اردو رپورٹ ڈیسک
راولپنڈی/اسلام آباد: پاکستان محکمہ موسمیات (PMD) نے شدید بارشوں کے باعث اسلام آباد، راولپنڈی، مردان، صوابی، پشاور، نوشہرہ، گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ اور لاہور کے نشیبی علاقوں میں شہری سیلاب (Urban Flooding) کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق آج رات اور 20 اگست کے دوران ان علاقوں میں شدید بارش کے باعث نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے اور شہری سیلاب کا خدشہ ہے۔
پی ایم ڈی نے اسلام آباد اور راولپنڈی کے مقامی نالوں سمیت کشمیر، مری اور گلیات میں اچانک سیلاب (Flash Flooding) کا بھی امکان ظاہر کیا ہے۔ مزید برآں خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان، مری، گلیات اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بھی موجود ہے۔
پاکستان محکمہ موسمیات (PMD) کا آفیشل موسمیاتی الرٹ
محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے بالائی علاقوں میں مون سون ہوائیں داخل ہو رہی ہیں جبکہ ایک مغربی ہوا کا نظام بھی بالائی علاقوں کو متاثر کر رہا ہے۔ اس کے باعث بدھ اور جمعرات کے دوران اسلام آباد، پوٹھوہار ریجن، شمال مشرقی پنجاب، کشمیر، بالائی و وسطی خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں تیز ہواؤں، گرج چمک اور موسلادھار بارش کا امکان ہے۔
ملک کے دیگر علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
گزشتہ 24 گھنٹوں میں شدید بارش
پی ایم ڈی کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران راولپنڈی، اسلام آباد، پوٹھوہار ریجن، شمال مشرقی پنجاب، بالائی خیبرپختونخوا اور کشمیر میں وسیع پیمانے پر بارش ریکارڈ کی گئی۔
راولپنڈی میں کچہری کے مقام پر 147 ملی میٹر، شمس آباد میں 127 ملی میٹر، پیروڈھائی میں 123 ملی میٹر جبکہ نیو کٹاریاں میں 121 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی۔
اسلام آباد میں بوکڑہ میں 104 ملی میٹر، گولڑہ میں 100 ملی میٹر اور زیرو پوائنٹ پر 99 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
لاہور ایئرپورٹ پر 55 ملی میٹر جبکہ گوجرانوالہ میں 39 ملی میٹر بارش ہوئی۔ نوکنڈی میں ملک کا سب سے زیادہ درجہ حرارت 46 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
نالہ لئی میں طغیانی، انخلا کا الرٹ جاری
راولپنڈی اور اسلام آباد میں منگل اور بدھ کی درمیانی شب سے جاری موسلادھار بارش کے باعث نالہ لئی میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہوگئی ہے۔
فلڈ کنٹرول روم کے مطابق کٹاریاں پل کے مقام پر نالہ لئی میں پانی کی سطح 21.5 فٹ تک پہنچ گئی، جبکہ گوالمنڈی میں پانی کی سطح 16 فٹ ریکارڈ کی گئی۔
نشیبی علاقوں میں خطرے کے سائرن بجا دیے گئے ہیں۔ کٹاریاں کے اطراف الرٹ جبکہ گوالمنڈی میں پری الرٹ جاری کیا گیا ہے۔
حساس اور نشیبی علاقوں کے رہائشیوں کو صورتحال مزید خراب ہونے کی صورت میں محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اسلام آباد ٹریفک پولیس نے بھی شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ شدید بارش اور کم حدِ نگاہ کے دوران گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کی رفتار کم رکھیں، مناسب فاصلہ برقرار رکھیں اور فوگ لائٹس کا استعمال کریں۔
سوشل میڈیا پر سیلابی صورتحال کی ویڈیوز وائرل
راولپنڈی اور اسلام آباد میں نالہ لئی میں طغیانی، سڑکوں پر جمع پانی اور ٹریفک جام کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر تیزی سے شیئر کی جا رہی ہیں۔
راولپنڈی میں شدید بارش اور سیلابی صورتحال کی تفصیلات
شہریوں کی جانب سے کٹاریاں اور گوالمنڈی سمیت حساس علاقوں کے رہائشیوں سے صورتحال بگڑنے کی صورت میں فوری انخلا کی اپیل کی جا رہی ہے۔ ریسکیو اداروں، ہنگامی رابطہ نمبرز اور امدادی کیمپوں سے متعلق معلومات بھی سوشل میڈیا پر شیئر کی جا رہی ہیں۔
مون سون کے سابقہ اسپیلز کے دوران بھی راولپنڈی کے ان علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہونے اور گھروں میں پانی داخل ہونے کے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔ بار بار پیدا ہونے والی صورتحال کے باعث شہری نکاسیِ آب کے انتظامات پر بھی سوالات اٹھا رہے ہیں۔
دریاؤں اور ڈیموں کی صورتحال
پاکستان محکمہ موسمیات اور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) کے مطابق 21 اگست تک دریائے راوی اور دریائے چناب سے منسلک برساتی نالوں میں کم سے درمیانے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے۔
دریائے سندھ میں کالاباغ، چشمہ، تونسہ اور گڈو کے مقامات پر پہلے ہی کم درجے کا سیلاب جاری ہے۔
تربیلا ڈیم اپنی مکمل ذخیرہ کرنے کی گنجائش تک بھر چکا ہے، جبکہ منگلا ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی شرح تقریباً 69 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
متعلقہ ادارے صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں اور شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے، نشیبی علاقوں سے دور رہنے اور شدید بارش یا ممکنہ سیلاب کی صورت میں احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔


