اسلام آباد: پمز اسپتال کے بچوں کے آئی سی یو میں آتشزدگی کے المناک واقعے کے بعد وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے اپنا استعفیٰ وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کردیا، تاہم حتمی فیصلہ تحقیقاتی اور فرانزک رپورٹ آنے کے بعد کیے جانے کا امکان ہے۔
وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ مصطفیٰ کمال نے خود کو احتساب کے لیے پیش کیا ہے۔ ان کے مطابق وزیراعظم نے واقعے کی مکمل تحقیقات کا حکم دے رکھا ہے اور حکومت رپورٹ سامنے آنے سے قبل کسی فرد کے خلاف حتمی کارروائی نہیں کرنا چاہتی۔
مصطفیٰ کمال کا صحت کے نظام پر سخت مؤقف
قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے ملک کے صحت کے نظام پر بات کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ صرف کسی ایک وزیر یا افسر کو ہٹانے سے حل نہیں ہوگا۔
مصطفیٰ کمال نے کہا:
"ہر آدمی کہتا ہے کہ اُس کا چور ہٹا کر میرا چور لگا دو، یہ نظام گل سڑ گیا ہے۔ کسی بُرے کو ہٹا کر اچھا کہاں سے لاؤں میں؟ دو بُروں میں آپ کو فیصلہ کرنا ہے کہ کم بُرے والے کو لگانا ہے یا زیادہ برے والے کو لگانا ہے۔”
انہوں نے بچوں کی اموات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اور روزانہ بڑی تعداد میں بچے جان سے محروم ہورہے ہیں۔
وزیر صحت کا کہنا تھا کہ "ابھی آج شام ختم ہوگی ناں تو 1300 بچے مر چکے ہوں گے”، جس کے ذریعے انہوں نے بچوں کی شرح اموات کی سنگینی کی جانب توجہ دلائی۔
پمز آتشزدگی میں 14 نومولود جاں بحق
پمز اسپتال کے بچوں کے آئی سی یو میں آتشزدگی کے واقعے میں 14 نومولود بچے جاں بحق ہوئے تھے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق آگ تیزی سے پھیلی اور بیشتر بچوں کی موت دھوئیں کے باعث دم گھٹنے سے ہوئی۔
واقعے کے بعد فرانزک ماہرین سمیت متعلقہ اداروں نے تحقیقات شروع کردی ہیں۔ اسپتال کے حفاظتی انتظامات، ہنگامی اخراج کے راستوں اور عملے کی موجودگی سمیت مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے مکمل تحقیقات کا حکم دیا تھا۔
بچوں اور ماؤں کی اموات پر تشویش
قومی اسمبلی میں گفتگو کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان میں ہر سال تقریباً 4 لاکھ بچے ایک سے پانچ سال کی عمر کے دوران جان سے محروم ہوجاتے ہیں، جبکہ روزانہ تقریباً 1300 بچوں کی اموات ہوتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان میں بڑی تعداد ایسی اموات کی ہے جنہیں بہتر طبی سہولیات، بروقت علاج اور مؤثر اقدامات کے ذریعے روکا جاسکتا ہے۔
وزیر صحت نے دورانِ حمل اور زچگی سے متعلق پیچیدگیوں کے باعث ماؤں کی اموات پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ہر سال تقریباً 11 ہزار مائیں جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ جاں بحق ہونے والے بچوں کو واپس نہیں لایا جاسکتا، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ نظام میں ایسی اصلاحات کیسے کی جائیں جن سے مستقبل میں کسی اور بچے کی جان بچائی جاسکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پمز کا واقعہ صرف ایک اسپتال کا معاملہ نہیں بلکہ صحت کے پورے نظام کی کارکردگی، انتظامی نگرانی اور ہنگامی سہولیات پر سوال اٹھاتا ہے۔
حکومت کے مطابق فرانزک اور تحقیقاتی رپورٹ سامنے آنے کے بعد غفلت کے ذمہ دار افراد کا تعین کیا جائے گا اور ثابت ہونے والی کوتاہی پر قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔


