسٹ کرلیا گیا
- وائرل نیوز

ملتان میں 15 سالہ بچے کا قتل:ملزم کا ڈی این اے ٹیسٹ کرلیا گیا

ملتان میں 15 سالہ یتیم بچے وسیم عباس کو گاڑی سے کچل کر ہلاک کرنے کے کیس میں پولیس نے مرکزی ملزم توقیر نذیر کا ڈی این اے ٹیسٹ کرالیا ہے۔ واقعے میں زیادتی کا شبہ سامنے آنے پر نمونہ حاصل کیا گیا، تاہم رپورٹ کا انتظار ہے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں بچے کو بھاگتے اور گاڑی کو اس کا تعاقب کرتے دیکھا گیا تھا۔

ملتان میں 15 سالہ بچے وسیم عباس کو گاڑی سے کچل کر ہلاک کرنے کے واقعے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے پولیس نے گرفتار ملزم توقیر نذیر کا ڈی این اے ٹیسٹ کرالیا ہے۔

20 اکتوبر 2026 کو ملزم کا ڈی این اے نمونہ نشتر اسپتال میں حاصل کیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے میں زیادتی کا شبہ سامنے آنے پر یہ اقدام کیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق ڈی این اے رپورٹ موصول ہونے کے بعد کیس کے اس پہلو کا مزید جائزہ لیا جائے گا۔ ضرورت پڑنے پر مقدمے میں مزید دفعات بھی شامل کی جاسکتی ہیں۔ تاحال رپورٹ کا حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا، اس لیے زیادتی کے شبہے کی تصدیق نہیں ہوئی۔

15 سالہ وسیم عباس کون تھا؟

وسیم عباس کا تعلق ضلع مظفرگڑھ سے تھا اور وہ ملتان کے ایک یتیم خانے میں رہتا تھا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اسے الیکٹریشن کا کام سیکھنے کے لیے ٹھیکیدار توقیر نذیر کے پاس بھیجا گیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق وسیم کے والد کا انتقال ہوچکا تھا، جبکہ اس کی والدہ نے دوسری شادی کرلی تھی۔ کم عمری میں پیش آنے والے اس واقعے نے بچوں کے تحفظ اور ان کی نگرانی سے متعلق سوالات بھی اٹھا دیے ہیں۔

گاڑی سے کچلنے کا واقعہ کیسے پیش آیا؟

پولیس کے مطابق واقعہ ملتان کی نجی ہاؤسنگ سوسائٹی رائل آرچرڈ میں پیش آیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق وسیم کے کام چھوڑ کر جانے کے بعد اس کا تعاقب کیا گیا۔

میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ٹھیکیدار توقیر نذیر گاڑی میں سوار تھا جبکہ امجد علی بھی اس کے ساتھ موجود تھا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں بچے کو بھاگتے اور گاڑی کو اس کا تعاقب کرتے دیکھا گیا۔

رپورٹس کے مطابق گاڑی کی ٹکر کے بعد وسیم ایک گھر کے گیٹ سے جا ٹکرایا اور اس کی موت ہوگئی۔ پولیس نے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے نشتر اسپتال منتقل کیا۔

سی سی ٹی وی فوٹیج میں اہم مناظر

واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آنے کے بعد کیس نے توجہ حاصل کی۔ فوٹیج میں بچے کو گاڑی سے بچنے کے لیے بھاگتے ہوئے دیکھا گیا، جبکہ گاڑی اس کے پیچھے آتی دکھائی دیتی ہے۔

پولیس کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق بچے پر چوری کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ فوٹیج، عینی شاہدین کے بیانات اور دیگر شواہد کی بنیاد پر واقعے کے حالات کا جائزہ لیا جارہا ہے۔

مرکزی ملزم گرفتار، دوسرے ملزم کی تلاش

پولیس نے واقعے کے بعد کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم توقیر نذیر کو گرفتار کرلیا۔ مقدمے میں امجد علی کا نام بھی سامنے آیا ہے، جس کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جانے کی اطلاعات ہیں۔

پولیس نے قتل کا مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہیں۔ ملزمان کے کردار اور واقعے کی مکمل وجوہات کا تعین تفتیش اور عدالتی کارروائی کے ذریعے ہوگا۔

ملزم کا مؤقف کیا ہے؟

میڈیا رپورٹس کے مطابق توقیر نذیر نے ابتدائی بیان میں دعویٰ کیا کہ وہ بچے کو روکنا چاہتا تھا اور گاڑی پھسلنے کے باعث اسے قابو نہیں کرسکا۔

تاہم سی سی ٹی وی فوٹیج میں گاڑی کو بچے کا تعاقب کرتے دیکھا گیا ہے۔ ملزم کے بیان اور دیگر شواہد کا جائزہ لینا تفتیش کا حصہ ہے۔ ملزم کا مؤقف بذات خود واقعے کی قانونی حیثیت کا حتمی تعین نہیں کرتا۔

زیادتی کے شبہے پر ڈی این اے ٹیسٹ

پولیس نے زیادتی کے شبہے کے پیش نظر ملزم کا ڈی این اے نمونہ حاصل کیا ہے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ رپورٹ آنے کے بعد اس پہلو کی مزید تحقیقات کی جائیں گی۔ اگر شواہد کی بنیاد پر ضرورت ہوئی تو مقدمے میں اضافی دفعات شامل کی جاسکتی ہیں۔

تاحال ڈی این اے رپورٹ کے نتائج سامنے نہیں آئے، اس لیے زیادتی کو ثابت شدہ حقیقت قرار نہیں دیا جاسکتا۔

عدالت میں پیشی اور جسمانی ریمانڈ

میڈیا رپورٹس کے مطابق گرفتار ملزم کو عدالت میں پیش کیا گیا اور تفتیش کے لیے جسمانی ریمانڈ حاصل کیا گیا۔ بعض رپورٹوں میں چار روزہ جسمانی ریمانڈ کی منظوری کا ذکر کیا گیا ہے۔

جسمانی ریمانڈ پولیس کو تفتیش کے لیے وقت فراہم کرتا ہے، تاہم اس کا مطلب جرم ثابت ہونا نہیں۔ مقدمے کا فیصلہ شواہد اور قانونی کارروائی کی بنیاد پر عدالت کرے گی۔

بچوں کے تحفظ اور یتیم خانے کی ذمہ داری پر سوالات

وسیم عباس کی موت کے بعد یہ سوال بھی اٹھایا جارہا ہے کہ کم عمر بچے کو کام سیکھنے کے لیے بھیجتے وقت اس کی حفاظت اور نگرانی کے کیا انتظامات کیے گئے تھے۔

چائلڈ پروٹیکشن حکام کی جانب سے واقعے پر کارروائی اور ذمہ داری کے تعین کا مطالبہ بھی سامنے آیا ہے۔ یتیم خانے کے انتظامات اور متعلقہ افراد کی ذمہ داری کا تعین باقاعدہ تحقیقات کے بعد ہی کیا جاسکتا ہے۔

اب تک کیس کی صورت حال

20 اکتوبر 2026 تک دستیاب اطلاعات کے مطابق مرکزی ملزم توقیر نذیر گرفتار ہے، دوسرے ملزم امجد علی کی گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہونے کی اطلاع ہے اور پولیس نے ڈی این اے ٹیسٹ کرالیا ہے۔ حتمی رپورٹ کا انتظار ہے جبکہ مقدمے کا عدالتی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔

وسیم عباس کی موت نے کم عمر بچوں کے تحفظ اور ان کے حقوق سے متعلق اہم سوالات پیدا کیے ہیں۔ کیس میں شفاف تحقیقات، فرانزک شواہد کا جائزہ اور تمام ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہی انصاف کی فراہمی کے لیے اہم ہوگی۔

urdureport.com@2025. All Rights Reserved

Your license hasn’t been activated yet. Activate it now!