اردو رپورٹ ڈیسک
جنوبی افریقہ کی معروف جج ناوانتھیم ناوی پلّے کو بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق کے تحفظ اور امن کے فروغ کے لیے خدمات کے اعتراف میں 2026 کے نوبیل امن انعام کا فاتح قرار دیا گیا ہے۔
ناروے کی نوبیل کمیٹی نے جمعہ 9 اکتوبر کو انعام کے لیے ناوی پلّے کے نام کا اعلان کیا۔ کمیٹی نے انسانی حقوق کے دفاع اور بین الاقوامی انصاف کے قیام کے لیے ان کی طویل جدوجہد کو سراہا۔
انسانی حقوق کے لیے جدوجہد
ناوی پلّے نے اپنے ابتدائی قانونی کیریئر میں نیلسن منڈیلا اور نسلی امتیاز کے خلاف جدوجہد کرنے والے دیگر کارکنوں کا دفاع کیا۔ بعد ازاں انہوں نے بین الاقوامی عدالتوں میں جج کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور اپنے دور کے اہم بین الاقوامی مقدمات میں کردار ادا کیا۔
نوبیل کمیٹی کے مطابق، امن اور بین الاقوامی قانون کے فروغ کے لیے ان کی کوششیں اس اعزاز کی بنیادی وجہ ہیں۔ ان کا پیشہ ورانہ سفر ظاہر کرتا ہے کہ قانونی جدوجہد انسانی حقوق کے تحفظ، انصاف کے قیام اور عالمی امن کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن کی سربراہی
ناوی پلّے نے مقبوضہ فلس*طینی علاقے سے متعلق اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن کی سربراہی بھی کی۔ کمیشن نے گزشتہ سال اپنی رپورٹ میں نتیجہ اخذ کیا تھا کہ اسرا*ئیل نے غ*زہ میں نسل کشی کی ہے۔ تاہم اسر*ائیل نے اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے شرمناک قرار دیا تھا۔
نوبیل کمیٹی نے ناوی پلّے کی جانب سے ریاستوں اور قومی رہنماؤں کو جواب دہ ٹھہرانے کی کوششوں کو بھی نمایاں کیا۔ کمیٹی کے مطابق، انہوں نے تشدد اور تنازعات سے متاثرہ افراد کے لیے امید پیدا کی اور اپنے طویل کیریئر کے دوران مضبوط اخلاقی اصولوں کی پاسداری کی۔
اس ہفتے پانچویں نوبیل انعام کا اعلان
2026 کا نوبیل امن انعام رواں ہفتے اعلان کیے جانے والا پانچواں نوبیل انعام ہے۔ اس سے قبل ادب، کیمیا، طبیعیات اور طب کے شعبوں میں انعام یافتگان کے ناموں کا اعلان کیا جا چکا ہے۔
نوبیل امن انعام کی مالیت 12 ملین سویڈش کراؤن، یعنی تقریباً 12 لاکھ امریکی ڈالر ہے۔ انعام دینے کی تقریب 10 دسمبر کو ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں منعقد ہوگی۔
شہباز شریف کی ٹرمپ کی امن کوششوں کی حمایت
ناوی پلّے کو نوبیل امن انعام ملنے کے اعلان کے بعد پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جنوبی ایشیا میں امن کے لیے کوششوں کو سراہا۔
سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں شہباز شریف نے مئی 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کرانے کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان نے امریکی صدر کو 2026 کے نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کیا تھا۔
وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ جنوبی ایشیا میں امن کے فروغ کے لیے امریکی صدر کی کوششوں کو بھی تسلیم کیا جائے گا۔
ٹرمپ مسلسل دوسری بار محروم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گزشتہ دو برس سے نوبیل امن انعام حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے رہے ہیں، تاہم گزشتہ سال کی طرح اس مرتبہ بھی انہیں یہ اعزاز نہیں ملا۔
پاکستان سمیت کئی دیگر ممالک نے بھی ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کرنے کی حمایت کی تھی۔
واضح رہے کہ 2025 کا نوبیل امن انعام وینزویلا کی حزب اختلاف کی رہنما ماریا کورینا ماچاڈو کو دیا گیا تھا۔
مزید پڑھئِے
ماریاماچاڈو نےمجھے فون کیا شاید وہ نوبیل انعام مجھے دینا چاہتی تھیں۔ٹرمپ – urdureport.com
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو امن کا نوبیل انعام مل گیا ۔ – urdureport.com
نوبیل انعام کا آغاز کیوں ہوا جس کی خواہش طاقتور امریکی صدر بھی رکھتے ہیں۔ – urdureport.com


